Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عسقلانی اپنی مشہور زمانہ کتاب ''فتح الباری''میںنقل کرتے ہیں :ابوبکر رازی اصبہان میںحدیث نبویۖ کی تعلیم کے لئے ابو نعیم کے پاس تھے ۔ وہاں ایک شیخ تھے، جنہیں ابو بکر بن علی کہا جاتا تھا۔ وہ وہاں کے سب سے بڑے مفتی تھے ۔ ایک مرتبہ سلطان نے ان کے کسی فتوے سے ناراض ہو کر انہیں قید میںڈال دیا ۔ ابو بکررازی نے خواب میں نبی کریمۖ کو دیکھا ۔ آپۖ کے دائیں جانب جبریل تھے ، جو مسلسل اللہ تعالیٰ کی تسبیحات بیان کررہے تھے ۔ نبی کریمۖ نے مجھ سے فرمایا: ابو بکر بن علی سے کہو، صحیح بخاری میں موجود دعائے کرب پڑھو۔اللہ تمہیں اس مصیبت سے رہائی دلا دے گا۔ ابو بکر رازی نے اگلے ہی دن صبح سویرے اپنے خواب کی تفصیلات شیخ ابو بکر بن علی تک پہنچادیں ۔ شیخ نے دعائے کرب پڑھنی شروع کردی ۔ تھوڑی دیر بعد سلطان کو خیال آیا کہ اس نے شیخ کو ناحق قید کر کے زیادتی کی ہے ۔ چنانچہ اس نے انہیں اس حبس بے جا سے رہا کرنے کے احکام جاری کر دیئے ۔ (فتح الباری:152,151/11)

حضرت ابن عباس نے دعائے کرب والی حدیث کو رسول اکرمۖسے اس طرح روایت کیا ہے :''اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ عظیم اور بردبار ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، وہ عرش عظیم کا رب ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبودبر حق نہیں ، وہ آسمانوں ، زمین اور عرش کریم کا رب ہے''۔

(صحیح البخاری،حدیث6346)

قاضی سید علی محمد متوفی1070ھ اولیائے کرام کی صف میں بڑا مقام رکھتے ہیں ، ایک مرتبہ ان کو اطلاع ملی کہ ہجاپور(ایک جگہ کا نام ہے ) کے ایک دولت مند نے اپنے مکان میں متصلہ مسجد کو بھی شامل کر لیا ہے ، عام مسلمان بے چارے اس کی دولت وقوت کی وجہ سے دم بخود ہیں ،قاضی صاحب نے اس دولت مند کو ایک خط لکھا، جس میں یہ آیت بھی درج کی ، جس کا ترجمہ ہے : اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے ، جس نے خدا کی مساجد میں رکاوٹ ڈالی کہ ان میں خدا کانام لیا جائے اور ان کو اجاڑنے کے درپے ہو۔ اس آیت کا اثر یہ ہو اکہ اس شخص نے مسجد کو اپنے مکان سے الگ کردیا ۔

(ناقابل فراموش تاریخ کے سچے واقعات،ص،121)

علامہ ابن عابدین شامی نے حضرت ہشام کلبی سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار حافظہ کی تیزی کا ثبوت بھی ایسا دیا کہ شاید کسی نے نہ دیا ہو اور ایک مرتبہ مجھ سے بھول بھی ایسی ہوئی کہ شاید کسی سے نہ ہوئی ہو ، میرے حافظہ کی تیزی کا تو یہ عالم تھا کہ میں نے قرآن کریم صرف تین دن میں یاد کرلیا تھا اور بھول ہوئی تو ایسی ایک دن میں خط بنانے بیٹھا ، داڑھی کو مٹھی میں لے کر نیچے کے بال کاٹنا چاہتا تھا ، مگر بد حواسی میں مٹھی سے اوپر کے بال کاٹ ڈالے اور پوری داڑھی ہاتھ میں آگئی۔

(ردالمختار)

متعلقہ خبریں