Daily Mashriq


خاتون آہن بھی چل بسیں

خاتون آہن بھی چل بسیں

کلثوم نواز خاتون آہن بھی چل بسیں، جو قوم کیلئے ایک بہت بڑا خسارہ ہے، اگر کینسر کا موذی ناگ ان کی گردن کو نہ ڈھستا تو اس وقت مسلم لیگ کی قیادت محترمہ کے ہاتھ میں ہی ہوتی، جس طرح فوجی آمر پرویز مشرف نے پاکستان میں اپنی خود غرضانہ انا کیلئے جمہوریت کا گلہ دبا دیا تھا اس وقت جس آن بان شان اور بے دھڑکے خاتون آہن کلثوم نواز نے فوجی آمر کو للکارا یہ اسی خاتون کا وصف تھا، پرویز مشرف کے گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک خاتون اس کی آمریت کو للکارے گی جبکہ کلثوم کی پہلی للکار سے خود کو بے جگر گوریلا کہنے والے کے چہرے پر تو ہوائیاں ہی اڑ گئیں تھیں۔ پرویز مشرف کے خواب وخیال میں بھی نہ تھا کہ جس طاقت کے بل بوتے پر اس نے آئین پاکستان توڑتے ہوئے جمہوریت پر شب خون مارا ہے تو اس کے سامنے قوم کے جمہوری حقوق کیلئے ایک عورت پہاڑ بن جائیگی۔ اس خاتون آہن کے وہ الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں جب فوجی آمر نے میاں نواز شریف کے خاندان کو پو پھوٹنے سے پہلے پہلے تاریکی میں ملک بدر کیا تھا اس وقت محترمہ نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ہم خود سے رات کی تاریکی میں ملک سے فرار نہیں ہو رہے یہ آمر ہم کو زبردستی تاریکی میں ملک سے نکال رہا ہے۔

پاکستان میں جری، دلاور اور سورما خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے، اپنے حقوق کو اس ملک کا بچہ بچہ پہچانتا ہے اور آمر سے ٹکرانا بھی جانتا ہے۔ وہ ملک کی آن بان کا احساس بھی رکھتا ہے، یہ ملک بڑی زرخیز زمین کا حامل ہے، پاکستان کی تاریخ میں ویسے درجنوں خواتین کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جنہوں نے ملک کی عظمت اور حقوق عوامی کیلئے عظیم جدوجہد کی ہے مگر یہ پانچ خواتین ایسی ہیں جن کے نام تاریخ عالم میں ہمیشہ جگمگ کرتے رہیں گے اور کبھی بھی نہیں دھندلائیں گے، ان میں پہلا نام محترمہ فاطمہ جناح کا ہے جو نہ صرف جدوجہد آزادی میں قائداعظم کے قدم بہ قدم ساتھ رہیں، پھر جب ایوب خان جیسے آمر کو للکارنے کا وقت آیا تو اس وقت کسی سیاستدان میں ہمت نہ تھی کہ وہ ایوب خان جیسے مقبول حکمران سے ٹکرائے، اس وقت مادر ملت فاطمہ جناح واحد خاتون تھیں جو ایوب خان کی آمریت کے سامنے ڈٹ گئیں جس کی وجہ سے آمر اور اس کے حواریوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے علاوہ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کیخلاف سب سے پہلی آواز بلند کرنے والی خاتون آہن ہونے کا اعزاز محترمہ بینظیر بھٹو کو حاصل ہے، بینظیر بھٹو کی جمہوریت کیلئے ایسی عظیم قربانیاں ہیںکہ رہتی دنیا تک اس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا انہوں نے قید وبند، زندان کے جبر شدائد، مصائب تکالیف برداشت کیں حتٰی کہ عوام کے حقوق کیلئے جان تک قربان کر دی ایسی مثال دنیا میں شاذ ونادر ہی ہے۔

