Daily Mashriq


پاک افغان تعلقات میں بہتری کی نئی اُمید

پاک افغان تعلقات میں بہتری کی نئی اُمید

پاکستان اور افغانستان کے بیچ دو طرفہ مذاکرات کے نئے دور سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان برف پگھلتی ہوئی نظر آرہی ہے اور ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ دونوںممالک خطے کی ترقی و استحکام کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں پہلے ہی کمی ہو چکی ہے اور دونوں ممالک نے مشترکہ خطرے کا ادراک کرلیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے مثبت اور حوصلہ افزاء پیش رفت دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کو کم کرنا ہے جس کی وجہ سے غیر ضروری امور کی بجائے اہم امور پر توجہ دی جاسکے گی۔ اس ساری صورتحال کو امید افزاضرور کہا جاسکتا ہے لیکن دونوں ہمسایوں کو آگے بڑھنے کے لئے کشیدگی پیدا کرنے والے عوامل پر قابو پانا ہوگا ورنہ مستقبل میں صورتحال دوبارہ خراب ہوسکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی تاریخ کودیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کو اعتماد کی بحالی کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں افغانستان جانے والے وفد کی صدر اشرف غنی سے حالیہ ملاقات کو2015ء میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ہونے والے سب سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ صدر اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا لیکن بد قسمتی سے یہ دور بھی مختصر ثابت ہوا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب دونوں ممالک اپنے پچھلے اختلافات بھلا کر ایک نیا آغاز کرسکتے تھے لیکن اس سنہری موقع کو بھی گنوا دیا گیا تھا۔ بہت سے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی نے افغان قیادت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا اعتماد دیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوج نکالنے کی بجائے مزید فوج بھیجنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اس جنگ زدہ ملک سے مستقبل قریب میں انخلاء نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان کی سیکورٹی کی یقین دہانی کے بعد کابل میں قائم اتحادی حکومت کے اعتماد میں اضافہ ہوا جس کی بدولت پاک ا فغان تعلقات میں بہتری کی امید پید اہوئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے سخت رویہ اپنائے جانے کی وجہ سے پاکستان نے بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر جمی برف رواں سال مارچ میں اس وقت پگھلنا شروع ہوئی تھی جب پاکستان کے مشیرِ خارجہ اور افغان حکومتی اہلکاروں کی لندن میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد جون میںآستانہ میں ہونے والی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سمٹ میں وزیرِ اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان تبادلہِ خیال ہوا تھا۔ اس ملاقات کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی تھی جس میں دونوں قائدین نے چار فریقی کوآرڈینیشن گروپ کے تحت باہمی تعلقات کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔پاک افغان رہنمائوں کی کابل میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے ایک مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے۔ اس ملاقات میں سب سے اہم بات افغانستان میں مزید امریکی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستانی طالبان کی افغانستان میں واقع پناہ گاہوں کو ختم کرنے کی یقین دہانی ہے۔افغان سرزمین سے ان پناہ گاہوں کا خاتمہ افغان سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا لیکن اس سے بڑا چیلنج ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے پاکستانی سرزمین سے افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوگا حالانکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے ان پناہ گاہوں کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کی فوجی اور عسکری قیادت ان عوامل سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ امریکہ سے تعلقات کی خرابی کے ذمہ دار رہے ہیں ۔امریکہ اور افغانستان دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پچھلے سولہ سالوں میں افغانستان سے طالبان کا خاتمہ اس لئے نہیں کیا جاسکا کیونکہ طالبان کے بہت سے گروہوں کی پاکستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں موجود تھیں۔اپنی سرزمین سے افغان طالبان اور خصوصاً حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے پاکستان پر دبائو بڑھتا جارہاہے۔حالات و واقعات سے ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ پاک افغان کشیدگی میں کمی بھی امریکی مداخلت سے کم ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈیفنس سیکرٹری جیمز میٹس نے کابل میں ہونے والے پاک افغان رہنمائوں کی ملاقات کو 'ایک نئے باب' کا نام دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میںاضافے کے ساتھ ساتھ پاک ا فغان تعلقات کی بحالی کی امریکی کوششیں نتیجہ خیز ہوں گی یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد امریکہ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کو قریب لانے کی کوششیں خوش آئند ضرورہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چارفریقی کوآر ڈینیشن گروپ (کیوسی جی فورم) کی بحالی بھی ایک احسن اقدام ہے جس سے افغانستان میں قیامِ امن کے خواب کو شرمندہِ تعبیرکیاجاسکتاہے۔دوسری جانب پاکستان نے افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے عمل میں سہولت کار بننے کی پیش کش کی ہے حالانکہ پاکستان ہمیشہ اپنی سرزمین پر طالبان رہنمائوں کی موجودگی کے دعوئوں کو جھٹلاتا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت خوش آئند ہے لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر اعتماد کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لئے بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں