Daily Mashriq

رام مندر سے رام راج تک

رام مندر سے رام راج تک

بابری مسجد کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حسب توقع و روایت عوامی ضمیر کے آگے سپر ڈال دی ۔سپریم کورٹ نے مسجد کا اصل مقام ہندوئوں کے حوالے کرکے ہندوئوں کا ضمیر مطمئن کر دیا اور مسلمانوںکا ضمیر مطمئن کرنے کے لئے انہیں کسی نمایاں مقام پرپانچ سوایکٹر کی زمین دینے کا حکم دیا ۔اب اس فیصلے میں کون سے ''ضمیر'' کے حقیقی اطمینان کا خیال رکھا گیا ہے اس میں دورائے نہیں ۔صاف ظاہر ہے جو اطمینان چہروں اور حرکات وسکنات اور لفظوں سے جھلکتا ہے اور عدم اطمینان بھی زبان سے نہ بولے تب بھی کسمساہٹ اور ندامت وبیزاری چہروں سے عیاں ہوتی ہے ۔ان دوضمیروں کی علامتوں کے طور پر اگر دوشخصیات کو چنا جائے تو صورت حال پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے ۔عدالت نے جس ہندو ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے فیصلہ سنایا اس کی علامت آر ایس ایس کے فکری راہنما کے ایک گوئند اچاریہ کو مانا جائے تو ان کا بے ساختہ تبصرہ ہے کہ فیصلے کے بعد ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جائے تاکہ اب ملک رام مندر سے رام راج کی طرف بڑھ سکے۔فریق ثانی یعنی مسلمانوں کے ضمیر کے اطمینان کا خیال رکھنے کا دعویٰ کیا گیا تو اس ضمیر کی علامت اگر ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کو مان کر جائزہ لیا جائے تو ان کا تبصرہ تھا کہ ہم عدالت کے احترام میں کچھ بولیں گے نہیں مگر بھارت اب ایک ہندوریاست بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا

سنو اک بات کہنا چاہتا ہوں

سپریم کورٹ کے فیصلے پر خاموش رہنا چاہتا ہوں

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے فکری قائد کا تبصرہ حقیقت میں عدالت کے اس فیصلے بلکہ مستقبل میں آنے والے تمام فیصلوں پر بھاری بھی ہے اور ان سب فیصلوں کا خلاصہ اور جست بھی ہے۔حقیقت میں بھارت میں ہندومت کے احیا ء کی تحریک اب رفتہ رفتہ اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ہندو توا اور ہندو راشٹریہ ہندومت کے احیاء اور بالادستی کی سوچ کا نام ہے اور یہ سوچ مسلمان اقتدار کے دوران اور انگریز راج کے دوران حالات زمانہ کے ہاتھوں دب تو گئی تھی مگر ختم نہیں ہو ئی ۔اسی سوچ نے تصور کو حقیقت کا رنگ دیا تھا جسے ہم اب مطالعہ پاکستان میں لکھی گئی فرضی داستان اور کتابی بات کہنے لگے تھے ۔ہمارے خیال میں برصغیر میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیا کرتے تھے یہ تو انگریز نے فسادات ڈال کر دونوں کو الگ گیا۔ حقیقت میں انگریز نے دونوں کو الگ نہیں بلکہ جوڑے رکھا تھا۔ گاندھی اور نہرو کے پہلو بہ پہلو قائد اعظم ،علامہ اقبال ،مولانا ابوالکلام آزاد اور بہت سے مسلمان راہنمائوں کا کھڑا ہونا انگریز اقتدار کی مخالفت کے ایک نکتے کے باعث ممکن ہوا تھا ۔مودی کا شکریہ کہ اس نے مطالعہ پاکستان کو افسانہ اور مطالبہ پاکستان کو نعرہ ٔ مستانہ قرار پانے سے بچالیا۔تقسیم برصغیر کے وقت بھی ہندو مت کے احیا ء اور غلبے کی سوچ ایک توانا شکل میں موجود تھی اور سردار پٹیل کی شکل میں موجود ہی نہیں موجزن بھی تھی وہ پوری قوت کے ساتھ ہندوستان کوہندو راشٹریہ کی طرف لے جانا چاہتے تھے اور اسی لئے وہ آئین ہند میں کشمیر کی خصوصی شناخت کے سخت گیر ناقد تھے اور ''ایک ودھان ایک پردھان '' مہم حقیقت میں انہی کی سوچ وفکر کی عکاس تھی مگر معاملات سنبھالنے کے لئے نہرو جیسے بظاہر سیکولر حقیقت میں کٹر برہمن قیادت معاملات کو سنبھالنے اور پاکستان کی صورت میں الگ ہونے والی آبادی کے دل لبھانے اور رجھانے کے لئے وہ بھارت کی سیکولر جمہوریہ کہ شبیہ بنانے میں کامیاب رہے مگر اس سے ہندو راشٹریہ کی جانب بھارت کا سفر رک نہ سکا ۔جمہوریہ سیکو لر ہند بھی اپنی طرز کا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی تھا گویا کہ دونوں نے محض نام اپنانے کی حد تک ہی تکلف کیا حقیقت میں دونوں نے اپنے ان ناموں کی لاج نہیں رکھی۔ بھارت میں جو کچھ جمہوریت اور سیکولر ازم کے ساتھ ہوا کم وبیش وہی ہم نے اسلام کے ساتھ کیا ۔اس طرح سیکولر ازم بھارت کا ایک خالی ڈھول ہی رہا جو اس وقت تک پوری قوت سے بجتا رہا جب تک کہ انہیں یقین رہا کہ پاکستان کسی بھی وقت پکے ہوئے پھل کی مانند واپس ان کی جھولی میں گرسکتا ہے ۔جب سقوط مشرقی پاکستان کے باوجود اور پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی طرف ہونے والے سفر نے اس بات کو ناممکن بنا دیا تو بھارت کی ہند و اشرافیہ نے مایوس ہو کر سیکولرازم کا خول اور ٹریڈ مارک کھرچ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ۔باقی سارا سفر کسی وضاحت اور بیان کا محتاج نہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی اس سوچ کے مختلف دھاروں کو ایک دریا بنانے کا نام ہے ۔اس میں مختلف ناموں کی موجیں آتی اور گزر جاتی رہیں اور مودی اس وقت سوچ کی اس لہر پر سوار ہوا جب یہ بھارت کی فیصلہ ساز حکمران اشرافیہ اور فوجی ہیئت مقتدرہ پر اپنا رنگ قائم کر چکی تھی۔اب اگلے تمام مراحل میں بھارت تیزی کے ساتھ ہندو راشٹریہ ،رام راج اور ہندوتوا کی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھے گا ۔اس سفر میں مسلمانوں ہی نہیں دوسری اقلیتوں کے لئے خیر کی کوئی خبر نہیں اچھا ہوا پاکستان نے ایک اور مضبوط مگر مجروح اقلیت سکھوں کو تازہ ہوا میں سانس لینے کے لئے ایک کھڑکی فراہم کر دی ۔بھارت نے جس راہ پر آغاز سفر کیا ہے اس میں واپسی کا تصور بھی محال ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس سفر میں کونسی اقلیت متعصب ہندو اکثریت کے ساتھ کہاں تک چلتی ہے؟۔ کسی سادھو،پنڈت ،جوتشی اور سنیاسی کی بجائے وقت اس سوال کا خود ہی جواب دیتا چلا جائے گا۔

متعلقہ خبریں