Daily Mashriq


مولانا مفتی محمود مرحوم ،بیسیوں صدی کا رجل عظیم

مولانا مفتی محمود مرحوم ،بیسیوں صدی کا رجل عظیم

مفکر اسلام مولانا مفتی محمود گزشتہ صدی کی نابغہ شخصیت تھے ۔ آپ واحد عالم دین تھے جن پر عرب وعجم کے جمہور علماء کا فیصلہ موجود ہے ۔ آپ فقیہہ ملت اسلامیہ تھے اور اس حیثیت پر بھی عرب وعجم کے فقہا کا اجماع ہے ۔ ایک طرف آپ امت مسلمہ کے شہرہ آفاق شیوخ کے استاد تھے تو دوسری جانب آپ پاکستانی سیاستدانوں کے مربی اور معلم تھے ۔ بڑے بڑے نامور فقہا اور مفسر ین آپ کے سامنے دوزانوں بیٹھ کر قرآن وفقہ کا علم سیکھتے تھے ۔ ملت اسلامیہ کے اتحاد کے لئے آپ کی مساعی جمیلہ اور تاریخی جدوجہد تاریخ مسلمانان عالم کا زرین باب ہے ۔ آپ جب جامعہ الازہر مصر میں''دین اسلام کی ترویج واشاعت'' کے موضوع پر خطاب فرماتے تو علماء عرب یاسیدی یاسیدی کہتے ہوئے شیخ العرب پکارنے پر مجبور ہو جاتے ۔ ایرانیوں کے سامنے فارسی میں خطاب فرماتے تو فارسی خوان انہیں سعدی اور رومی کے القابات سے سے نوازتے ۔ آپ انگریزی لٹر یچر کا روانی سے مطالعہ کر سکتے تھے۔ اردو دہلی والوں کی طرح فصاغت وبلاغت سے بولتے تھے ۔میدان سیاست اور میدان مذاکرات کے آپ ابوالکلام تھے ۔ مشکل سیاسی بحران کا حل آپ دنوں کے بجائے گھنٹوں اور منٹوں میں تجویز فرماتے ۔ ایوب خان کی گول میز کانفرنس سے قومی اتحاد اور بھٹو سے مذاکرات تک کی کہانی پاکستان کی پارلیمانی اور سیاسی تاریخ میں جلی حروف میں موجود ہے، جو مستقبل کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔جب ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت میںآمریت کی روش اختیار کی تو مولانا مفتی محمود نے PNAتشکیل دی۔ 14اگست 1947ء کو جب پاکستان آزاد ہوا تو آپ نے جمعیت علماء ہند سے وابستہ پاکستانی علماء کو جمعیت علماء اسلام پاکستان کے جھنڈے تلے جمع کیا اور پاکستان میں جمعیت کے فورم کو تمام سیاسی ومذہبی مکاتب فکر کے لوگوں کے لئے کھلا رکھا۔ برداشت ، رواداری اور وسیع ا لنظری کو اتنا پروان چڑھا یا کہ مرحوم شاہ احمد نورانی، خان عبدالولی خان، ذوالفقار علی بھٹو ، پروفیسر غفور احمد اور علامہ احسان الہیٰ ظہیر نے یہاں تک کہہ دیا''بلا شبہ مولانا مفتی محمود کی زندگی کا ہر پہلو واجب تقلید ہے مگر انہوں نے سیاسی سفر میں بھی مولانا مفتی محمود سے بہت کچھ سیکھا'' 70ء کی دہائی میں مولانا مفتی محمود کے سیاسی تدبر اور اصولوں پر مبنی سیاست کا چرچا چار دانگ عالم میںتھا۔ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر امت مسلمہ اور خصوصاً پاکستان کو اس ناسور کے اثرات سے بچا کر جمہوری سیاست میں اسلام کی بالادستی کا حق پر ستانہ کردار ادا کیا۔ مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد جب مولانا فضل الرحمان نے جمعیت کی قیادت سنبھالی تو جلسے جلوسوں میں مولانا فضل الرحمان کے نام کے ساتھ قائدابن قائد کا لا حقہ ضرور استعمال کیاجاتا تھا ۔ مگر جب مولانا کا سیاسی کردار تحفظ ناموس رسالت اور نفاذ شریعت کے لئے عملی جدوجہد کی صورت میں ، تحفظ حقوق نسواں بل 2016کے خاتمے ، جمہوری ، آئینی اور ریاستی اداروں کے استحکام کے مسئلہ پر اسمبلی کے اندر اور باہر ڈٹ جانے پر ، اتحاد علمائے امت اور مسلمانان عالم کے ترجمان کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا تو مولانا کے نام سے ابن قائد کا لاحقہ خود بخود ختم ہوا۔فرقہ وارانہ سیاست کرنے والے فرقوں اور انجمنوں سے وابستہ لوگ سر تسلیم خم کرنے پر مجبورہو جاتے ۔ جن کے قائدین نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر مولانا کو اپنا سیاسی رہبر تسلیم کر لیا ۔مولانا کی سیاست اور ترجیحات میں پاکستانیت، انسانیت اور پاکستانی مفاد مقدم تھا ۔ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود بیسویں صدی کے رجل عظیم تھے۔ مولانافضل الرحمن جنہوں نے اپنے سیاسی تدبر اور بصیرت سے مخالف سیاستدانوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے درحقیقت ان کے عظیم والد مولانا مفتی محمود کی تربیت کا اثر اور نتیجہ ہے۔مولانا مفتی محمود کی بلند کرداری اور عظمت کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں