Daily Mashriq


سچا قلم مزدور ، الیاس شاکر

سچا قلم مزدور ، الیاس شاکر

یاد پڑتا ہے یہ سال 1973ء کے کسی مہینے کے دن تھے جب مرحوم الیاس شاکر سے پہلا تعارف ہوا تھا۔ تعلیم و روزگار کیلئے سفید پوش گھرانوں کے ہم سے محنت کشوں کیلئے کراچی تب جنت ہوا کرتا تھا۔ بعض تعلیمی اداروں میں تو تین شفٹوں میں تعلیمی سرگرمیاں ہوا کرتی ہیں۔ صبح‘ دوپہر اور شام پھر چند ایک ایسے تعلیمی ادارے بھی تھے جہاں شام آٹھ بجے تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوتیں اور لگ بھگ گیارہ بجے اختتام، امن‘ روشنی‘ علم دوستی اور روزگار کے قدم قدم پر مواقع۔ ان دنوں کہا جاتا تھا‘ بندہ کچھ کرنا چاہے تو کراچی جائے، محنت کرے روٹی کمائے اور علم حاصل کرے۔ پھر اس شہر محبت کو تعصبات کی آڑ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہم واپس سال 1973ء میں چلتے ہیں۔ دسویں جماعت کا طالب علم سکول اوقات کے بعد دوپہر کو شائع ہونے والے روزنامہ ’’ اعلان‘‘ میں بچوں کا صفحہ بناتا تھا۔ اس صفحہ کیلئے کہانی نویسی چھٹی جماعت سے جاری تھی بعد کے حالات میں اخبار کے مالک اور ہمارے محسن حمید اختر صاحب نے پیشکش کی کہ میں سکول کے بعد اخبار کے دفتر آجایا کروں اور بچوں کا صفحہ تیار کرواؤں، تو مجھے اتنی تنخواہ مل سکتی ہے جس سے سکول اور ہاسٹل کے اخراجات پورے ہو جائیں۔ عشروں بعد طالب علم کو یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ جناب حمید اختر کی کرم نوازی اپنے صاحبزادے جاوید اختر کی وجہ سے تھی جو سکول میں میرے کلاس فیلو تھے۔سال 1973ء کے کسی دن سکول سے اخبار کے دفتر پہنچا تو استاد مکرم فضل ادیب نے حکم دیا کہ میں ہاسٹل واپس جانے سے قبل صدر کراچی میں واقع غوثیہ ریسٹورنٹ میں الیاس شاکر صاحب سے مل لوں۔ اس حکم کی بابت ان کا کہنا تھا کہ الیاس شاکر کا فون آیا تھا۔ انہوں نے تمہاری کل شائع ہونے والی کہانی ’’اماں یاد آتی ہیں‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے ملاقات کی خواہش کی جس پر میں نے ان سے کہا تھا کہ شام کو ملاقات ہو جائے گی۔ فضل ادیب بولے تم وہاں جا کر عمر سیلیا بارے دریافت کرنا ان کے دفتر میں الیاس شاکر 5 سے7 بجے روزانہ بیٹھتے ہیں۔ استاد مکرم کے حکم پر اسی شام جناب الیاس شاکر اور ان کے توسط سے عمر سیلیا سے ملاقات ہوئی۔ کل کی بات کی طرح آج بھی یاد ہے کہ اس شام وہ اپنے دوست عمر سیلیا کے ہمراہ ملاقات کے اختتام پر مجھے ہاسٹل پہنچانے ساتھ گئے تاکہ جواب طلبی نہ ہو۔ الیاس شاکر ان دنوں ایک بڑے قومی روزنامہ سے منسلک تھے۔ پہلی ملاقات میں تعارف اور احوال جان لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ تھا ’’زندگی کے سفر میں جتنی بھی مشکلیں درپیش ہوں گھبرانا نہیں۔ ایک باہمت نوجوان کی طرح اپنی منزل کے حصول کیلئے جدوجہد کرتے رہنا تاکہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرسکو۔ 1973ء سے1981ء کے درمیان برسوں میں ان سے ملاقات عمر سیلیا کے دفتر میں ہوتی یا پھر کبھی کبھی کراچی پریس کلب میں۔ الیاس شاکر ہر ملاقات پر دو باتیں ضرور دریافت کرتے‘ پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ آج کل کونسی کتاب پڑھ رہے ہو؟۔ دونوں سوالوں کا جواب سن کر بہت خوش ہوتے اور کبھی کبھی کسی کتاب کو پڑھنے کا مشورہ بھی دیتے۔ اردو ادب کے شہسوار جناب شوکت صدیقی سے اولین ملاقات کراچی پریس کلب میں الیاس شاکر کی ہمرائی میں ہوئی۔ انہوں نے صدیقی صاحب سے مجھ طالب علم کی کچھ اس انداز میں تعریف کی کہ وہ بہت محبت سے پیش آئے اور مطالعہ کیلئے گراں قدر مشورے بھی دیئے۔ بعد کے برسوں میں صدیقی صاحب کو پڑھا بھی خوب اور ان کی قدم بوسی کا شرف بھی ملتا رہا۔ الیاس شاکر بنیادی طور پر محنت کش انسان تھے۔ محبت کرنے والے نفیس خوش لباس اور غضب کے جملہ باز بھی۔ ان کے دوست عمر سیلیا پہلے کراچی ہوٹلز ایسوسی ایشن میں سرگرم رہے، پھر پیر پگاڑا کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ اس وقت مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر محمد حنیف رامے اور سینئر نائب صدر مصطفی کھر ہوا کرتے تھے۔ اخباری دنیا میں اپنی جدوجہد اور مستقل مزاجی سے انہوں نے بہت عزت پائی اور پھر ایک دن یہ محنت کش صحافی ذاتی اخبار کا مالک بھی ہوگیا۔ نظریاتی طور پر وہ دائیں بازو کے صحافی تھے۔ پیر پگارا مرحوم ان پر بہت اعتماد کرتے۔ پھر ایک وقت آیا جب انہوں نے اپنی حمایت، محبت اور نظریات تینوں کو الطاف حسین کے پلڑے میں ڈال دیا۔ مجھ سمیت ان کے بہت سارے نیازمندوں کو اس پر افسوس ہوا لیکن ان کا کہنا تھا کہ رائے عامہ کی تائید رکھنے والی جماعت ہے ایم کیو ایم۔ چند دن قبل ان کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو 1970ء کی دہائی کے کراچی کے کچھ دوستوں کو فون کرکے اس خبر کی تصدیق چاہی۔الیاس شاکر اپنی زندگی آپ بنانے اور بسانے والے انسانوں میں سے تھے۔ آخری سانس تک وہ سرگرم اور جواں عزم رہے۔ ان کے نظریات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن وہ ایک قلم مزدور‘ دوست نواز اور نوآمیز صحافیوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ چند سال قبل کراچی میں ان سے آخری ملاقات ہوئی تو عرض کیا: شاکر بھائی اپنی خود نوشت لکھیں صحافت کے طالب علموں کو بہت فائدہ ہوگا۔ مسکراتے ہوئے بولے۔ ارے میاں یہ چونچلے ہم سے نہیں ہونے کے روزی روٹی کے چکر میں دن گزرتا ہے۔ وہ اس جہاں سے رخصت ہوئے اپنے خالق حقیقی سے ملاقات کیلئے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں