Daily Mashriq


نئی بجٹ تجاویز

نئی بجٹ تجاویز

مسلم لیگ ن کی سابق حکومت کے منظور کردہ بجٹ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ انتخابات کے سال کا بجٹ تھا اور مسلم لیگی حکومت نے اس میں معیشت کی صورتحال کے تقاضوں کے برعکس ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کچھ مراعات دیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ تحریک انصاف کی نئی حکومت نے اگر اس بنا پر بجٹ کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے سال کی باقی مدت کیلئے اپنا بجٹ لانے کی تیاری کی ہے تو وہ بھی سمجھ میں آنیوالی بات ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو معیشت کی مشکلات کا ادراک تھا جس کی بنا پر اس نے ایمنسٹی سکیم جاری کی لیکن اس کی نظر میں شاید یہ بات نہ تھی کہ یہ ایمنسٹی سکیم انتخابات کے نزدیک جاری کی جا رہی ہے اسلئے ایمنسٹی سکیم میں شامل نہ ہونیوالوںکو کوئی امید ہو سکتی تھی کہ ایمنسٹی کے فوائد حاصل کرنیوالوں کیخلاف کارروائی شاید نہ ہو سکے اور اگر مسلم لیگ ن کے سوا کسی دوسری پارٹی کی حکومت آجائے تو ممکن ہے کہ ایمنسٹی سے فائدہ نہ اٹھانے پر حکومت کا ردِعمل مختلف ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت ان دعوؤں کیساتھ برسراقتدار آئی ہے کہ ’’لوٹی ہوئی دولت‘‘ ملک میں واپس لائی جائیگی۔ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائیگا۔ یہ دونوں وعدے اور دعوے طویل المدت کارکردگی کا تقاضا کرتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت کو جو کچھ ترکے میں ملا ہے اس میں اہم ترین فوری طور پر غیر ملکی قرضوں کی واپسی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ادائیگیوں کیلئے 9ارب ڈالر کم پڑ رہے ہیں۔ اس گمبھیر صورتحال سے گلوخلاصی ہوگی تو باقی وعدوں کی طرف دھیان دیا جائیگا۔ اوپر سے امریکہ نے پاکستان کی تین سو ملین ڈالر کی کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی روک دی ہے اور امریکی وزیرخارجہ نے جولائی میں آئی ایم ایف کو انتباہ کر دیا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ذریعے امریکی ڈالروں کی امداد پر امریکہ کو تحفظات ہیں کیونکہ یہ امریکی ڈالر چین کو قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال ہونگے۔ کون نہیں جانتا کہ آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں پر امریکہ کا کتنا اثر ہے۔ یہ اندازہ بھی سب کو ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ کرنا امریکہ کی پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ اس صورتحال میں حکومت پاکستان کو ایک ایک پیسے کی ضرورت ہے خواہ وہ دوست ملکوں کی امداد کے ذریعے آئے خواہ وہ اندرون ملک عوام سے وصولیاں کر کے آئے تاکہ غیر ملکی قرضوں کی قسطیں ادا کی جاسکیں۔ سٹیٹ بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر کے قریب بتائے جارہے ہیں جبکہ ادائیگی کیلئے اٹھارہ ارب ڈالر درکار ہیں۔ یہ بہت بڑی مشکل ہے جس کیلئے تحریک انصاف کی حکومت پاکستانی عوام ہی کی طرف دیکھ سکتی ہے اور اسے پاکستان کے عوام کی شرکت حاصل کرنے کیلئے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا۔ اس تناظر میں بجٹ میں ترمیم کا فیصلہ قابلِ قبول ہونا چاہئے لیکن اس فیصلے کے نفاذ سے پہلے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس فیصلے کیلئے عوام کی حمایت اور آمادگی حاصل کرے۔ پاکستانی ایک غریب ملک کے باشندے ہونے کے باوجود خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے دنیا کی چند چوٹی کی قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے نئے بجٹ میں اگر ان کیلئے مشکلات آئیں گی تو وہ انہیں برداشت کر لینگے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کو جو جمہوریت‘ شفافیت اور حکومت کے منصوبوں میں عوام کی شرکت کے نعروں کی بنا پر قائم ہوئی ہے اسے عوام کے پاس جانا چاہئے‘ انہیں قائل کرنا چاہئے کہ ان کا ملک کیسی معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ حکومت کو کیوں سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جن کا اثر عوام پر پڑیگا۔ کہا جا رہا ہے کہ نئی بجٹ تجاویز کے تحت 16سو اشیاء کے بھاؤ بڑھانے کے امکانات ہیں۔ موبائل فونز کی درآمد اورآٹے کی برآمد پر ٹیکس بڑھایا جائیگا۔ درآمدی اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز میں امید کی جانی چاہئے کہ بچوں اور بیماروں کیلئے استعمال ہونیوالی اشیاء پر ٹیکس نہیں بڑھایا جائیگا۔ روزمرہ ضروریات کی اشیاء کا بھاؤ نہیں بڑھایا جائیگا اور تعیشات ہی پر ٹیکس بڑھایا جائیگا۔ اس طرح سولہ سو اشیاء کی فہرست پر نظرثانی کرنا ضروری ہوگا کیونکہ پہلے ہی عوام مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ بجلی کا نرخ بڑھانے کی بھی تجویز ہے جس کا اثر بہت سی اشیاء کے نرخوں پر پڑیگا، الغرض 400ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز کی شنید ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں بھی کٹوتی کی شنید ہے اس سے زیرعمل منصوبوں کی تکمیل کی رفتار کم ہو سکتی ہے اور ان کی کل لاگت میں اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اس حوالے سے احتیاط اور دور رس نظر کی ضرورت ہونی چاہئے۔ ٹیکس گزاری کی حد ایک لاکھ ماہانہ سے 66ہزار روپے ماہانہ تک لانے کی تجویز ہے۔ اس سے سرکاری ملازمین سے تو آسانی سے ٹیکس وصول کر لیا جائیگا لیکن پرائیویٹ سیکٹر میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے میں اس خدشہ کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھل سکتا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافے اور وصولی میں عوام کی شرکت اور حمایت حاصل کرنے کیلئے حکومت کو براہ راست عوام سے مخاطب ہونا چاہئے۔ یہ شرکت اور حمایت حاصل ہو سکتی ہے اگر حکومت عوام کو یہ یقین دلا سکے کہ اس طرح حاصل ہونیوالی آمدنی واقعی بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور قومی ضروریات پر صرف ہوگی۔ عوام کی شرکت اور حمایت حاصل ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتوں پر عوام کا عدم اعتماد رہا ہے۔ امید ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بڑی حد تک وزیراعظم عمران خان کے اس وعدے پر عوام کا یقین حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی کہ وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کریں گے‘ اس کیساتھ ساتھ یہ ضروری ہوگا کہ یہ تاثر قائم نہ ہو پائے کہ بعض لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور بعض سے نہیں۔ اس حوالے سے یہ ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراوانی نظرآئے۔ یہ کام مشکل ہے لیکن اصل میں یہی کام حکومت کے کرنے کا ہے اس میں جو کامیابی حاصل ہوگی وہ ہر میدان میں کامیابی کی ضمانت ہوگی۔

متعلقہ خبریں