Daily Mashriq


مجھے انتظار ہے

مجھے انتظار ہے

میں پریشان تھی ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔ ڈالرکا ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگاہے ۔ یہ لوگ جنہیں ہم نے تبدیلی کے نام پر منتخب کیا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہماری پریشانیوں سے واقف نہیں ۔ پھر میں ان کی آوازیں سُنتی ہوں جو ان کے مخالف ہیں ۔ وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں ، انہیں ملک چلانا نہیں آتا ۔ ان کے دعوے بھی درست نہ تھے ۔ وہ اپنی ہی باتوں سے پھر جاتے ہیں ۔میں دل مسوس کر رہ جاتی ہوں ۔ کیوں تبدیلی نہیں آرہی ۔ پاکستان کب ٹھیک ہوگا ۔ کب ہماری زندگیوں میں آسانی آئے گی ۔ کب کوئی ایسا رہنماہوگا، جوو اقعی اس ملک کو راہ دکھانے والا ثابت ہوگا ۔ میں اور میری جیسی کتنی ہی مائیں جنہیں نہ اس ملک کی سیاست میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ سیاست دانوں کی لوٹ کی داستانوں کو چٹخارے دار کہانیاں سمجھ کر دہراتی ہیں، جو محض اپنے بچوں کے لیے ایک اچھا معاشرہ چاہتی ہیں ، جوابھی تک اپنی بچیون کو سمجھاتی ہیں کہ بڑوں کے سامنے نظر نیچی رکھی جاتی ہے۔ جنہیں آج بھی یہ فکر ہوتی ہے کہ میرا بچہ مسجد نماز پڑھنے کیوں نہیں جارہا ۔ جو اپنے بچوں کے خون میں اس ملک سے محبت بھرتی ہیں ۔ جن کے لیے آج اپنی اقدار کی پاسداری میں ہی خوبصورتی ہے ۔ جو ماڈرن دکھائی دینے کے باوجود بھی بنادوپٹہ گھومنے کا نہیں سوچ سکتیں ۔ ان مائوں کے لیے اس پاک سر زمین کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ باپ جو آج بھی اپنے بچوں کو یہ کہانی سناتے ہیں کہ ان کے آباء کس طور اس ملک کی حفاظت کے لیے کٹ مرے تھے ۔ اور اس ملک کے قیام سے پہلے ان کے آباء پر کیسے کیسے ظلم نہ ڈھائے جاتے تھے ۔ جو آج بھی اپنے بچوں کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں اس ملک سے محبت اور آزادی کی قدر کی جگمگاہٹ چاہتے ہیں ۔ وہ باپ اپنے بچوں کو ہر دسمبر میں 1971ء کی یاد دلا تے ہیں ۔ اپنے دشمن کا نشان بتاتے ہیں ، ان لوگوں نے اس ملک کی فلاح اور سلامتی کی روز دعائیں مانگی ہیں ۔ انہی لوگوں نے تبدیلی کی خواہش کی ہے اور اس تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے ۔ وہ لوگ گھبراجاتے ہیں ۔ کیونکہ جب کوئی انہیں یہ کہتا ہے کہ گزشتہ حکومتیں اس لیے اچھی تھیں کیونکہ اگراس ملک کے خزانے میں سے اپنی خواہش کی جھولیاں بھرتی تھیں تو اس ملک کے لیے بھی کام کرتی تھیں اور یہ سادہ لوح لوگ، اس بات پر خاموش ہو جاتے ہیں ، کچھ جھینپ جاتے ہیں ۔ دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں ۔ اس وقت میرا دل چاہتا ہے کہ ان کے کاندھے پر تھپکی دوں ، انہیں کہوں ذرا آنکھیں اور دماغ کھول لیجئے ۔ یہ کہاں کی عقلمندی کی بات ہو رہی ہے ۔ یہ منطق ہی حیران کن ہے ۔ اس ملک کے وزیراعظم نے ایک مقامی سکول میں ،اس سکول کے بچوں کے ساتھ مل کر ایک صاف اور سرسبز پاکستان مہم کا آغاز کیا ہے ۔ وہ وزیراعظم جو ایک سادہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا اور بچوں سے سوال کررہا تھا کہ انہیں درخت کیوں لگانے چاہئیں۔ ان درختوں کے لگائے جانے سے اس ملک کو کیا فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔ جوبچوں کو بتارہا تھا کہ درختوں کی کیاافادیت ہے اور خود ان بچوں کا مستقبل کس خطرے کا شکار ہے ۔ وہ ان بچوں کے دلوں میں ماضی کی یاددلا کر ایک نیا جذبہ جگا رہا تھا ۔ جو انہیں بتارہا تھا کہ وہ بچے کس قدر اہم ہیں انہیں بچوں نے پہلے اس ملک کو شوکت خانم کینسر ہسپتال بنا کر دینے میں مدد کی تھی ، آج یہ بچے ملک میں صفائی اورسبزے کا باعث بنیں گے ۔ ان بچوں کی چمکتی آنکھوں میں خواب بھر رہا تھا ۔ انہیں عزم کی افادیت سمجھا رہا تھا ۔ وہ انہیں خوف سے نکال کر ایک نئے اور بہتر ، صاف ستھرے اور خوبصورت پاکستان کی جانب لے کرجارہا تھا ۔اور اس ایک لمحے میں ، میرے سینے میں دھڑکتا دل مطمئن ہو گیا ۔ میں بحیثیت ماں مطمئن ہوگئی ۔ ٹیڑھی میڑھی ، دلیل سے بہت دور اور عقل سے تقریباً عاری منطق کی تو ہمیں عادت ہے۔ سو اس حکومت سے اپنی وابستگی کی کوئی ایسی ہی منطق ہم ڈھونڈ لیں گے ۔ لیکن آج تک کسی وزیراعظم نے میرے ملک کے بچوں کے لیے ایسا کوئی کام نہیں کیا آج تک کسی عظیم الشان وزیر اعظم نے یوں ہمارے بچوں کو ان کے اپنے ہی مستقبل سے آگاہ نہیں کیا ۔ آج تک کسی نے انہیں کسی مستقبل کے خواب دیکھنے کے لئے مہمیز نہیں کیا ۔ کسی وزیراعظم نے بچوں کو یہ نہیں بتایا کہ پاکستان یورپ سے بہتربن سکتا ہے ۔ اس ملک میں اب دوسری نسل ادھیڑ عمر کی جانب گامزن ہے ، جن لوگوں نے اس ملک سے منہ پھیرنے میں عمریں بتائی ہیں جنہوں نے یورپ اور امریکہ میں جانے کے خواب دیکھے ہیں ۔ اس ملک کے حوالے سے پہلی بار تو کسی نے خواب دکھا یا ہے ۔ ہمیں یہ بتا یا ہے کہ یہ ملک سریے اور سیمنٹ کا ڈھیر بنانے کی ضرورت نہیں ۔ اسی ملک کو خوبصورت بنایا جا نا چاہیئے ۔ اس ملک کو صاف ہونا چاہیئے ۔ مجھے اس شخص کی باتوں پر یقین آتا ہے ، کیونکہ میں جانتی ہوں ، وزیراعظم سیکریٹریٹ میں اب رات سات بجے تک کام ہوتا ہے اور وزیراعظم کو دن میں محض ایک پیالی سوپ دیا جاتا ہے۔ مہمانوں کی تواضع ایک پیالی چائے سے ہوتی ہے ۔ ان سارے اقدامات کا تاثر نفسیاتی ہے ۔ میں اب یہ یقین رکھتی ہوں کہ یہ لوگ اس ملک کو لوٹیں گے نہیں ۔ اور یہ یقین مجھے ہر روز ایک نئی توانائی بخشتا ہے ۔ اگر انہیں حکومت کرنی نہیں آتی تو یہ سیکھ لیں گے ۔ اور تب اس ملک کی تقدیر بدلے گی ۔ مجھے بس اسی دن کا انتظار ہے ۔ اب میں پریشان نہیں ۔ میں منتظر ہوں ۔

متعلقہ خبریں