Daily Mashriq


عالمی یوم معیار

عالمی یوم معیار

عالمی یوم معیار یا ولڈڈ سٹینڈرڈ ڈے ہر سال اکتوبر کے مہینے کی 14 تا٩ریخ یا اس سے پہلے یا بعد کے دنوں میں پاکستان سمیت ساری دنیا میں منایا جاتا ہے جس کا مقصد صنعت و تجارت کے شعبے میں سٹینڈرڈائزیشن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ صنعتکاروں کو معیاری اشیاء مارکیٹ میں لانے اور صا رفین کو معیاری اشیاء خریدنے کی ترغیب دینا ہے۔ہمارے ملک میں جب کوئی عالمی دن منایا جاتا ہے تو اس کے چرچے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرزور شور سے کئے جاتے ہیں جس کے لئے عالمی دن منانے والوں کو سیمیناروں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے ، بینر آویزاں کئے جاتے ہیں کتبہ بردار ریلیاں اور جلوس نکالے جاتے ہیں ۔ فوٹو سیشن کا اہتمام ہوتا ہے اور پھر اس دن کے سورج کے غروب ہوتے ہی وہ دن بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتا ہے ۔ایک حوالہ کے مطابق مغربی دنیا میں بین الاقوامی اہمیت کی حامل چند بااثر تنظیمیں ہیں جنہوں نے مصنوعات کے سٹینڈرڈز کو ماپنے اور ان کو معیاری یا غیر معیاری قرار دینے کے لئے قوانین وضع کر رکھے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس ہی سلسلہ کی کڑی کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے نام سے موجود اتھارٹی سرگرم عمل ہے ۔ جو گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را ۔کی شرط نبھانے کے لئے چھاپے مارنے پکڑ دھکڑ یا جرمانہ کرنے کی رسم ادا کرنے کے بعد لمبی تان کر سو جاتی ہے اور یوں ملک میں دو نمبر مال نہ صرف فروخت ہوتا رہتا ہے بلکہ اس کا دھڑا دھڑ استعمال انٹر نیشنل سٹینڈرڈ ڈے جیسے ایشو کا منہ چڑاتا رہتا ہے۔ ارے تم کیا معیار مقر کرو گے تم خود رشوت اور سفارش کلچر کے پروردہ ہو۔ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ کوئی رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا اور رشوت دے کر رہا ہوگیا۔ ہماری مارکیٹوں میں نہ صرف غیر معیاری اشیاء کی بھر مار ہے ۔ بلکہ ہر معیاری شے کی ملتے جلتے نام کی نقل موجود ہے ۔جعلی ڈاکٹروں ، نیم حکیموں، گنڈے تعویز کرنے والے جعلی پیروں اور فقیروں کی تو چاندی ہے ہمارے ملک میں دودھ کو گاڑھا کرنے کے لئے ایسے ایسے کیمیکل استعمال ہورہے ہیں جن کے متعلق جان کرالامان الحفیظ کا وظیفہ ورد زبان ہونے لگتا ہے۔ میرے ملک میں ورلڈ سٹینڈرڈز ڈے منانے والو کیا آپ نے لاہور میں گدھے کے گوشت کے سر عام بکنے کی خبر نہیں پڑھی ۔ مردہ چوہوں کا قیمہ بنا کر سموسوں میں بھر کر بیچنے والے پکڑے گئے اور الیکٹرانک میڈیا والوں نے ان کی ویڈیو بنا کر چلا دی۔ بڑی لعنت ملامت کی گئی ۔ ان کو سزا ہوگئی ہوگی ۔ اور پھر آج نہیں تو کل وہ جیل یاترا کرکے واپس آجائیں گے اور پھیلانے لگیں گے اپنے کرتوتوں کی کالک ۔ یہ ہے ہماری زندگی کا معیار ، ہم میں سے بہت سے کھیل رہے ہیں موت کا گھناؤنا کھیل ۔ پھنس چکی ہے ہماری نوجوان نسل منشیات کی دلدل میں ۔ انگارے بھر رہے ہیں اپنی جیبوں میں منشیات کا کاروبار کرنے والے ، اور حیرت اس بات کی ہے کہ یہ کاروبار کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سائے میں چل رہے ہیں کیونکہ ان اداروں کے ارباب بست و کشاد کی جیبوں کو بھی گرم کردیتے ہیں وہ انگارے جو ہماری نئی نسل کی تباہی و بربادی کا عوضانہ بن کر جانے کیسے ان کے حلقوم سے اترتا ہے۔ہمارا ہمسایہ ملک چین تعمیر اور ترقی کی منزلیں شاید اس لئے طے کر رہا ہے کہ انہوں نے ملک سے منشیات کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لئے منشیات زدہ طبقے کے بیڑے غرق آب کردئیے تھے۔ اس حوالے سے کسی صحافی نے چو این لائی سے پوچھا تھا کہ آپ نے ایسا کرکے ظلم کمایا کیونکہ غرق آب ہونے والے بیڑوں میں منشیات کے عادی لوگوں کے علاوہ بہت سے بے گناہ لوگ بھی شامل تھے ۔ جس کے جواب میں چو این لائی نے کہا تھا کہ جی ہاں یہ ان بے گناہ لوگوں کی قربانی ہی کا صلہ ہے کہ آج ہمارا ملک تعمیر اور ترقی کی اعلیٰ اور ارفع منازل طے کر رہا ہے۔ افیون کا عادی چین آج دنیا بھر کی مارکیٹ پر چھایا ہو اہے ۔چائنا کی مصنوعات میں معیاری اشیاء کے علاوہ غیر معیاری اشیاء بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ایسی اشیاء پاکستان جیسے ملک کے عوام کے لئے تیار کررہا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس پھکڑ قوم کی دھن دولت اس کے لیڈر اڑا کر بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں ۔ دال ساگ کھا کر گزارہ کرنے والے لوگ بھلا کیسے ادا کریں گے معیاری چیزوں کی قیمت ۔ حقدار ہیں یہ دو نمبر اشیاء کے بڑے صابر شاکر اور سیدھے سادے لوگ ہیں ۔لڑنا نہیں آتا ان کو اپنے حقوق کی جنگ ، پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے جو بس چلے کر بیٹھتے ہیں ۔ ملک غریب ہے لیکن اس کی سڑکوں پر ٹریفک جام کرنے والی موٹر کاروں کی بھی کوئی کمی نہیں ۔ اور ان موٹر کاروں کی دھول میں دوڑتے بھاگتے ایسے بچے بھی نظر آجاتے ہیں ۔ جن کو دیکھ کر بے اختیار ہوکر کہنا پڑتا ہے۔

اپنی موٹر،اپنی دھول،

دھول میں دوڑتے اپنے پھول

اپنا ہے سنسار

سندر سپنا ، دیس ہے اپنا ، اپنا ہے گھر بار

یہ کیا جانیں انٹر نیشنل سٹینڈرڈ ڈے کی بہار ۔ موٹروں ، بنگلوں اور بینک بیلنس والوں کے لئے ہیں یہ سب بکھیڑے۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

کے مصداق ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے کنڈول میں پانی پینے کے عادی ہیں کہ یہ سنت ہے ہمارے آقائے نامدار نبی رحمت ۖکی

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

متعلقہ خبریں