Daily Mashriq

عالمی سطح پر دھرنا سیاست کا رجحان

عالمی سطح پر دھرنا سیاست کا رجحان

جمعیت علماء اسلام کے دھرنے اور وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے لیے ان کی دھمکیوں نے جمعیت کے مقاصد، عزائم اور اثر انگیزی کے حوالے سے لبرلز تک کی آراء کو تقسیم کر دیا ہے ۔کچھ کا خیال ہے کہ یہ سول بالادستی کا موجب بنے گی اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کے خلاف ہیں کہ یہاں مذہبی کارڈ اور ممکنہ طورپر پر تشدد کارروائیاں شروع ہونے کاشبہ ہے ۔

ہم اس دھرنے کا تجزیہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے ماضی کے دھرنوں یا عوامی احتجاجوں کی روشنی میں کر سکتے ہیں۔ چند دہائیوں سے آمر یت یا استبدادی حکومتوں کے خاتمے کے لیے مسلح انقلابوں کی جگہ ایسے پر ہجوم دھرنوں نے لے لی ہے جو کئی کئی ماہ تک شہر بند رکھنے پر قادر ہوتے ہیں۔ ان احتجاجوں کے نتیجے میں صرف حکومتیں ہی گھر نہیں گئیں بلکہ کئی جگہ انقلاب کی صورت میں نظام حکومت بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ دھرنے اور احتجاج بھی اب انقلاب کا ذریعہ بننے لگے ہیں البتہ ایسے انقلابوں سے طرز حکمرانی میں فوری بہتری کی امید رکھنا غلط ہے۔ فرانس اور امریکہ میں انقلاب کے ذریعے جمہوریت آنے کے بعد بھی انہیںاپنا طرز حکومت بہتر کرنے میں صدیاںلگ گئیں۔

مختصر دورانیے کے دھرنے دنیا میں کئی استبدادی حکومتوں کا تختہ اُلٹ چکے ہیں۔ ان دھڑن تختوں کا زیادہ سہرا طاقتور ہوتے ذرائع ابلاغ، استبدادی حکومتوں کے خلاف کم ہوتی برادشت اورعالمی معاشی تعلقات کو جاتا ہے۔ مگر ایک ایسا نظام حکومت جس کی معاشی برتری اور عسکری طاقت ان تمام چیزوں کو شکست دے چکی ہے وہ چین ہے کہ جہاں اب تک یہ نظام چل رہا ہے۔ تاریخ میں ہونے والے کامیاب ترین دھرنوں کے نتیجے میں وہاں کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہونے کے کئی شواہد موجود ہیں۔ 1979میں ایران اور1989میں مشرقی یورپ میں ہونے والے احتجاج اس کی مثال ہیں۔ مشرقی یورپ میں اس کے بعد طرز حکمرانی میں بہتری تو آئی مگر یہ مغربی یورپ کے معیار تک نہ پہنچ سکا جو معاشرتی اصلاحی تحریکوں کے بعد خاصا بلند ہو چکا تھا۔

مصر میں بھی عوامی احتجاج نے حسنی مبارک کو تخت سے اتار کر وہاں جمہوریت لانا چاہی مگر وہ حکمران سے تو چھٹکارا پا گئے مگر وہاں کے حکومتی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ آسکی۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں انقلاب کے بعد بھی جلد ہی نوزائیدہ جمہوریت کا پتا صاف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی ایسے احتجاج ہیں جنہوں نے ایک کمزور حکومت کو دوسرے سے بدلانے کے سوا کچھ کیااورنہ ہی انہیں اپنے ضبط شدہ انسانی حقوق حاصل ہو سکے۔ یوکرین اس کی واضح مثال ہے۔ ابھی حال ہی میں لبنا ن میں سعد الحریری کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا مگر اب یہی قیاس کیا جارہا ہے کہ یہاں بھی حکومت کی باگ ڈور حریری کے ہی ماتحت کام کرنے والی ایک ٹیکنوکریٹ حکومت سنبھالے گی۔

دھرنوں کی کامیابی کا دارومدار ان کی سربراہی کرنے والے گروہوں کی انتظامی صلاحیتوں پر بھی ہوتا ہے۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ ایسی احتجاجی تحریکیں اپنے مقصد کے حصول کے بعد معاشرتی اصلاحی تحریکوں میں تبدیل ہو جائیں اور ان میں تمام شہری مل جل کر حصہ لیں۔ جہاں احتجاجی تحریکیں ایسا نہیں کر پاتیں وہاں برا حاکم تو بدل جاتا ہے مگر بری حکمرانی نہیں بدل پاتی۔اس کے علاوہ جمہوری حکومتوں کو بھی احتجاجی تحریکوں کے ذریعے گھر بھیجنے کی روش کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکومتوں کے مخالفین کواپنے مقصد کے حصول کے لیے کوئی جمہوری ،قانونی راہ ہی اختیار کرنی چاہیے۔

پاکستانیوں نے بھی ناکام مسلح تحریکیں اور کامیاب عوامی احتجاجی تحریکیں دیکھی ہیں جنہوں نے ایوب خان کو گھر بھیج دیااور ضیاء الحق اور مشرف کی حکومتوں کو کمزور کر دیامگر ان تحریکوں کا بعد میں بہت غلط استعمال کیا گیا۔ یہ تحریکیں بعد میں یکجا نہیں رہ سکیں اور نہ ہی کسی معاشرتی اصلاحی تحریک کا روپ دھار سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسی تحریکیں صرف حکمرانوں یا حکومتوں کا ہی دھڑن تختہ کرنے میں کامیاب ہوئیں مگر پس پشت کار فرما غیر جمہوری ریاستی عناصر کو ختم نہ کر پائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کچھ وقت بعد دوبارہ اپنی طاقت یکجا کر کے اپنے مذموم عزائم کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔

اب بات ہو جائے کچھ مولانا کے دھرنے کی۔ اس دھرنے کے پیچھے بھی مولانا فصل الرحمن کے متنازعہ نظریات کار فرما ہیں۔ اس دھرنے میں بھی شہریوں کا اتحاد ایسا نہیں جو بعد میں کسی معاشرتی اصلاح کا سبب بن سکے اور ان کے ہدف پر بھی سامنے دکھائی دینے والا چہرہ ہی ہے نہ کہ وہ ریاستی عناصر جو اصل میںاس کے پیچھے کار فرما ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے حالیہ اقدامات سے یوں لگتا ہے کہ وہ حزب اختلاف کو کمزور ، عوام کو منتشر و غیر متحد اور میڈیا کو پابندیوں میں جکڑ کر ون پارٹی رول کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

ماضی کی مزاحمتوں نے استبدادی نظام حکومت کو خاصا غیر مقبول کر ڈالاہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے ہی کسی استبدادی نظام کو ایک ظاہری چہرے کے اوٹ میں رائج کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ ایسی کاوشوں کی مخالفت ضروری ہے مگر وہ کم از کم مولانا کے دھرنوں کی صورت میں تو نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ترقی پسند شہریوں کے مختلف گروہوں اور حزب اختلاف کے اتحاد کی جانب سے عوامی بالادستی کا پر زور مطالبہ پیش کیا جائے اور اس کے لیے جمہوری طریقوں سے رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اس کے لیے ذرائع ابلاغ، پارلیمانی مباحثوں اور دانشور حلقوں کو استعمال کرتے ہوئے استبدادی طرز حکمرانی کی خواہاں اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقوں پر دباؤ بھی بڑھایا جائے ورنہ یقین جانیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کسی بھی خفیہ یا اعلانیہ استبدادی طرز حکمرانی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں