Daily Mashriq


قصہ چار پانچ تصویروں کا

قصہ چار پانچ تصویروں کا

میرے سوشل میڈیا اکائونٹ میں چار پانچ تصویریں محفوظ ہیں۔ دو پرانی ہیں اور تین تصویریں نئی۔ پرانی تصویروں میں سے ایک کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ہے۔ دوسری سندھ پولیس کے ایس ایس پی رائو انوار کی۔ نئی تین تصاویر میں ایک پروفیسراکرم چوہدری کی ہے۔ دوسری سابق سینیٹر سید فیصل رضا عابدی کی اور تیسری تصویر میں ایک نہیں چند لوگ ہیں ان چند میں سے ایک ڈاکٹر مجاہد کامران سے ذاتی شناسائی ہے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں۔ چوہدری اکرم سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر۔ مجاہد کامران والی تصویر میں موجود تین دوسرے افراد بھی پنجاب یونیورسٹی کے سابق مگر بزرگ اساتذہ ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اور دوسرے بزرگ اساتذہ جس حالت میں کل عدالت لائے گئے اس پر صرف خون کے آنسو رویا جاسکتا ہے۔ سہاروں کے ساتھ چلتے بزرگ اساتذہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ تحریر لکھے جانے سے دو دن قبل سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر چودھری محمد اکرم کو بھی ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں پیش کیاگیا۔ جناب چودھری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے بیرون سرگودھا جو سب کیمپس قائم کرنے کی اجازت دی اس سے دو طرح کے مسائل پیداہوئے۔ اولاً تعلیمی زوال اور ثانیاً کرپشن۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اور ساتھی اساتذہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی تعیناتی کے عرصے میں اختیارات سے تجاوز کرکے لوگوں کو ملازمتیں دیں۔ آگے بڑھنے سے قبل یاد کر لیجئے جنرل پرویز مشرف کے دور میں اختیارات سے تجاوز اور ملازمتیں دینے کے یکساں الزام میں وسیم سجاد گھر بیٹھے رہے اور سید یوسف رضا گیلانی کو احتساب عدالت نے سزا سنا دی۔ وسیم سجاد کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟ جواب جناب پرویز مشرف کی بیعت میں پوشیدہ بلکہ ظاہر ہے۔ احسان اللہ احسان اپنی تصویر میں مسکرا رہے ہیں۔ اس مسکراہٹ پر فقیر راحموں کا تبصرہ لکھنے سے ادب کے ساتھ معذرت۔ حب الوطنی اور ایمان بھرشٹ ہونے کا خطرہ ہے اور بلا وجہ کی چاند ماری کا۔ہاں یہ پوچھنے کا البتہ ہمیں حق ہے کہ مقتولین اور خصوصاً اے پی ایس کے مقتولین کے ورثاء کے مطالبات کے باوجود اس پر مقدمہ چلانے میں کیا امر مانع ہے؟ بار دیگر معذرت۔ فقیر راحموں اس کی جو وجہ بتا رہا ہے وہ لکھ نہیں پا رہا۔ وجہ یہی کہ میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں جوش بھری جوانی کے دن تیس سال پیچھے رہ گئے۔ دوسری تصویر معطل ایس ایس پی رائو انوار کی ہے۔ ہتھکڑیوں کے بغیر سپریم کورٹ سے نچلی عدالتوں تک اس کی بھرپور پیشیوں کی رنگین تصاویر ہم سبھی وقتاً فوقتاً دیکھتے رہتے ہیں۔ رائو انوار پر درجنوں افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ کچھ ہلاک شدگان کی تعداد 400سے زیادہ بتاتے ہیں۔ مگر ریکارڈ 47افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتا ہے۔ ان 47 میں سے 16تو واقعتاتین کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے باقی کے 31 بارے تحقیقات کے ورقے غائب ہیں۔ لوگ کہتے ہیں وہ پولیس کی وردی میں کرائے کے قاتل تھے۔ حق خدمت پر مخالفین کا بندوبست کرنے والے دکاندار اور ان کی دکانداری چلی بھی خوب۔ ایک پولیس مقابلے کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد مفرور ہوئے پھر اسلام آباد میں اپنی مرضی کے ساتھ سپریم کورٹ میں اترے۔ عدالتی حکم پر گرفتار ہوئے کراچی لے جائے گئے۔ حوالات اور جیل کی بجائے گھر پر قیام فرمایا۔ کبھی ہتھکڑی نہیں لگائی گئی عزت دار پولیس آفیسر جو تھے۔ چلتے چلتے ایک اور تصویر پر بات کرلیتے ہیں۔ یہ جناب شہباز شریف کی تصویر ہے۔ نیب کے دفتر سے عدالت لاتے لے جاتے ہوئے بغیر ہتھکڑیوں کے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آشیانہ ہائوسنگ سکیم پراجیکٹ میں اختیارات سے تجاوز کیا یعنی احسان اللہ احسان' رائو انوار اور شہباز شریف لاڈلے ملزم ہیں۔ لاڈلے تو لاڈلے ہوتے ہیں۔ اب آتے ہیں چودھری محمد اکرم اور ڈاکٹر مجاہد کامران و دیگر اساتذہ کی ہتھکڑیوں والی تصاویر یا پھر دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے عالمی دہشت گرد فیصل رضا عابدی کی تصویر کی طرف۔ فیصل عابدی کی کبھی جمہوری مارشل لاء کے گیت اونچے سروں میں گاتے تھے۔ چودھری افتخار احمد کی کرپشن اور اقربا پروری اور ان کے صاحبزادے کی بھتہ خوری کے ناقد کے طور پر ابھرے اور نجی چینلوں کے محبوب ہوئے۔ ایک بات ہے جو کہتے تھے دستاویزاتی ثبوت میز پر رکھ کر کہتے تھے اب انہیں سر پرستوں نے بے یار و مدد گار چھوڑ دیا۔ لیکن ان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی نجانے کس کے حکم اور کسے خوش کرنے کے لئے پہنائی گئی۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ پر اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے۔ ایسا ہی الزام شہباز شریف پر بھی ہے۔ پھر شہباز شریف کو ہتھکڑی کیوں نہیں لگائی گئی اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر و دیگر اساتذہ کو جیب کتروں کی طرح ہتھکڑیاں کیوں لگائی گئیں؟ بے حس معاشرے میں سب جائز ہے۔ جناب چودھری اکرم ہوں' ڈاکٹر مجاہد کامران یا دوسرے بزرگ اساتذہ ان پر الزامات ہیں۔ ان الزامات کی تحقیقات اور حتمی نتائج ہر دو کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ ان اساتذہ کو گرفتاری سے قبل صفائی کا موقع ملنا چاہئے تھا۔ مجرم ثابت ہوتے تو گرفتاری عمل میں لائی جاتی۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ ہتھکڑیاں پہنے ان اساتذہ کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے کی خصوصی اجازت بلکہ یوں کہیں کہ خصوصی کوشش کی گئی۔ کس نے کس کے حکم پر یہ سب کیا ہمیں سوال پوچھنے کا حق ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر چودھری اکرم' ڈاکٹر مجاہد کامران اور دوسرے اساتذہ کو الزامات کی تفصیل والا سوالنامہ کیوں نہیں دیا گیا۔ وہ خود پر عائد الزامات کا ایک ایک کرکے جواب دیتے متعلقہ ادارے مطمئن نہ ہوتے تو ثبوت سامنے رکھ کر گرفتاری عمل میں لائی جاتی۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور جو ہوا وہ اچھا ہر گز نہیں۔ جرم ثابت ہوتا ہے تو بلا تفریق کارروائی کیجئے۔ جرم ثابت ہونے سے قبل تیسرے درجہ کے مجرموں جیسا سلوک کسی بھی طور درست نہیں۔ کیا ہم توقع کریں کہ احسان اللہ احسان اور رائو انوار کے دودھ سے دھلے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالی جاسکیں گی؟۔

متعلقہ خبریں