Daily Mashriq


نظامِ انصاف

نظامِ انصاف

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نظام ِ عدل کے بارے میں اکثر ریمارکس دیتے رہتے ہیں۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ کی سلور جوبلی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اور لاہور ہائی کورٹ کے نچلی عدالتوں کے بارے میں سپروائزی کمیٹی کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایک بار پھر اسی موضوع پر ریمارکس دیے ہیں۔ انہوںنے حضرت علی کا قول دہراتے ہوئے ایک عالمی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن معاشروں میں انصاف نہ ہو وہ مر جاتے ہیں۔ انہوں نے دوسری عالمی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ انصاف کے لیے چیخ رہے ہیں' مر رہے ہیں' بلک رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ زور عدالتی نظام پر دیا ہے اور کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر کی ایک وجہ عدالتی افسروں کی نااہلی اور کم کوشی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وکلاء سے مل کر سائلین کااستحصال کیا جاتا ہے۔ ممالک غیرمیں مقیم پاکستانیوں کے پلاٹوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور پھر ان مقدمات کے فیصلوں پر پندرہ پندرہ سال لگ جاتے ہیں۔ اب ججوںکا بھی احتساب ہو گا اور کم فیصلے کرنے والے ججوں کے خلاف آئین کی شق 209 کے تحت کارروائی ہو گی۔ یہ سب باتیں جو چیف جسٹس نے کہیں وہ زبان زد عام ہیں البتہ ان کایہ کہنا کہ کم فیصلے کرنے والے ججوں کے خلاف کارروائی ہو گی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عدلیہ کی بھی نگرانی ہو گی اور اس کے لیے کوئی طریق کار وضع کیا جائے گا یا پہلے سے موجود طریق کار کو بہتر بنایا جائے گا ۔کیوں کہ جج اگر کم کیسز کے فیصلے کرتے ہیں تو اس کے لیے بھی ان کے پاس قانونی جواز ہو گا اور اگر مقدمات کے فیصلے ہونے میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کا بھی کوئی جواز ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوانین اور ضوابط میں ان گنجائشوں کا جائزہ لیا جائے جن کے سہارے کم مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں یاسالہا سال مقدمات کی کارروائی ہوتی رہتی ہے اور انصاف میں تاخیر ہو جاتی ہے جب کہ اس تاخیر کو انصاف سے انکار گردانا جاتا ہے۔ اس لیے ایک طرف سارے نظامِ انصاف کا جائزہ لیا جانا ضروری ہونا چاہیے جو محض عدالتی افسروں تک محدود نہیں ہے۔ دوسری طرف سارے معاشرے میں عدل کی توقیر قائم کرنی ہو گی تاکہ تھر کے بچوں کوبھی زندگی کا بنیادی حق میسر ہو ' وہ بھوک سے نہ مریں۔ سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کو بھی تعلیم کا بنیادی حق میسر آ سکے اور بغیر علاج بیماری برداشت کرنے والوں کو بھی صحت کا بنیادی حق میسر آسکے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا ہے کہ حکومت کے ادارے اگر اپنے فرائض انجام دیں تو عدالتوں کے پاس اتنے مقدمات نہ آیا کریں۔ انصاف کی فراہمی کے حوالے سے یہ ایک اور نمایاں پہلو ہے۔ انصاف کے تقاضوں کے ساتھ بے انصافی حق زندگی اور حق تعلیم سے محرومی کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ ملک میں کئی نصاب پڑھائے جاتے ہیں ۔ اساتذہ کی ان نصابوں کی متقضیا ت پر حاوی ہونے کی صلاحیت جانچنے کاکوئی نظام نہیں۔ ہمارے بچوںکو میٹرک تک جو نصاب پڑھایا جاتا ہے کیا وہ دنیا میں اسی درجے کے بچوں کو پڑھائے جانے والے نصاب کے برابر ہے ۔ ایک مطالعہ کا ماحصل یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو ساٹھ سال قبل کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ نظام امتحانات اپنی جگہ انتہائی ناقص ہے۔ جب سی ایس ایس کے امتحان کے ہزارہا نوجوانوںمیں سے صرف چند سو پاس ہوتے ہیں تو ارباب اختیار کو سیاسی ہوں یا انتظامی' تشویش کیوں نہیںہوتی۔ جسے عرف عام میں دو نمبری کہا جاتا ہے وہ تعلیم کے دور سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر حصول ملازمت میں میرٹ سے جو روگردانی ہوتی ہے وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ رشوت اقرباء پروری اور سفارش کا کلچر ہمارے ہاں ایک حقیقت ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدل کی توقیر ہے تو ان تمام باتوں پر معاشرے کے قائدین کو تشویش ہوتی نظر کیوں نہیں آتی۔ پھر نظام انصاف جس میں پولیس کی نگرانی ' تفتیش ' ایف آئی آر ' گواہوں کے بیانات اور سرکاری اور غیر سرکاری وکلاء کی کارکردگی کا بڑا دخل ہے ' جج کے سامنے جو شواہد ' دلائل' قانونی نظیریں اور گواہیاں پیش کی جائیں گی وہ انہی کی روشنی میں فیصلہ دینے کا پابند ہے کیونکہ فیصلہ میں یہ سب کچھ ضبط تحریر میںلایا جاتا ہے ۔ مقدمات کی سماعت میں سست روی ایک اہم عامل ہے جو انصاف میں تاخیر یعنی رائج قول کے مطابق انصاف سے انکار کی صورت اختیار کرتا ہے۔ کم فیصلے کرنے والے ججوںکا احتساب اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے تاہم ججوں کے لیے ایسے قوانین اور ضوابط ہونے چاہئیں جن کی بنیاد پر وکلاء لمبی تاریخیں نہ لے سکیں۔ گواہوں کو پیش کرنے کی بھی کوئی مدت ہونی چاہیے ۔ جھوٹی گواہی محض جھو ٹ نہیں بلکہ پورے نظام انصاف کو فریب دینے کی کوشش ہے اس کی کڑی سزا ہونی چاہیے۔ جس تفتیشی افسر کی تفتیش ناقص ثابت ہوتی ہے اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ جس افسر کی ایف آئی آر عرف عام میں عدالت میں ٹوٹ جاتی ہے اس کا بھی احتساب ہونا ضروری ہے ۔ جو وکیل سرکاری تمام شواہد اورنظیریں پیش کرنے میں ناکام ہوتا ہے اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔ جس عدالتی افسر کے فیصلے اگلی عدالتوں میں ناقص قرار پاتے ہیں اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔عدم ثبوت کی بنا پر مقدمے خارج ہونا نظام انصاف کی کمزوری ہے۔ سزا کی طرح بریت بھی ثبوت کی بنا پر ہونی چاہیے۔ ان تمام تقاضوں کے پورا کرنے کے لیے کچھ ضوابط اور قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔ بار اور بنچ کو ایسی ترامیم پارلیمنٹ کو ارسال کرنی چاہئیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات وسیع ہیں۔ اگر اعلیٰ عدلیہ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ حکومتی ادارے کماحقہ اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے تو اس کی باضابطہ نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ حکومتی کارکردگی کی پارلیمانی نگرانی کو تقویت حاصل ہو۔

متعلقہ خبریں