Daily Mashriq

زہر میٹھا ہوتو پینے میں مزا آتا ہے

زہر میٹھا ہوتو پینے میں مزا آتا ہے

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں ذیابیطس کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جس کا مقصد اس موذی اور جان لیوا مرض کے متعلق عام لوگوں کا شعور بیدار کرنا اور ان کو اس سے محفوظ رہنے کی تدابیر بتاناہے۔ ذیا بیطس کے متعلق عالمی دن منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2007 کے دوران کیا گیا۔ اور یوں یہ دن ہر سال نومبر کے مہینے کی 14 تاریخ کو منایا جانے لگا۔ ذیابیطس دنیا بھر میں جس تیز سے پھیل رہا ہے اس کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کی اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2030 تک اس مرض میں مبتلاء لوگوں کی تعداددوگنی ہوچکی ہوگی کہتے ہیں کہ آج کل اس مرض میں مبتلاء لوگوں کی تعداد کم وبیش 364 ملین ہے۔ ہر سال ذیا بیطس کے عالمی دن کے موقع پر شعبہ صحت کے مختلف ادارے اور مختلف این جی اوز ذیا بیطس کے مریضوں کو بہتر زندگی گزارنے کے گر بتانے کی غرض سے اس مرض کی مفت تشخیص کرنے کے علاوہ ورکشاپسسمینارز اور دیگرسرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔ ذیابیطس زندگی بھر ساتھ رہنے والا ایک ایسا روگ ہے جس کا شکار ہونے والے لاکھوں لوگ داعی اجل کو لبیک کہہ دیتے ہیں۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم میں گلوکوز یا شوگر کو تحلیل کرکے خون میں شامل کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ جسم میں پیدا ہونے والی اس پیچید گی کے سبب دل کے دورے پڑنا، فالج کا حملہ ہونا، بینائی کا زائل ہونا نابینا پن کاشکار ہونا، گردوں کا ناکارہ ہوجانا شامل ہیں ۔ جس وقت یہ مرض اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اس کا علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے اور

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

کے مصداق اس بیماری میںمبتلاء مریضوں کی ذیابیطس زدہ اعضاء کاٹنے پڑ جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں اس موذی مرض کی وجہ کم و بیش دولاکھ افراد معذور ہوجاتے ہیں ، کہا جاتا ہے کہ صرف پاکستان میں ہر چوتھا بندہ ذیا بیطس کا شکار ہے ، اور ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ ذیا بیطس کو قرار دیا گیا ہے ، ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے میں پیدا ہونے والا انسولین نامی ہارمون ہمارے جسم کے خلیوں کو توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ اگر ہمارے جسم میں انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہ ہو یا یہ کام کرنا چھوڑ دے تو، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جذب ہونے کی بجائے جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یوں مریض اس موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں ، ماہرین طب ذیا بیطس کی دو بڑی قسمیں گنواتے ہیں ذیا بیطس کی پہلی قسم میںانسانی جسم کا لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ممکن ہے یہ جینیاتی یا مورثی وجہ سے ہورہا ہو یا کسی وائرس کی وجہ سے انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو گئے ہوں ۔ماہرین کہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ذیابیطس کی پہلی قسم کے مرض کا شکار ہوتے ہیں ۔ذیا بیطس کی دوسری قسم میں انسانی جسم کا لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا اگر بنا تا ہے تو وہ جسم کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتی ۔یہ مرض کم عمر یا زیادہ وزن والے افراد اور سست و کاہل افراد کو لاحق ہوتا ہے اور اکثراوقات حاملہ خواتین بھی انسولین کے نظام میں خلل پڑنے کی وجہ سے اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ سستی اور کاہلی، بہت زیادہ پیاس لگنا، تھکاوٹ محسوس ہونا، وزن کا کم ہونا، نظر کا کمزور یا دھندلا ہونا ، زخموں کا نہ بھرنا وغیرہ ذیابیطس کی علامات مانی جاتی ہیں ، کہتے ہیں کہ پہلی قسم کی ذیابیطس کی علامات بچپن اور جوانی ہی میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور یہ نسبتا زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں ، جب کہ دوسری قسم کے ذیابیطس کا شکار 40برس سے زائید عمر کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ذیابیطس کا شکار ہونے سے بچنے کے لئے کھانے پینے کی اشیاء میں احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے ۔ معتدل غذا کھانے ، ورزش کرنے اور ضرورت سے زیادہ نہ کھانے سے ہم اپنے آپ کو اس بیماری کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں ، سست روی چھوڑ کر اگر ہفتہ میں کم از کم ڈھائی گھنٹے ورزش کی جائے نماز کی ادائیگی میں باقاعدگی پیدا کی جائے تو ہم اس موذی مرض کے حملہ سے اپنے آپ کو بہت حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔ وہ لوگ جو موٹاپے کا شکار ہیں اپنے وزن کو صحت مند رکھنے کے لئے وزن میں کمی کرنے کی کوشش کریں تو تب بھی اس بیماری کے حملہ سے اپنے آپ کو بچایا جاسکتا ہے ، وزن کو کم کرنے کے لئے ماہرین کی رائے کے مطابق اسے ایک دم کم کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ کم کرنا چاہئے ، ہفتہ بھر میں آدھا یا ایک کلو، وزن میں تیزی سے کمی لانا بھی خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے ۔تمباکو نوشی کرنے والے یا مچرب غذائیں کھانے والے بھی ذیا بیطس کی پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے کھانے پینے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیجئے ، خاص طور پر میٹھی چیزوں سے پرہیز کی ہدایت کی جاتی ہے اور بقول کسے میٹھی اشیاء ان کے لئے میٹھی زہرکا درجہ رکھتی ہیں ، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ

زہر میٹھا ہوتو پینے میں مزا آتا ہے

بات سچ کہئے ، مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے

متعلقہ خبریں