Daily Mashriq


سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت

سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت

اگر ہم پاکستان کی جُغرافیائی حیثیت پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا جُغرافیائی محل وقو ع انتہائی اہم ہے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2340 کلومیٹر طویل سرحد ہے چین کے ساتھ پاکستان کی سرحد 596 کلومیٹر، بھارت کے ساتھ 2240 کلومیٹر ، لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر اور ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 909 کلومیٹر طویل ہے جبکہ پاکستان کا واخان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی رابطہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان انتہائی اہم جُغرافیائی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان روس کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ یہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے گیٹ وے کا کر دار ادا کر رہا ہے ۔ سی پیک پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے مگر اب سعودی عرب کی بھی خواہش ہے کہ سی پیک میں شراکت دار بنے۔ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت نے سعودی عرب کو با ضابطہ پیش کش بھی کی اور سعودی عرب نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ بھی سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کو اپنی اقتصادیات کو ٹریک پرلانے کے لئے 10ارب ڈالر کی شدید ضرورت ہے اگر یہ امداد کسی مالیاتی ادارے ، دوست ملک سے نہ ملی تو پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر رہ گئے جو جنوبی ایشیاء میںبھارت، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، نیپال ، مالدیپ اور بھوٹان سے کم اور افغا نستان سے صرف ٥٠٠ ملین زیادہ ہیں۔ کل ڈالر کا ریٹ 137روپے تک پہنچ گیاتھا اور خدشہ ہے کہ کچھ دنوں بعد یہ 150 سے تجاوز کرجائے گا۔ سعودی عرب نے بلو چستان کے شہر گوادر میں آئل سٹی بنانے کی خوا ہش ظاہر کی ہے۔ مگر سعودی عرب کے سی پیک میں شامل ہونے یا کرنے پر ایران کو سخت تشویش ہے کیونکہ گوادر شہر ایران کے بالکل قریب ہے اور ایران کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کے سی پیک منصوبے میں شرکت کی وجہ سے ایران کے مفادات کو نُقصان پہنچے گا۔ ایک طرف اگر ایران ، سعودی عرب کے سی پیک منصوبے میں شامل ہونے سے پریشان ہے تو دوسری طرف چین کو بھی تشویش ہے کہ سعودی عرب کو انکی مر ضی اور پوچھے بغیر کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔ ایران اور چین دونوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب یہ سب کچھ امریکہ کے ایما پر کر رہا ہے۔ ایک طرف اگر امریکہ اور دیگر یو رپی ممالک چین کی تیزاقتصادی ترقی کو دیکھ نہیں سکتے اور انکی کوشش ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کو ہر صورت روکا جائے تو دوسری طرف سعودی عرب گوادر میں تیل صاف کرنے کے کا رخانے لگا کر ایرانی تیل کی سپلائی اور دوسرے ممالک کے تیل کے خریدار کم کرنے کی کو شش میں ہے۔ کیونکہ جب اس خطے میں تیل کی ریفائنریز لگیں گی تو اس سے ایران کی تیل کی فروخت کم ہوجائے گی۔ ایران اور چین دونوں کو تشویش ہے کہ یہ سب کچھ سعودی عرب امریکہ کے کہنے پر کر رہا ہے اور امریکہ کی پشت پر سعودی عرب کی اس حکمت عملی کا اصل ٹا رگٹ یہ دونوں ممالک ہیں۔ اس وقت پاکستان ایک مشکل اور گمبھیر صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان مالی بُحران کا سامنا کر رہا ہے مگر ساتھ ساتھ پاکستان کو سوچ سمجھ کے فیصلے کرنے چا ہئیں کیونکہ کوئی بھی ایسی بات جس سے ایک طرف چین اور ایران نا خوش ہوں یا اس کو تشویش پائی جاتی ہو تو اس سے پاکستان کو نُقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب اگر غور کیا جائے تو پاکستانی لیڈر شپ اتنی دور اندیش نہیں جو عقل ، سمجھ بوجھ اور فہم سے فیصلے کریں۔ کیونکہ ایران اور چین دونوں کو نا راض کرنا پاکستان اور پاکستانیوں کی حمایت میں بھی نہیں۔ہمیں امریکہ یا کسی کو خوش کرنے کے بجائے فیصلے اپنے مفاد میں کرنے چاہئیں۔کیونکہ جو ممالک فیصلے اپنے مفاد میں نہیں کرتے وہ ممالک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ ماضی میں ہم نے فیصلے امریکہ اور کسی دوسرے کو خوش کرنے کے لئے کئے جسکو ہم اب بھی بھگت رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت حکمرانوں کی کرپشن اور بد عنوانیوںکو بھگت رہے جسکی وجہ سے عوام پر بے تحا شا ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا مگر آئندہ دنوں میں آئی ایم ایف کے قرضے کے بعد غریب عوام پر مزید ٹیکس لادا جائے گا۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سعودی عرب، چین، امریکہ، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو دیکھنے کے بجائے پانامہ لیکس میں ملوث لوگوں اور جس کے ہائی پروفائل کیس نیب میں پڑے ہوئے ہیں اُن سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں