Daily Mashriq


گربہ کشتن روز اول

گربہ کشتن روز اول

اگرچہ معاملات کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں جس کے بعد ہی الزام ثابت ہونے یا نہ ہونے کی نوبت آئے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ پر الزام لگا ہی کیوں؟ الزام بھی ایسے وقت لگا جب ابھی تحریک انصاف کی حکومت کی سہ ماہی بھی مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ وزیر مملکت میڈیا پر ایک عرصے تک تحریک انصاف کو جس انداز میں پیش کرتے آئے ہیں اور حکمرانوں کو شاہ خرچیوں کا وہ جو نقشہ کھینچتے رہے ہیں اس سے کسی طور یہ یقین نہیں آتا کہ جب ان کو موقع ملا تو انہوں نے ایک ساعت سوچے بغیر اپنی اورجماعت کی حکومت کو بدنام کرنے والے اقدام سے گریز نہ کیا۔ وزیر مملکت کو جس گھر کی تزئین و آرائش کی جلدی تھی ان سے پہلے بھی یہ گھر کسی کے استعمال میں تو ہوگا اور جن تعیشات کا نقشہ وہ میڈیاپر کھینچتے تھے اسی معیار کاہوگا پھر ان کو کیا ضرورت آپڑی تھی کہ نقش کہن کو مٹاتے مٹاتے خود کو تحقیقات کی زد میں لاکھڑا کیا۔ ایک جانب جہاں وزیر اعظم خود کو گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کو سادگی اور کفایت شعاری کا پابند بنانے کے بعد سول و ملٹری افسران کو سادگی و کفایت شعاری کی تلقین کرنے کی تیاری میں تھے کہ خود ان کی کابینہ کے ایک رکن کا سکینڈل سامنے آگیا جس پر مخالفین کی تنقید بجاہے۔ اس صورتحال کی وزیر اعظم کی جانب سے تحقیقات اور الزام ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیاگیا ہے۔ ہمارے تئیں وزیر اعظم کو صرف اس فرد کے خلاف ہی کارروائی کرنی چاہئے جنہوں نے فرمائش کی ہو باقی کو سخت وارننگ دینا کافی ہوگا کیونکہ سرکاری افسران کا دبائو میں آنا فطری امر تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اپنی صفوں میں جماعتی پالیسی سے عدم ہم آہنگ افراد پر نظر رکھنے اور ان عناصر کو بھی جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہوم ورک کئے بغیر پارٹی قیادت کو بعض معاملات میں غلط بریفنگ دی جسے بعد میں ممکن نہ بنایا جاسکا۔ چونکہ تحریک انصاف خود کو تطہیر پسند جماعت قرار دیتی ہے لہٰذا سب سے پہلے اسے یہ عمل اپنی صفوں سے شروع کرنا ہوگا تاکہ ایک مثال سامنے آئے اور سبھی کو سنجیدہ پیغام بھی ملے۔ وزیر اعظم نے گربہ کشتن روز اول والا کام نہ کیا تو پھر مزید بد معاملگیوں کاراستہ کھل جائے گا جسے بند کرنا آسان نہ ہوگا۔

ٹیچر ان کورٹ

احتساب عدالت میں ایک پراپرٹی ٹائیکون کو بلاکر پیزا کھلا کر رخصت کیاجاتا ہے اور معمر وائس چانسلر کو پابہ جولاں لایا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھی ہتھکڑی نہیں لگتی جبکہ چار سو افراد کے قتل کا الزام بھگتنے والے سابق ایس ایس پی رائو انوار کو تو عدالت عظمیٰ میں پروٹوکول سے لایا بھی گیا اور لے جایا بھی گیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ ہمارے ملک میں اولاً کوئی قانون ہے نہیں اور اگر ہے تو وہ ہماشما اور شریف شہریوں کے لئے ہے با اثر افراد کے لئے اولاً کوئی قانون ہے نہیں اور اگر ہے تو موم کی ناک۔ اس قسم کے عناصر قانون کو لونڈی بنا لیتے ہیں جس کا محولہ مثالوں سے واضح اظہار ہوتاہے۔ جہاں تک غیر قانونی بھرتیوں اور سکالر شپ پر بھجوانے کے معاملات ہیں بعید نہیں کہ ا لزام میں صداقت ہو لیکن محض الزام پر ایک معمر استاد کو پابجولاں لانا کیا ضروری تھا ان کو عدالت میں پیش کیا جاتا تحقیقات ہوتیں اور ثابت ہونے پر سزا دی جاتی یا بری کردیاجاتا۔ اگر سکالر شپ کے معاملات کی تحقیقات ملک بھر میں کی جائے اس ضمن میں سپریم کورٹ یا پشاور ہائیکورٹ دائرہ اختیار میں سو موٹو لے تو کچھ اس قسم کے انکشافات سامنے آئیں گے کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری افسران نے اپنے بچوں کو متاثرین زلزلہ کے لئے ملنے والے سکالر شپ پر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے بھجوائے یونیورسٹیوں میں بھی ایسا ہونا نا ممکن نہیں۔ ان معاملات کی ایچ ای سی کو بھی چھان بین کرلینی چاہئے اور جن لوگوں کو میرٹ کے بغیر بھجوایاگیا ہو ان پر خرچ ہونے والی رقم وصول کی جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نئے پاکستان میں قانون سب کے لئے برابر اور مساوی ہوگا اور تفریق و توہین اورتکریم میں بھی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔

متعلقہ خبریں