Daily Mashriq

ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے شام نے شمالی حصے میں فوج بھیج دی

ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے شام نے شمالی حصے میں فوج بھیج دی

دمشق: شام کی سرکاری خبر ایجنسی صنعا نیوز کا کہنا ہے کہ شام نے ترکی کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی حصے میں اپنی فوج بھیج دی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق صنعا نیوز نے بتایا کہ ’ شامی فوجی ترک حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی حصے کی جانب روانہ ہوگئے‘۔

تاہم صنعا نیوز نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک کُرد عہدیدار نے کہا تھا کہ ’ کردوں اور شامی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں‘۔

کُرد عہدیدار نے کہا تھا کہ ’ ترکی کی جانب سے حملوں کے پیش نظر تمام آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہے، دمشق حکومت اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے‘۔

گزشتہ روز شام کے شمالی علاقوں میں انقرہ کے حملوں کے پانچویں روز امریکا کی جانب سے ایک ہزار فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد ترک فورسز نے شام میں مزید پیش قدمی کی تھی۔

ترک حمایت یافتہ فورسز نے بین الاقوامی سطح پر انقرہ کی جانب سے آپریشن پر تنقید کے باجود گزشتہ روز سرحد پر اہم پیش قدمی کرتے ہوئے لڑائی جاری رکھی۔

خیال رہے کہ شام کے شمالی حصے میں حالیہ حملوں میں جنگجوؤں اور شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

شمالی علاقے میں موجود کُرد انتظامیہ کہا کہ بے گھر افراد کے کیمپ کے قریب ترکی کی بمباری کے نتیجے میں داعش سے وابستہ افراد کے 800 کے قریب رشتہ دار فرار ہوگئے۔

خیال رہے کہ کُرد حکام اور غیر ملکی طاقتوں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ترکی کے حملوں کے نتیجے میں داعش کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے اور جہادیوں کو قید سے آزادی مل سکتی ہے۔

شامی مبصر گروپ برائے انسانی حقوق نے کہا کہ گزشتہ روز شام کے شمال مشرقی علاقے میں شہریوں اور صحافیوں پر مشتمل گاڑیوں پر ترک فضائی حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے جن میں ایک صحافی بھی ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔

ترک حملوں میں اب تک شامی سرحد پر کم از کم 60 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ترک رپورٹس کے مطابق ترکی کی جانب کردوں کی شیلنگ کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہوئے۔

مبصر گروپ نے کہا کہ انقرہ کے حمایت یافتہ جنگجووں نے 2 روز قبل شام کے قصبے تل ابیض میں 9 شہریوں کو پھانسی دے دی تھی۔

کُرد انتظامیہ کے مطابق جن شہریوں کو قتل کیا گیا ان میں کردش جماعت کی عہدیدار اور ان کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔

دوسری جانب امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترک حملے نہیں روکے گئے تو 8 برس سے جنگ کا شکار ملک شام میں ایک اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے شام میں کردوں، جسے وہ دہشت گرد قرار دیتا ہے، کے خلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا، جبکہ ٹرمپ کے فیصلے کو واشنگٹن میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔

ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجوؤں نے بھی ‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’ کے مترادف قرار دیا تھا، تاہم امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا۔

ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو 'دہشت گرد' ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے چند روز قبل فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں