Daily Mashriq

ایمرجنسی زرعی پروگرام کا منصوبہ

ایمرجنسی زرعی پروگرام کا منصوبہ

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کا قبائلی ضلع باجوڑ میں پرائم منسٹر نیشنل ایگری کلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت مرغ بانی سمیت پانچ منصوبوںکا افتتاح پسماندہ اور قبائلی علاقوں میں مقامی وسائل کو ترقی دے کر اور وہاں کے لوگوں کے مزاج اور دلچسپی کے مطابق منصوبوں کے ذریعے ان کی معاشی حالت میں بہتری لانے کی سعی ہے یہ نافع پروگرام قدرے طویل اور صبر آزما ضرور ہے لیکن ایک مرتبہ اس پروگرام کا ایک چکر مکمل ہو جائے تو یہ دیہی معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام کو صحت بخش خوراک کے حصول کا بھی بہتر ذریعہ ثابت ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت قبائلی اضلاع سمیت ملک بھر میں ڈیمز کی تعمیر، فش فارمنگ، انڈوں کی تقسیم اور دوسرے مختلف منصوبوں کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے۔پروگرام کے تحت16لاکھ سے زیادہ خاندانوں میں10لاکھ اچھی نسل کی مرغیاں تقسیم کی جائیں گی اور ضلع باجوڑ میں اب تک ایک کروڑ جنگلی زیتونوں میں سے دو لاکھ پودوں کی پیوندکاری اور مزید پیوندکاری کے منصوبے مستقل آمدن کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ان منصوبوں میں گھریلو مرغ بانی، کسانوں میں مختلف بیجوں کی تقسیم، دیہی علاقوں میں زیتون سے تیل نکالنے کی سہولت کی فراہمی، زیتون کی شجرکاری کا آغاز، دودھ کے کاروبار سے منسلک افراد میں دودھ ٹھنڈا کرنے والے چلرز کی تقسیم اور محکمہ لائیو سٹاک کے اہلکاروں میں موٹرسائیکلوں کی تقسیم کے منصوبے شامل ہیں۔نیشنل زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت مختلف علاقوں میں پانی کومحفوظ کرنے کے پروگرام کے تحت13ہزار سے زائد واٹرسٹوریج ٹینک بھی بنائے جائیں گے۔جس سے آبنوشی وآبپاشی کے مسائل میںخاطر خواہ کمی آئے گی اس کے ساتھ ساتھ پانی کے تالاب، چیک ڈیمز، واٹر ریزوائر، ایریگیشن سکیمزاورکاشت کاری کے نظام کو ممکنہ طور پر شمسی توانائی پرلانے جیسے منصوبوںکی تکمیل انقلابی اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں۔علاوہ ازیںکیج فش فارمنگ،شمالی علاقہ جات میں ٹرائوٹ فارمنگ لائیو سٹاک کی ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد سے مقامی سطح پر کاروبار اور روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دیہی معیشت اور کم آمدن یا پھر آمدنی سے بالکل محروم افراد کے مسائل کے حل کیلئے حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ جن اقدامات کو متعارف کرایا ہے اس کو کامیاب بنانا اتنا مشکل نہیں قومی زرعی پروگرام کے مجوزہ منصوبے باجوڑ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں متعارف کرانے کی جو منصوبہ بندی کی گئی ہے اس طرح کا پروگرام صوبے کے شہری علاقوں کو چھوڑ کر مضافات اور بیشتر اضلاع میں شروع کیا جائے تو وہاں کے عوام کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا۔زراعت لائیو سٹاک،ماہی پروری کے ساتھ ساتھ باغات لگانے ،پھلوں کی پیکنگ اور ان کی محفوظ طریقے سے منتقلی اور زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے انتظامات پر بھی غور کی ضرورت ہے اسی طرح پھلوں سے مختلف مصنوعات کی تیاری کے مواقع بھی قابل عمل منصوبے ہو سکتے ہیں ۔حکومت کو ان انتظامات کیلئے جہاں اپنے حصے کی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے وہاں لوگوں کی تربیت کر کے اور ان کو قرضوں کی فراہمی سے بھی ترقی ممکن ہے جنگلی درختوں کی پیوند کاری کے ذریعے زیتون کے تیار باغات اور پھل کا حصول جہاں سرکاری طور پر احسن منصوبہ ہے وہاں مقامی افراد کو پیوند کاری کی تربیت اور ضروری سامان اور زیتون کی چھال ،پتے اور شاخوں کی فراہمی بھی بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں