Daily Mashriq


کان کنوں کو یقینی موت میںدھکیلنے کا نوٹس لیا جائے

کان کنوں کو یقینی موت میںدھکیلنے کا نوٹس لیا جائے

بلوچستان کے بعد کوہاٹ میں کوئلے کے کان میں کام کرنے والے محنت کشوں کا اسی نوعیت کے حادثے میں جاں بحق ہونے کا واقعہ دلدوز بھی ہے اور افسوسناک بھی، اس سے بھی افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کان کنی کو محفوظ بنانے کے اقدامات کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ محکمہ محنت وافرادی قوت جس طرح صنعتی محنت کشوں کے استحصال پر آنکھیں بند کئے ہوئی ہے اسی طرح کان کنی کے خطرناک طریقوں کے اختیار کئے جانے پر بھی معترض نہیں ہوتی جس کی وجہ سے محنت کش چند روپے کے بہتر معاوضے کی لالچ میں جاں گنوانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ کان کنی کا پیشہ معیوب نہیں مگر اسے محفوظ بنانے کی بجائے پرخطر بنانا معیوب ہے۔ اس سے افسوسناک بات کیا ہوگی کہ کان کنوں کو وہ بنیادی تکنیکی سہولیات نہیں دی جارہی ہیں جس کے ذریعے اس پیشے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے کو تو حادثہ قرار دیا جا سکتا ہے یا پھر کوئلے کی کان کے بیٹھ جانے کو بھی حادثہ ہی گردانا جا سکتا ہے اک قسم کے حادثات میں جاں گنوانے والوں سے قطع نظر کان کنوں کی سوفیصد تعداد حادثے سے محفوظ رہنے کی صورت میں بھی موت کے منہ میں ہوتی ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس اور ضروری ساز وسامان کے استعمال کی بجائے جس ماحول اور جس فضا میں کان کنی ہو رہی ہے اس سے مزدوروں میں سانس کی بیماری اور تپ دق کا عارضہ لازمی لاحق ہوتا ہے۔ محنت کش مختلف قسم کے انفکشنز اور پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں جس میں کینسر جیسا موذی مرض بھی شامل ہے۔ گویا صرف حادثات ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ماحول ہی انسان کش ہے جسے انسان دوست بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ شانگلہ کے علاقے کے محنت کشوں کی ہمت کو داد دی جائے یا ان کی موت کا ماتم کیا جائے کہ وہ آئے روز درجنوں جنازے دفنانے کے باوجود پھر ان کانوں میں کام کرنے کی ہمت کر بیٹھتے ہیں ۔ صوبائی حکومت کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور جب تک معدنیات کے مالکان کارکنوں کو محفوظ ماحول میں کام کے انتظامات نہیں کرتے تب تک کوئلے کی کانوں کو سیل کر دیا جائے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

دو، دو سرکاری رہائش گاہیں رکھنے کا مسئلہ

خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سرکاری افسران کے دو، دو سرکاری رہائش گاہیں رکھنے سے دیگر افسران کو رہائش کی سہولتوں سے محرومی کا سامنا نیا نہیں دیرینہ مسئلہ ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں اس وقت کئی ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اعلیٰ افسران کے پاس دو، دوسرکاری رہائش گاہیں موجود ہیں جبکہ درجنوں حقدار افسران گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری رہائشگاہوں کے حصول کیلئے انتظار کررہے ہیں۔ کئی سرکاری افسران نے اپنے فیلڈ ایریا میں سرکاری رہائش گاہیں رکھنے کیساتھ ساتھ پشاور میں بھی سرکاری رہائشگاہیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں جس سے حقدار افسران کی حق تلفی ہورہی ہے، جس کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ سرکاری رہائش گاہ اصولی طور پر ہر افسرکے متعلقہ ضلع اور مقام تعیناتی پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ قانونی اور غیر قانونی طور پر جو سرکاری افسران ایک مرتبہ پشاور میں سرکاری رہائش گاہ حاصل کرتے ہیں اس کے بعد خواہ جہاں تبادلہ ہو اور جتنے عرصے کیلئے پشاور سے باہر تعیناتی ہو پشاور میں سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کرتے اکثر کے رشتہ دار ان رہائشگاہوں میں مقیم ہوتے ہیں جبکہ بعض نے خفیہ طور پر کرائے پر بھی دے رکھے ہیں۔ اس صورتحال کے تدارک کیلئے سرکاری رہائش گاہوں کا ایک جامع سروے کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ کتنے افسران ناجائز طور پر قابض ہیں جن کیخلاف متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے جو انتظامی افسران دو دو جگہ سرکاری رہائش گاہیں استعمال کرنے کے مرتکب پائے جائیں ان سے ڈبل ہاؤس رینٹ کاٹ کر ایک خالی کرنے کا نوٹس دیا جائے تاکہ عرصہ دراز سے الاٹمنٹ کے منتظر حقدار افسران کو بھی گھر الاٹ کئے جا سکیں ۔ ایسی جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ بغیر میرٹ پر سرکاری رہائش گاہ حاصل کرنے کا تدارک ہو سکے۔ سرکاری ملازمین کے رہائش گاہوں کی کمی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی طرف توجہ اور اس کا حل تلاش کرنے پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہئے تاکہ سرکاری ملازمین کے رہائشی مسائل حل ہوں اور وہ یکسو ہو کر اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دینے پر توجہ دے سکیں۔

متعلقہ خبریں