Daily Mashriq


اسے کیا کہئے؟

اسے کیا کہئے؟

اس وقت میرے سامنے نہایت خوبصورت اور نایاب پینٹنگ موجود ہے، جس میں پشاور شہر کے مشہور بازار کلاں سے گزرتا دلہنوں کی طرح سجے ہوئے ہاتھیوں کا جلوس دکھایا گیا ہے، ہر ہاتھی کو گھوڑوں پر بیٹھے باوردی محافظوں نے یوں گھیر رکھا ہے جس طرح کسی وی وی آئی پی کی سواری کیساتھ چلتے موٹر سائیکلوں پر بیٹھے کمانڈوز اسے اپنے گھیرے میں لئے اس کیساتھ ساتھ دوڑتے نظر آیا کرتے تھے، اسے ہم پروٹوکول کا نام دیتے ہیں اور یہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کی گزرتی سواریوں کیساتھ اکثر دیکھنے میں نظر آتا تھا، جس سے نہ صرف گزرنے والی سواری کی شان میں اضافہ ہوتا بلکہ ایک پنتھ دو کاج کے مصداق اس سواری اور اس کے سوار کی حفاظت بھی ہو جاتی، شنید ہے کہ سڑکو ں کو بلاک اور ٹریفک کو جام کر دینے والے اس پروٹوکول نامی جلوس کو پاکستان میں تبدیلی لانے کے دعوے داروں نے یکسر رد کر دیا ہے، اللہ جانے وہ اپنے اس عہد کو کب تک ایفا کر سکیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا پائے گا، سردست میں اس پروٹوکول کی بات کر رہا ہوں جو ایک نادر ونایاب پینٹنگ میں چھپے ہاتھیوں کے اس جلوس کے اعزاز میںترتیب دیا گیا ہے جو اپنے پیارے شہر پشاور کے مشہور بازار کلاں سے گزرتا ہوا تحصیل گورکتھری کی جانب بڑھ رہا ہے، پشاور کے شہریوں کا ایک ہجوم ہے جو محلہ سیٹھیاں اور ملحقہ محلوں کے مکانوں کی چھتوں پر بیٹھ کر اس پرشکوہ جلوس کا نظارہ کر رہا ہے، ہر ہاتھی کی گردن پر اس کا مہاوت، فوجدار، ہتھوان یا فیل بان ہاتھ میں لوہے کی وہ کھونٹی لئے بیٹھا ہے جس کی مدد سے وہ اسے قابو میں رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق چلتا رکھنے کی کوشش کرتا ہے، یہ پیشہ ور ہتھوان تحصیل گورکتھری پشاور کے عقب میں واقع محلہ فیلبانان کے رہائشی ہوںگے، عین ممکن ہے یہ ہاتھیوں کے اس جلوس کیساتھ ہی کہیں دور پار سے پشاور آ ئے ہوں، ہر ہاتھی کی پشت پر سجی سجائی مسند یا پالکی بھی پڑی ہوئی ہے جس میں دو دو یا تین تین کی تعداد میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جنہیں وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے، ہاتھیوں کا یہ جلوس مسجد گنج علی خان اور محلہ سیٹھیاں کے قریب سے گزرتا دکھایا گیا ہے، مسجد کی چھت پر بھی تماش بین بیٹھے اس جلوس کا نظارہ کر رہے ہیں، لگتا ہے اس منظر کو پینٹ کرنے والا یا اس کی تصویر بنانے والا خود بھی مسجد گنج علی خان کی چھت پر یا اس سے منسلک کسی عمارت پر بیٹھا ہے، یہ پینٹنگ1860ء میں تحصیل گورکتھری کے احاطہ میں لگنے والے گرینڈ دربار کی منظرکشی کر رہی ہے اور اس میں دکھائے جانے والے رنگ ونور کے نظارے وہاں ہونے والی آتش بازی کا منظر پیش کر رہے ہیں، یہ پینٹنگ یا تصویر سرحد ٹورزم کارپوریشن پشاور کے زیراہتمام سال2010ء کے دوران ’’پشاور جنوبی ایشیا کا قدیم ترین شہر‘‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والی پشاور گائیڈ کے سرورق پر چھپ کر منظرعام پر آنے کے بعد راقم السطور کے ذخیرہ کتب میں کہیں دبی چھپی پڑی ملی اور یوں ہم نے اس کے سرورق کی لفظی تصویر قارئین کرام کے سامنے پیش کر دی جس کا مقصد صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے حال ہی میں عین اس ہی مقام پر قائم کی جانے والی ہیری ٹیج ٹریل پر بات کرنی ہے۔ بڑی سوچ بچار، ذوق شوق، محنت اور زرکثیر خرچ کرنے اور تعمیر وتکمیل کے طولانی عرصہ کے بعد پشاوریوں کے قومی ورثہ کو جس روپ میں پیش کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں لیکن جب ہم ماضی کے جھرونکوں میں جھانک کر اس بازار کی شان رفتہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس کا ہر روپ بہت پیارا اور دل پذیر لگتا ہے، اب جو اس بازار اور پشاوریوں کو ان کے ثقافتی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نام ہیری ٹیج ٹریل رکھ دیا گیا۔ اسے اپنی نالائقی کہئے یا کسی اور نام سے تعبیر کیجئے جو ہمیں اس نام کے معنی کے دیکھنے کیلئے انگریزی اردو ڈکشنری دیکھنی پڑی، ہیری ٹیج کے اردو معنی ’’ورثہ‘‘ دریافت ہوئے اور ٹریل کے معنی ’پکڈنڈی‘ کی صورت سامنے آئے۔ گویا اس لفظ کے معنی ’’ورثہ پکڈنڈی‘‘ ہوئے، لیکن ہم اسے ہیری ٹیج ٹریل ہی کے نام سے یاد کر کے کام چلا لیں گے، مگر اس کا کیا کریں گے جو اس کیساتھ سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اتنے ذوق وشوق سے تعمیر کئے جانے والے اس مانومنٹ کو گزرتے وقت کیساتھ ساتھ جو نقصان پہنچ رہا ہے یا پہنچایا جا رہا ہے کہتے ہیں اس کا کوئی پرسان حال نہیں، اس حوالے سے روزنامہ مشرق پشاور میں آئے روز خبریں چھپتی رہتی ہیں جنہیں پڑھ کر تشویش سی ہونے لگتی ہے کہ دانستہ اور نادانستہ طور پر اس ٹریل کو تقصان پہنچتا رہا تو بہت جلد خیبر پختونخوا حکومت کی یہ کاوش بھی ان آثار قدیمہ جیسی ہو جائے گی جو پشاور اور اس کے گرد ونواح میں اپنی شان رفتہ کو رو رو کر اپنی آنکھیں تک گنوا بیٹھے ہیں، کسی زمانے میں اس بازار سے گزر کر ظہیرالدین بابر گورکتھری آیا تھا، اسے سرائے جہاں آرا یا سرائے جہاں آباد بھی کہتے تھے، یہ ابوطبیلہ کی رہائش گاہ بھی تھی اور یہاں انگریز سپاہ نے آزادی کے متوالوں پر گولیاں بھی چلائی تھیں، بہت سی یادیں ہیں اس پگڈنڈی پر رونماء ہونے والے واقعات کی مگر کسی کو اس سے کیا غرض۔ محکمہ آثار قدیمہ والے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو اس کی ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور سٹی ڈسٹرکٹ والے اس الزام کا ملبہ آثار قدیمہ والوں کے سر تھوپ رہے ہیں۔

خانہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھئے

ناطقہ سربگریباں ہے، اسے کیا کہئے

متعلقہ خبریں