Daily Mashriq

آبادی اور معیشت

آبادی اور معیشت

سوشل ورکر اور دانشور ڈاکٹرعلی محمد میر پاکستان اورایشیائی ممالک کے سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت سے مراد علم وشعور کی برتری ہے نہ کہ عددی اعتبار سے۔ڈاکٹر علی محمد میر کے مؤقف کی تائید مالتھس کے آبادی سے متعلق خیالات سے بھی ہوتی ہے ،جنہوں نے آبادی کے مسئلہ پر سب سے پہلے توجہ مبذول کرائی ،یاد رہے ماضی کے ایک گمنام انگریز رائٹر تھامس رابرٹ مالتھس نے ایک مختصر مگر نہایت موثر کتاب ''معاشرے کی مستقبل کی پیش رفت پر اثرانداز ہونے کے تناظر میں قانونِ آبادی پر ایک مضمون''شائع کیا۔جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ''آبادی کی بڑھوتری وسائل کی بڑھوتری کی نسبت سریع الرفتار ہوتی ہے، مالتھس نے اس نظریہ کی دونوں صورتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانوں کی اکثریت کی قسمت میں مفلسی اور فاقہ کشی لکھی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ٹیکنالوجی میں کوئی پیش رفت اس نتیجہ کو بدل نہیں سکتی کیونکہ خوراک کی رسد اضافہ ناگزیر طور پر محدود ہے جبکہ آبادی کی طاقت زمین کی طاقت سے، جو انسان کے لیے خوراک پیدا کرتی ہے، کہیں زیادہ ہے''۔مالتھس کے نظریہ نے معاشی نظریہ کو بھی متاثر کیا۔ مالتھس سے متاثرہ معیشت دان اس نتیجہ پر پہنچے کہ عام حالات میں کثرت آبادی اجرتوں کو عام روز مرہ معاش سے بڑھنے نہیں دیتی۔ معروف انگریز ماہر معیشت ڈیوڈ ریکارڈو (جو مالتھس کا قریبی دوست بھی تھا۔) لکھتا ہے ''محنت کی فطری اجرت وہ اجرت ہے جو محنت کشوں کو ایک دوسرے سے مل کر ختم ہوئے یا بڑھے بغیر اپنی نسل کے لیے روزی کمانے اور اسے باقی رکھنے کے قابل بنانے کے لیے ضروری ہے۔'' اس نظریہ کو عموماً اجرتوں کے آئینی قوانین کہا جاتا ہے۔ اسے کارل مارکس نے قبول کیا اور اس کے (قدر و زائد) کے نظریہ کا ایک اہم جزو بن گیا۔مالتھس کے نظریات نے حیاتیات (Biology) کے علم پر بھی اپنے اثرات چھوڑے۔ چارلس ڈارون نے قانون آبادی پر ایک مضمون پڑھا تھا۔ جس سے اسے فطری انتخاب کے ذریعے ہونے والے ارتقاء کے نظریہ کی نئی تفہیم ہوئی۔تھامس مالتھس پہلا آدمی نہیں تھا جس نے اس امکان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی کہ منظم ملکوں کو کثرت آبادی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد نظریات پیش کیے جاچکے تھے۔ مالتھس نے خود نشاندہی کی کہ افلاطون اور ارسطو نے اس مسئلہ پر بحث کی تھی۔ اس نے ارسطو کا حوالہ بھی دیا تھا کہ ''اگر ریاستوں کی آبادی میں ہر شخص کو حسبِ منشاء بچے پیدا کرنے کی آزادی دے دی گئی تو اس کا ناگزیر نتیجہ مفلسی کی صورت میں نکلے گا۔''

ایک سروے رپورٹ کے مطابق2050ء تک دنیا کی نصف آبادی صرف نو ممالک پر مشتمل ہوگی۔جن میں بھارت، پاکستان، امریکہ، انڈونیشیا، نائیجیریا، ایتھوپیا، تنزانیہ، گانگو اور یوگنڈا شامل ہیں۔بہت سے ممالک اس کا تدارک کررہے ہیں مگر اس طرف توجہ نہ دینے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ پاکستان میں بھی اس مسئلے سے متعلق کوئی کام ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ ایسی کوششوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جب حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے پاکستان کی بڑھتی آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی سطح پر ایک سمینار کا انعقاد کیا جس میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار ،آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ، مولانا طارق جمیل اور مختلف مکاتب فکر کے ارباب دانش نے آبادی کے مسئلہ پر روشنی ڈالی تھی ،اس سمینار کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ حکومت اس بارے ٹھوس اقدام اٹھائے گی ،آج پی ٹی آئی کی حکومت کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی قابل عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے،1980کی دہائی میں آبادی میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ چونکہ اتنی بڑی تعداد کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دینا ممکن نہیں ہے اس لئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے لیکن آج مسئلہ اس قدر گمبھیر ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم ہے،علاج اور روزگار کے میدان میں بھی ہم آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی قابل ستائش اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں ،پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافے کے ضمن میں ریاست کو چاہئے کہ نوجوانوں کو ہنر سکھائے تاکہ ان کے روزگار کا مسئلہ حل ہو اور ملکی معیشت میں بھی ان کا حصہ شامل ہولیکن حکومت کی طرف سے ایسی کوئی سعی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ضروری ہے کہ ریاست بڑھتی آبادی اور اس کے عوامل کا جائزہ لے ،وقتی اور عارضی اقدامات کی بجائے حکومت کی طرف سے ایسے ٹھوس اقدامات سامنے آنے چاہئے کہ جوعددی کثرت پر اترانے کی بجائے ہمیں علم وشعور اورآگہی کے میدان میں آگے لے جانے کا سبب بنیں،واضح رہے جو کام سرکاری سرپرستی میں نہ ہووہ اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے اہمیت حاصل ہوتی ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر محض ایکسمینار پر اکتفاء کرنے کی بجائے اس سلسلے میں عملی اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں، یاد رہنا چاہئے کہ اگر حکومت نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو پھر تعلیم ،علاج اور روزگار سمیت ہر میدان میں ہمارے مسائل جوں کے توں رہیں گے ۔

متعلقہ خبریں