Daily Mashriq

امریکی کانگریس میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر موضوعِ بحث

امریکی کانگریس میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر موضوعِ بحث

سینیٹر وین ہولین نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

واشنگٹن: مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے بھارتی اقدام کے اثرات کا جائزہ لینے والی امریکی کانگریس کی کمیٹی ہاؤس آف فارن افیئرز کے چیئرمین ایلوئٹ ایک اینجل نے کہا ہے کہ ہمیں کشمیر کے حوالے سے تحفظات ہیں اور ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں‘۔

 کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کا انسانی حقوق کمیشن بھی جمعرات کے روز ایک سماعت کرے گی جس میں ’بھارت کے تاریخی اور قومی تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ‘ لیا جائے گا۔

تاہم یہ اقدام رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال کے نزدیک ناکافی ہے جو چاہتی ہیں کہ کانگریس کی قرارداد کے ذریعے کشمیر کی پالیسیز پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے بھارت کو واضح پیغام دیا جائے۔

خیال رہے کہ پرمیلا جے پال امریکی ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہونے والی پہلی بھارتی نژاد خاتون رکن ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور قانون ساز سینیٹر کرس وین ہولین نے سینیٹ کے بل میں کی جانے والی ترمیم کی حمایت کی جس میں مقبوضہ کشمیر پر عائد پابندیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

میری لینڈ کے اسلامک سینٹر میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بھارت حکومت پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے لیے ’انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پیروی اور جمہوری آزادی کی پاسداری کرے‘۔

گزشتہ دنوں بھارت، پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرنے والے سینیٹر وین ہولین نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ مسئلہ کمشیر اور مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کو آشکار کرنے کے لیے کانگریس کمیشن کی جمعرات کو ہونے والی سماعت اتنی ہی اہم ہے جتنی کشمیر کے معاملے پر ’بھارت کو واضح پیغام دینے‘ کی قرارداد کے لیے رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال کی کوشش۔

ان کی اس کاوش پر بھارت کے بڑے اخبار دی اکنامک ٹائمز نے ان کی اس کوشش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا موازنہ کانگریس کے ریپبلکن رکن ڈین برٹن سے کیا جو کشمیر اور پنجاب کے معاملےپر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

 پرمیلا جے پال کا اقدام بھارت کو پشیمانی سے دوچار کرسکتا ہے جس طرح گزشتہ ماہ رکنِ کانگریس الہٰان عمر نے جنوبی ایشیا کی سماعت کے دوران مقبوضہ کشمیر پر نئی دہلی کے دعوے کو کھلے عام چیلنج کر کے کیا تھا۔

ٹام لینٹوز کمیشن کی جانب سے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس پر مزید توجہ مبذول ہوئی ہے۔

مذکورہ بیان میں خطے میں فوجی اہلکاروں کی تعداد میں اضافے کے معاشی اور سماجی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں