Daily Mashriq


چیف جسٹس کے دردمندانہ خیالات

چیف جسٹس کے دردمندانہ خیالات

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر ایک ناسور بن چکا ہے اور ملک میں ججز سب سے زیادہ تنخواہیں لیتے ہیں جبکہ ان پر یومیہ 55 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔انہوں نے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ججز سمجھتے ہیں کہ وہ روزانہ 55 ہزار روپے والا جتنا کام کرتے ہیں؟لاہور میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کفر کا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن جہاں بے انصافی کا عروج ہو وہاں معاشرے کی بنیادیں کھڑی نہیں رہ سکتیں۔چیف جسٹس نے متعدد مثالیں پیش کیں جس میں مقدمات میں غیر ضروری طوالت اختیار کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ جس نظام کے خد وخال جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی ہوں گے تو وہاں کیا کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوانین کا تحفظ صرف عدلیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کو بھی چاہیے کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم قوانین کو سادہ اور عام فہم نہیں بنائیں گے تب تک بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے جس دردمندی کے ساتھ انصاف میں تاخیر ججوں کے معاملات اور معاشرتی ناانصافی پر اظہار خیال کیا ہے اس کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کے منصف اعلیٰ ہی بے بسی کا اظہار کرنے لگیں تو عوام آخر کس سے امید باندھیں۔ دیکھا جائے تو ملک کے وزیراعظم کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ دونوں مقتدریں صورتحال کا دکھی دل سے اظہارتو کر رہے ہیں ان کو صورتحال کا بخوبی ادراک بھی ہے مگر اس صورتحال یا اس نظام کو تبدیل کیسے کیا جائے اور ملک وقوم کو اس سے کیسے نکالا جائے اس بارے کوئی ٹھوس قدم کسی جانب سے اٹھتا نظر نہیں آتا۔ حکومت احتساب کی تگ ودو کرنے لگتی ہے تو قوانین آڑے آجاتے ہیں اور عدالتیںفیصلہ دینے لگتی ہیں تو قوانین اور نظام آڑے آجاتا ہے۔ فرسودہ نظام ہی اگر سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو اسے گرایا کیوں نہیں جاتا اس فرسودہ نظام کی تبدیلی پر حکومت ،عدلیہ اور جملہ ادارے اتفاق کیوں نہیں کرتے ۔ بے بسی کا اظہار سربراہ حکومت ، سربراہ مرکز انصاف سبھی کی جانب سے کیا جاتا ہے پارلیمان بھی مقتدر نہیں اور پارلیمان کے فیصلوں کی بھی وقعت نہیں پھر مقتدر ایسی کو نسی قوت ہے جو ملک وقوم کو اس صورتحال سے نکالے۔ ایسے میں ممکن ہے ذہن میں فوج کا ادارہ آجائے اگر ایسا ہے تو یہ پھر کم فہمی وکم علمی کے زمرے میں اس لئے آتا ہے کہ فوج ملک کے دفاع اور وطن کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے اور سرحدوں کا دفاع کرنے کا ذمہ دار ہے اسے پہلے ہی ہم بہت سے معاملات میں سویلین حکومتوں کی ناکامی کی صورت میں زحمت دینے کیلئے مشہور ہیں۔ قدرتی آفات زلزلہ اور سیلاب جیسی صورتحال میں ہمارے سویلین ادارے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور جن کی یہ ذمہ داری نہیں وہ آکر ہمو طنوں کو بچانے اور خدمت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں جب تک ہر ادارے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے مطابق خدمت نہ لی جائے تب تک سوائے آہ وفغان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ مہنگائی کے مارے عوام توسیاستدانوں ہی کو کوسنے اور ملکی خزانہ پر حکمرانوں کے بوجھ ہونے کے تاثرات رکھتے ہیں ۔ چیف جسٹس کے منہ سے ججوں کے روزانہ پچپن ہزار روپے قوم کا پیسہ ان پر صرف ہونے کے انکشاف سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہونا فطری امر ہوگا کہ جج بھی کسی سے کم نہیں جس طرح دیگر شعبوں میں وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باعث معاملات التواء کا شکار چلے آئے ہیں یہ صورتحال عدلیہ کے ساتھ درپیش ضرور ہوگی لیکن اگر عدالتی امور پر نظر دوڑائیں تو ایک جج مقررہ چکر پورے کرنے اور قوانین کے تقاضے پورے کئے بغیر کوئی مقدمہ نمٹا ہی نہیں سکتا۔ اس نظام میں اتنی گنجائش اور طریقہ کار موجود ہے جس کا فریقین کے وکلاء فائدہ اٹھا کر مقدمہ لٹکا لیتے ہیں اور برسوں فیصلہ نہیں ہو پاتا۔اس ساری صورتحال کے باوجود ججوں کی جانب سے بھی ہونے والی تاخیر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ جج پر ہی منحصر ہوتا ہے کہ وکلاء کو پابند بنائے اور مقدمے کو آگے بڑھائے ۔ ایسی صورتحال میں نظام کو کوسا جائے یا ججز کو اس لئے اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ یہی ہوتا چلا آرہا ہے نشستند و گفتند وبر خواستند تو ہوتی رہتی ہے مگر پر نالہ و ہیں کا وہیں گررہا ہوتا ہے ، کیا اس صورتحال میں ایک فطری نظام کی ضرورت بڑھ نہیں جاتی جس میں انصاف کا حصول سہل سادہ اور جلد ہو ایسا نظام حکومت خلافت راشدہ کا احیاء یا پھر اسلامی نظام کے نفاذ ہی سے ممکن ہے اس کا تذکرہ نہ حکمران کرتے ہیں اور نہ منصفین اور نہ ہی عوام اس کیلئے عملی اور ذہنی طور پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔موجودہ حکومت کی تبدیلی اور انصاف کی فراہمی کے وعدے سے اختلاف واعتراف سے قطع نظر اس ضمن میں ان کی جانب سے عملدرآمد کا انتظار تو ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جلد یا بد یراس امر کے سامنے آنے کا امکان ہے کہ جاری نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی ممکن نہیں جب ایسا ہی متوقع ہے اور نظام کی تبدیلی ہی مسائل کا حل ہے تو پھر کیوں نہ من حیث القوم اس فطری دین کے لاگوں کرنے اور ان قوانین کو نجات دہندہ بنائیں جو ہمارے دین، ہمارے عقائد اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسے عملی طور پر روبہ عمل لانے کیلئے بھی کوشاں ہو جائیں۔یکے بعد دیگرے صدارتی وجمہوری اور آمرانہ ادوار سبھی کا قوم کا تجربہ تلخ ہی رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

متعلقہ خبریں