Daily Mashriq


اقوام کی ترقی میں تعلیم کا کردار

اقوام کی ترقی میں تعلیم کا کردار

جس زمانے میں علامہ اقبال یورپ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے تھے وہ زمانہ برطانوی حکومت کے عروج کا مظہر تھا۔ انگریز قوم نے سولہویں صدی عیسوی میں اپنی خواب گراں سے آنکھیں کھول کر گرد و پیش کا بخوبی جائزہ لیا۔ ( Ages Work) درحقیقت مغربی قوموں کے زوال' پسماندگی' جہالت اور توہمات سے عبارت ہیں اہل کلیسا نے عوام کی جہالت سے خوب فائدہ اٹھایا۔ علاوہ ازیں ملوکیت نے ان لوگوں کو مختلف زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا تاکہ محکوم' جاہل اور غریب عوام ان کے استبداد اور فدائی حق بادشاہت کے خلاف کوئی صدائے احتجاج بلند نہ کر سکیں۔ جب یورپ وحشت و جہالت کے سمندر میں غرق تھا اس وقت مسلم ہسپانیہ علوم و فنون کا شاندار عالمی مرکز تھا۔ یورپ کے طلباء ہسپانیہ کی مسلم درسگاہوں سے علمی فیوضات حاصل کر کے نکلے۔ مغرب کے تقریباً تمام حقیقت پرست مصنفین نے یورپ پر اسلام کے اس عظیم احسان کا تذکرہ کیا ہے جب دماغوں میں علم کی روشنی پیدا ہوئی تو یورپی دانشوروں نے ایجاد و اختراع اور عین مشاہدہ فطرت کے ذریعے اپنی معاشرت' تہذیب' تمدن' معیشت اور سیاست کے میدانوں میں ہلچل مچا دی۔ اس ذہنی بیداری نے بعد ازاں یورپ کو بہت زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا تھا۔ انسانی ہاتھوں کی جگہ مختلف مشینوں نے لے لی۔ ان تمام تبدیلیوں کا اثر یہ ہوا کہ یورپی قومیں دنیا کی دوسری قوموں سے گویا سبقت لے گئیں۔ انہوں نے نئے نئے آلات حرب کی بدولت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کو اپنا غلام بنانا شروع کر دیا۔ علامہ اقبال کے زمانے میں ہندوستان پر بھی برطانوی تسلط تھا۔ یہاں آ کر انہوں نے مغربی معاشرت' فلسفہ و ادب' سیاسی نظام اور اہل ضرب کی سرگرمیوں کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا۔ علامہ اقبال نے اپنے زمانہ طالب علمی میں بغور مشاہدہ کیا تھاکہ جب کوئی قوم اپنے گلے میں غلامی کا پھندا ڈال لیتی ہے تو پھر وہ قوت مزاحمت کی بجائے تن آسانی' قناعت اور تقدیر پرستی کی عادی بن جایا کرتی ہے۔ اس کے عمل پرستی اور بلند معیار زندگی کو دیکھ کر اپنی محکوم قوم کی تساہل پرستی سے نفرت کا اظہار کیا۔ 

علامہ اقبال نے اپنے سہ سالہ قیام یورپ کے دوران یہاں کی تہذیبی اور تمدنی قدروں کا بڑے قریب سے مطالعہ کیا اور مغربی اقوام کی ترقی و سیاحت کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی دور رس نظروں نے ان قوموں کی مصروف زندگی' جدوجہد' ہمہ وقتی تگ و دو اور گوناں گوں سائنسی ایجادات اور علمی انکشافات کی تعریف تو کی مگر ان کی مادہ پرستی' جذبہ مسابقت اور قوم پرستی کو کم از کم عیار' اور شاخ نازک پہ بننے والا ناپائیدار آشیانہ قرار دیتے ہوئے کہا۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب یورپی ممالک کے طلباء مسلمانوں کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبورتھے اور ایک یہ وقت ہے کہ مسلمان تعلیمی اعتبار سے اس قدر پسماندگی کا شکار ہیں کہ خفگی مٹائے نہیں مٹتی ،ایک وقت تھا کہ اعلیٰ اقدار و روایات کیلئے مسلم دنیا کی مثالیں دی جاتی تھیں اور ایک آج کا دور ہے کہ ہم یورپ و امریکہ کی مثالیں دینے پر مجبور ہیں ۔اور یہ بلا وجہ بھی نہیں ہے کیونکہ ان ممالک نے نہ صر ف یہ کہ اپنے ممالک کے تعلیمی نظام کو بہتر کیا بلکہ پوری دنیا میں امریکہ و یورپ کے طرز کا تعلیمی نظام رائج ہے۔ آج کے دور میں اگر مسلم دنیا میں کہیں تعلیمی بالادستی حقیقی معنوں میں موجود ہے تو وہ ترکی ہے جس نے بیک وقت یورپ کا تمام محاذوں پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے بلکہ دیگر مسلم ممالک کا ساتھ دیتے ہوئے وہاں بھی تعلیمی پسماندگی کو ختم کرنے کیلئے مقدور بھر کوشش کی ہے ۔گزشتہ سال ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستانی حکام سے درخواست کی تھی کہ پاکستان میں کام کرنے والے فتح اللہ گولن کی تنظیم کے زیر اہتمام پاک ترک اسکول کے 28کیمپس کے عملے مزید کام کرنے سے روک دیا جائے ۔اس کے جواب میں پاکستانی حکام نے ترکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جب ترک اسکولز کے عملے کی ملک سے بے دخلی کا فیصلہ کیا تو سب سے زیادہ جو سوال اور اعتراض ابھر کر سامنے آیا وہ یہ تھاکہ ان اسکولز میں پڑھنے والے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا ؟بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے ترک حکومت نے ہنگامی طور پر ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جسے معارف فاؤنڈیشن کا نام دیا گیا ، اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں تعلیمی اداروں کا قیام اور اساتذہ کی تربیت ہے ،معارف فاؤنڈیشن پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان معاشی' معاشرتی اور تہذیبی رشتوں کو مزیدمضبوط بنانے کیلئے ہمہ تن گوش ہے۔ ہمیں آج وہ عوامل اپنانے ہوں گے جن کو اپنا کر امریکہ ،یورپ اور ترکی نے ترقی کی ہے ،اگر آج 21ویں صدی میں بھی ہم نے بیداری کا ثبوت نہ دیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ہماری آنے والی نسلیںہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہوگا ۔ تعلیمی اصلاحات موجودہ دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر لانا ہوں گی ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ہی اہل مغرب نے پوری دنیا میں اپنا سکہ جمایا ہے ۔ ان شعبوں میں ترقی کے حصول کے لئے تعلیم کے نظام میں بہتری لانے کے لئے اس پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہوگی جب تک ہماری نئی نسل کی تعلیم و تربیت جدید خطوط پر نہیں ہوگی تو ترقی یافتہ اقوام کی مسابقت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا ۔ اور ہم اسی طرح کبھی معاشی اور کبھی سیاسی طور دوسری اقوام پر انحصار کرتے رہیں گے ۔

متعلقہ خبریں