Daily Mashriq


اہم کامیابی

اہم کامیابی

امریکی انٹیلی جنس اطلاع پر پاک فوج کی جانب سے غیر ملکی مغوی خاندان کی رہائی کے حوالے سے کوئی ایسی تفصیلات نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ اس کارروائی کی نوعیت کیا تھی جس کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے صرف مغویوں کی رہائی کی تصدیق کی گئی ہے ۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بازیاب خاندان کو ن تھا ۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم میڈیا پر آنے والی ان اطلاعات کا خیر مقدم کرتے ہیں جن کے مطابق ایک امریکی شہری سمیت ایک فیملی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ایک عرصے سے ان کی تلاش میں تھے۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے دی جانے والی خفیہ اطلاعات قابلِ عمل تھیں اور ان کی بنیاد پر کیا گیا آپریشن کامیاب رہا اور تمام مغوی بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔ اس جوڑے کی ویڈیو افغان طالبان کی حامی تنظیم حقانی نیٹ ورک نے جاری کی تھی۔ تنظیم نے اس جوڑے کی رہائی کے بدلے افغانستان میں تین قیدیوں کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔کینیڈین شہری جوشوا بوئل اور ان کی 28 سالہ امریکی بیوی کیٹلن کولمین کو 2012 میں افغانستان میں ایک کیمپنگ ٹرپ کے دوران شمالی افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔جوشوا اور کولمین کا سفر روس سے شروع ہوا تھا، جو قزاقستان، تاجکستان اور کرغزستان سے ہوتا ہوا افغانستان میں ان کے اغوا پر ختم ہوا۔جب امریکہ کی ریاست پینسیلونیا سے تعلق رکھنے والی کولمین اغوا ہوئیں تو وہ اپنے پہلے بچے سے حاملہ تھیں لیکن جب طالبان نے تقریباً دس ماہ قبل ان کی ایک ویڈیو جاری کی تھی تو اس میں دو بچے دیکھے جا سکتے تھے۔چار منٹ کی ویڈیو میں کیٹلن کولمین نے اس وقت کے صدر براک اوباما اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کچھ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم 2012 سے کسی کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے مسائل کو سمجھے۔یہ معاملہ کئی حوالوں سے پر اسرار ہے اور کئی سوال جواب طلب ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ممکن ہے اس کے اسرار کھل جائیں اور سوالوں کا جواب بھی مل جائے ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ رہائی کیا کسی ڈیل کا نتیجہ ہے اور بدلے میں کیا دے کر مغوی لئے گئے یا پھر واقعی یہ ایک کامیاب کارروائی کے بعد بازیاب کرائے گئے۔ اگر ایسا ہے تو پھر جن دہشت گردوں کے قبضے میں یہ مغوی تھے اور جو ان کو منتقل کر رہے تھے کیا وہ کامیاب کارروائی کے نتیجے میں مارے گئے۔ اگر ایسا ہے تو پھر مغویوں کو خراش تک کیوں نہ آئی غرض سو چا جائے تو طرح طرح کے وسوسوں خدشات اور سوالات سے واسطہ پڑتا ہے۔ ان تمام اندیشوں اور خدشات ووسوسوں کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو ایک صورتحال یہ سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں ان عناصر کے ایسے ٹھکانے موجود ہیں جہاں مغویوں کو پانچ سال تک اس طرح سے رکھا جا سکتا ہے کہ وہ خاندان کی طرح رہیں جن کو ضرورت پڑنے پر پاکستان منتقل کیا جا سکے۔ اغوا کنند گان مغویوں کو پاکستان کیوں منتقل کرنا چاہتے تھے اس کی بھی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی بلکہ اس سے مزید الجھائو پیدا ہوتا ہے ۔ اس تمام صورتحال سے قطع نظر اس رہائی کا مثبت پہلو یہ نظر آتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص نے پاکستان کی کارروائی کو سراہاہے جس سے پاک امریکہ تعلقات میں جو کشید گی آگئی تھی اس میں کمی آنا فطری امر ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسے ڈومور کی فرمائش کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا نا چاہیئے کیونکہ ڈومور کا مطلب ان قوتوں کے خلاف کارروائی مراد لینا ہے جن کا مغوی خاندان کے اغواء میں کردار رہا ہے ۔ بہر حال من حیث المجموع یہ ایک ایسی کارروائی ہے جس سے اعتماد میں اضافہ ہوگا ۔ امریکہ کو اب اس امر کا ادراک ہوجانا چاہیئے کہ ایک مغوی خاندان کی افغانستان میں موجودگی کے باوجود وہ خود اور اس کے اتحاد ی ملک اور افغانستان ان کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ۔ جس انٹیلی جنس شیئرنگ کے نتیجے میں اس واقعے کو کامیابی سے ہمکنا ر گردانا جاتا ہے وہ بھی کئی سوالات کا باعث ہے۔ امریکی فورسز نے اطلاع ملنے پر مغویوں کو پاک افغان سرحد تک پہنچنے ہی کیوں دیا ۔مغویوں کے خلاف افغان سرزمین پر کارروائی کیوں نہ کی گئی۔ اس کامیاب کارروائی کا سہرا پاک فوج کے حصے میں آنے کے وہ خواہاں کیوں ہوئے ۔سوالات کی روشنی میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ امریکی اطلاعات کے نتیجے میں نہیں بلکہ خود ہمارے اپنے حساس اداروں کی کارروائی لگتی ہے۔ بہر حال چونکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اسے امریکی انٹیلی جنس اطلاع کے نتیجے کی کارروائی بتایا گیا ہے لہٰذا اسے ایسا نہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ پاکستان اور امریکہ اگر اس طرح سے اطلاعات کا تبادلہ کرتے ہوئے کارروائیاں کرنے لگیں تو دونوں میں غلط فہمیوں کا امکان تو کیا غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا اور اعتماد کی فضا پیدا ہوگی ۔ امریکی حکام کو بھی اپنے طرز عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگر اس طرح کی کارروائی بحسن وخوبی ممکن بنائی جا سکتی ہے تو کیوں نہ اس سلسلے کو آگے بڑھا یا جائے ۔

متعلقہ خبریں