Daily Mashriq


ڈینگی کے بعد ایک اور وباء کا خطرہ

ڈینگی کے بعد ایک اور وباء کا خطرہ

خیبر پختونخوا کے سرکاری ادارے بے ڈھنگ کاموں کی شہرت رکھتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے عوام کیلئے عذاب بن جاتے ہیں خصوصاً جب کہیں سڑک بن رہی ہو تو اہل شہر پر عذاب طاری ہو نے کے مترادف ہوتا ہے۔ یو نیورسٹی روڈ پر نکاسی آب کے نالے کی موجودہ دور حکومت میں تیسری بار تعمیر اور سڑک کی توسیع کے منصوبے پر کام جس اندازسے شروع کیا گیا ہے اس سے بجا طور پر اس امر کا خطرہ ہے کہ شہر میں ڈینگی کی وباء کے ساتھ نظام تنفس اور آنکھ ، ناک ، کان ، گلہ او ر پھیپھڑوں کا انفیکشن وباء کی صورت اختیار کر کے پہلے سے ادویات اور علاج کی سہولتوں سے محروم ہسپتالوں کی بد تر صورتحال کی بد تری میں مزید اضافہ کر جائے ۔ الرجی میں مبتلا افرادکیلئے تو خاص طور پر علا قے سے گزرنا اور آس پاس کے علاقوں میں سکونت کسی عذاب سے کم نہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر اڑنے والی دھول میں نکاسی آب کے نالوں سے نکالا گیا خشک فضلہ اور جراثیم زدہ مٹی بھی شامل ہوتی ہے جس سے پوری فضا زہریلی ہو چکی ہے۔ حیات آباد فیز تھری چوک سے گورا قبرستان تک ڈرائیور وں کو بھر ی دوپہر میں دھول کے باعث کم نظری کی مشکل کا سامنا ہے ۔ لیکن محال ہے کہ کسی ادارے کے کان پر جوں تک رینگے ۔پشاور ہائیکورٹ نے ڈینگی کی وباء سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران کھلے مقامات کوجلد ڈھکنے اور کام فوری نمٹانے کی ہدایت کی تھی جس پر متعلقہ اداروں کا کان نہ دھرنا تو ہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس ساری صورتحال سے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بھی بے خبر نہیں ہوں گے ان سے مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے کا سوال غلط نہ ہوگا ۔ معزز چیف جسٹس نے اگر اس صورتحال کا از خود نوٹس لیکر متعلقہ حکام کو فوری طور پر کم از کم تین اوقات صبح دوپہر اور شام میں چھڑ کائو کا بندوبست کر کے دھول کو کم کرنے کا سامان کرنے کی ہدایت نہ کی تو شہر میں المیہ جنم لے سکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو بھی اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیئے ۔ بورڈ آف سٹاف کے پاس بعض گاڑیوں کو مڑنے کی عارضی سہولت دے کر تجاوزات کا خاتمہ کر کے اگر ان کو کینال روڈ سے نکلنے کا راستہ دیا جائے تو رش میںکمی ممکن ہے۔ جبکہ یونیورسٹی روڈ پر جہاں جہاں گاڑیوں کو متبادل راستہ لینے کی سہولت مل سکے ٹریفک کا رخ موڑ دیا جائے تاکہ رش میں کمی آئے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ترقیاتی کاموں پر مامورٹھیکیداروں کو اپنا کام نمٹانے میں ذمہ داری اور صفائی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرے ۔ اگر ان منصوبوں پر تین شفٹو ں میں کام ہوتا تو جلد تکمیل کی امید تھی مگر شاید متعلقہ حکام کو عوام کی مشکلات سے زیادہ بڑی بڑی کمپنیوں کا مفاد عزیز ہے ۔

کالج اساتذہ کے مطالبات حل کرنے کی ضرورت

کالج اساتذہ کے ساتھ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اس کے کامیاب ہونے کا تاثر کیوں دیا گیا ۔ میڈیا کی اس بارے اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی اپنی جگہ اس طرح کے ہتھکنڈے کے استعمال کا بہرحال نتیجہ نہایت منفی سامنے آنا فطری امر ہے ۔ جیسا کہ نہ صرف اساتذہ نے احتجاج اور کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ہے بلکہ صوبے میں احتجاج کے بعد اب تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے بنی گالہ میں گھر کے گھیرائو کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اگر بورڈ آف گورنر ز کی تجویز واپس لی گئی ہے تو اساتذہ کو مطمئن نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ایک علامیہ جاری کر کے معاملہ حل کیا جا سکتا ہے ۔ صوبائی حکومت کے آئے روز نت نئے اقدامات سے وقتاً فوقتاً سرکاری ملازمین احتجاج پر اتر آتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پورے دور میں ڈاکٹروں میں بے چینی رہی اب عملہ صفائی احتجاج کر رہا ہے جبکہ اساتذہ کرام جیسا معزز طبقہ کلاسوں کی بجائے سڑکوں پر ہے ۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کو طول نہ دیا جائے اور صوبائی حکومت کالجوں کو بورڈ آف گورنر ز کے ماتحت کرنے کا فیصلہ واپس لے اور اساتذہ کرام میں پھیلی بے چینی کا ازالہ کیا جائے تاکہ طالب علموں کی تعلیم کا مزید حرج نہ ہو ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ صوبائی حکومت اس مسئلے کے حل میں مزید وقت صرف نہیں کرے گی اور اساتذہ کے تحفظات کو دور کر کے ان کا احتجاج ختم کروائے گی۔ اگر اس سلسلے میں حکومت اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کی ضرورت محسوس کی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اساتذہ کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ احتجاج کی فضا گرم ہونے کی آڑ میں ایسے مطالبات سامنے لانے سے گریز کریں جن کو حکومت فوری طور پر پورا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تاکہ جلد سے جلد معاملہ طے پاجائے اور صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں ۔

متعلقہ خبریں