پاکستان کی تیسری خاتون آہن محترمہ بیگم نسیم ولی خان ہیں جنہوں نے ایک سویلین آمر ذوالفقار علی بھٹو کا مقابلہ کیا، وہ کیا وقت تھاکہ بیگم نسیم ولی خان کے گھرانے کے سب مردوں کو زندان میں ڈال دیا گیا تھا، گھر میں کوئی مرد نہ بچا تھا، ان کے خسر اور عظیم قائد جدوجہد آزادی ہند باچا خان بھی جیل کی کوٹھری میں، ان کے شوہر خان عبدالولی خان جن کی آنکھ جمہوریت کی جدوجہد کی نذر ہوگئی وہ بھی کال کوٹھری میں بند کر دیئے گئے، اسفندیار ولی خان کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تھا، بھٹو کا خیال تھا کہ باچا خان کے تمام مرد جیل میں ڈال دیئے گئے ہیں پیچھے کوئی ایسا نہیں بچا ہے کہ ان کی آمریت کو چیلنج کرے یا اس سے ٹکرائے، ایسے میں بیگم نسیم ولی خان میدان سیاست میں جمہوریت اور حقوق کا علم بلند کرتی ہوئی میدان سیاست میں اُتریں۔ وہ سیاہ لباس پہن کر سیاست میں وارد ہوئیں اور اس وقت تک اس سیاہ لباس میں ملبوس رہیں جب تک کہ بھٹو آمریت کا خاتمہ نہ ہو گیا۔ محترمہ کلثوم نواز اور بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی جدوجہد میں کافی مطابقت پائی جاتی ہے، دھیمے لہجے کی کلثوم نواز بھی خاندان شرافت کا پیکر تھیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود موجودہ دور کی خواتین کی طرح رکھ رکھاؤ نہ تھا۔

جب آمر پرویز مشرف نے جمہوریت کا تختہ الٹ دیا اور میاں نواز شریف کے سارے خاندان کو گرفتار کر کے گمنام مقامات میں ڈال دیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا تو اسی وقت کلثوم نواز نے آمر کو للکارا اور لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی جلوس کی قیادت کی، اس جلوس کو روکنے کیلئے پرویز مشرف نے لاکھ جتن کئے، حتٰی کہ جس گاڑی میں وہ سوار تھیں ان کو جلوس میں جانے سے روکنے کیلئے کرین سے ان کی گاڑی کو اٹھا لیا گیا، اس گاڑی میں سوار کلثوم نواز بھی گھنٹوں لٹکی رہیں چہرے پر کوئی خوف عیاں نہ ہوا، جب مسلم لیگی کارکنوں نے کرین کا محاصرہ کر لیا تو مجبور ہو کر گاڑی کو کرین سے اتارا گیا۔

آج جس صعوبتوں سے نواز شریف کا خاندان دوچار ہے، باچا خان کے خاندان کی طرح نواز شریف بھی اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد صفدر کے ہمراہ جیل کاٹ رہے ہیں، انصاف کے حصول کیلئے جو مظلومیت برداشت کر رہے ہیں ان حالات میں اگر کلثوم نواز صحت یاب ہوتیں اور زندہ رہتیں تو یقین سے کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت بھرپور انداز میں کر رہی ہوتیں، اس خاندان نے ہمیشہ لاجواب حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، نواز شریف نے پاکستان کے آئین کی سربلندی اور قانون کی پاسداری ایسے وقت میں کی جب ان کی غمخوار، مونس ومّودت، شریک زندگی موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔

کلثوم نواز نے جب مشرف سے کھڑاک کیا وہ بھی تاریخ کا اہم حصہ ہے آج جب انہوں نے اپنی سانس خالق حقیقی کے سپرد کر دیں وہ بھی نواز شریف کے خاندان کیلئے ہی نہیں پاکستان کے عوام کیلئے تاریخ کا اہم حصہ ہے، ان تاریخی لمحات میں نواز شریف سے یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں