Daily Mashriq

حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کی اجازت دے دی

حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کی اجازت دے دی

حکومت نے مقامی منڈی میں ٹماٹر کے ہوش ربا اضافےکے پیش نظر ایران سے ٹماٹر درآمد کی اجازت دے دی۔

ایران سے ایک مہینے کے لیے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔

مذکورہ فیصلہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی (ایم این ایف ایس)، درآمد کنندگان ، وزارت تجارت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔

ایم این ایف ایس کے وفاقی سکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے ملاقات کے بعد  بتایا 'ہاں ، ہم نے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے'۔

فیصلے کے مطابق درآمد کنندگان کو گھریلو مارکیٹ میں فروخت کے لیے تین سے چار ہفتوں تک ایران سے ٹماٹر خریدنے کی اجازت ہوگی۔

اگرچہ حکومت نے خریداری کے لیے کوٹے کی وضاحت نہیں کی تاہم ٹماٹر درآمدات کے لیے 13 دسمبر کی ڈیڈ لائن طے کی ہے۔

دوسری جانب حکومت کو یقین ہے کہ سندھ سے اگلے دو سے تین ہفتوں میں ٹماٹر اور پیاز کی نئی فصل مارکیٹ میں آجائے گی۔ اس دوران ایران سے درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پُر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

توقع ہے کہ اگلے چار دن میں ٹماٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔

پاکستان کی جانب سے تفتان بارڈر پر ٹماٹروں کی ترسیل کے لیے ایران کا محکمہ سرٹیفکیٹ پیش کرےگا۔

دوسری طرف حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر چھوٹ نہیں دی۔

اس ٹیکس کے اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 2 روپے فی کلو ہے تاہم ٹماٹر کی درآمد کسٹم یا سیلز ٹیکس کے تابع نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے 3 اہم ترین سبزیوں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ کا فیصلہ کیا جانا ہے۔

متعلقہ خبریں