Daily Mashriq


مذہبی تقریبات ، چھٹیاں اور عملی زندگی

مذہبی تقریبات ، چھٹیاں اور عملی زندگی

دنیا کی ساری اقوام کے ہاں مذہبی اور قومی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس قسم کی تقریبات کا مقصد قوم اور عوام کو اپنے اکابر کی طرز زندگی وعمل کی طرف راغب کرنا اور اپنی تاریخ کیساتھ جُڑے رکھنا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بھی مذہبی اور قومی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ کا تعلق مذہب کیساتھ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہوتے ہیں اور عبادات میں فرائض وواجبات کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً عیدین کی تہواریں لیکن کچھ تہواریں یا تقریبات مسلمانوں میں بعد میں رائج ہوئی ہیں مثلاً عید میلاد النبیؐ، اس دن کی تقریبات کوئی قدیم تحریک وروایت نہیں کیونکہ قرون اولیٰ میں ایسی کوئی چیز ثابت نہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں محرم کے مہینے میں عاشورہ کی مذہبی تقریبات کا انعقاد بھی بہت اہتمام کیساتھ ہوتا ہے۔ ان تحریکات وتقریبات کا فائدہ تب تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ ان سے واقعی ہماری زندگیوں میں کوئی مثبت اور تعمیری تغیر وتحرک پیدا ہو رہا ہو۔ کیا کسی نے آج تک کہیں ان تحریکات وتقریبات کا تحقیقی انداز میں جائزہ لیکر ملکی سطح پر کوئی رپورٹ مرتب کی ہے کہ ملک وقوم پر اس کے یہ یہ مفید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جب پاکستان جیسے ملک میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے مسلک اور مکاتب کے نظریات کے اظہار اور زور وشور دکھانے کیلئے اس قسم کے پروگرام منعقد کرتے ہیں اور حکومتوں کو مجبوراً ان ایام میں چھٹی دینا پڑتی ہے تو گویا پوری قوم کے ایک دو یا تین چار دن اس میں صرف ہو جاتے ہیں اور حکومتی دفاتر میں معاشی اور دیگر سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ پھر کئی برسوں سے پاکستان میں یہ چیز بھی نظر آئی ہے کہ مذہبی طبقات ایک دوسرے کے بالواسطہ مقابلے میں جلسے جلوس بھی منعقد کرتے ہیں اور اپنے اپنے ایام منانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈال کر چھٹی بھی کراتے ہیں۔ حکومت کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور عدل ومساوات ہو لہٰذا ہر مکتب فکر کا خیال رکھنا اُنکی مجبوری اور فریضہ بن جاتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں یہ بات قابل غور ہے کہ مسالک کی بنیاد پر تعطیلات اور تحاریک وتقریبات نادیدہ طور پر معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان بندھن کو بہرحال کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ 1980ء سے قبل وطن عزیز میں یہ چیزیں اس قسم کی نہیں ہوتی تھیں۔ اُن دنوں میں مذہبی تقریبات ہم آہنگی اور مذہبی تقدس کی حامل ہونے کے سبب لوگوں کی یکجائی کا ذریعہ بن جاتی تھیں اور جب سے مذہب کیساتھ سیاست کا عنصر شامل ہوا ہے، ان تقریبات کا فیصلہ ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ بات تو اب وطن عزیز میں ہر باشعور آدمی کو معلوم ہو چکی ہے کہ جونہی محرم کا مہینہ طلوع ہوتا ہے اس کا پہلا عشرہ اس لحاظ سے بہت حساس بن جاتا ہے کہ خدانخواستہ کہیں امن عامہ کو تنقیص کا مسئلہ نہ بن جائے۔ پاکستان کی لاء اینڈ آرڈر فورسز، عوام اور امن کمیٹیاں سب الرٹ ہو جاتے ہیں اور عوام دست بہ دعا رہتے ہیں کہ پروردگار یہ دس دن خیر وعافیت سے گزر جائیں۔ گزشتہ دو تین برسوں سے اب محرم کی پہلی تاریخ کو صوبہ خیبر پختونخوا میں امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت پر بھی تعطیل ہونے لگی ہے، اب یہ بات ہر صاحب نظر کو معلوم ہے کہ اس یوم کی تعطیل کی پشت پر کس کا کیا دباؤ تھا۔ پچھلے دنوں ایک مدرسے کے بڑے شیخ نے مجھے ایک تحقیقی مضمون واٹس ایپ پر بھیجا جس میں اسلامی مؤرخین کے درمیان یوم شہادت عمر فاروقؓ پر اختلاف تھا یعنی اُن مؤرخین کے درمیان کے یکم محرم الحرام کو شہادت عمر فاروقؓ پر اتفاق نہ تھا تو اُنہوں نے پوچھا تھا کہ جب مستند طور پر معلوم ہی نہیں تو یکم محرم کو یہ دن کس طرح یوم شہادت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس قسم کے سوالات کے جوابات تو تحقیقی ہی ہو سکتے ہیں اور جب تاریخ کی ایسی باتوں کو اسی انداز میں لیا جائیگا تو پھر بات بہت دور تک جائیگی۔ اسلئے ہم کہتے ہیں کہ تاریخ کو تاریخ رہنے دیا جائے۔ اسکا استعمال اتنا ہی کیا جائے جتنا ہم سب کیلئے فائدہ مند ہو ۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنا ہوگی کہ کسی بھی مذہب یا قوم میں تقریبات، تہواروں اور احتفالات کا انعقاد اس بات کی غماز ہے کہ اس قوم پر نکہت والخطاط طاری ہو چکا ہے اور اس کے پاس اپنے درپیش مسائل سے سنجیدہ اور سائنٹفک اور معروضی انداز سے نمٹنے کیلئے سرمایہ عمل صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی تاریخ کے عروج اور ترقی کے بعض اوقات میں وقتی پناہ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اسلئے کبھی کبھی اُنہیں یاد کرنے کیلئے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ آپ دنیا کی کسی بھی قوم کی تاریخ کا عمیق مطالعہ کیجئے۔ اس کے ابتدائی اور عروج کے زمانہ میں تقریبات اور تہواروں ومحافل کا انعقاد بہت کم نظر آئیگا۔ صحابہ کرامؓ کی سادہ زندگیوں اور خاتم النبیینؐ سے بے مثال عیقدت ومحبت کے واقعات دیکھیں اور پھر رحلت نبیؐ کے بعد تابعین کے دور تک بلکہ تبع تابعین تک بھی کوئی آج کی طرح مذہبی احتفالات کی مثال دکھائیں۔ اعلیٰ مقاصد زندگی رکھنے والی قوموں کے پاس منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے عمل کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ صرف کام، کام اور کام ہی جانتے ہیں۔ آئیں مل کر وطن عزیز میں کام کی ابتداء کریں اور منزل کی طرف گامزن ہو جائیں۔

متعلقہ خبریں