Daily Mashriq

قبائلی اضلاع میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کا نظام کیوں؟

قبائلی اضلاع میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کا نظام کیوں؟

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے خاصہ دار فورس اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے واضح اعلان اور وعدے کے باوجود دونوں فورسز کی پرانی حیثیت کی بحالی ایک صوبے میں آدھا تیتر آدھا بٹیر والا نظام متعارف کرانا ہے حکومت نے جان بوجھ کر اس حوالے سے آرڈیننس کی مدت ختم ہونے دی۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دارفورس کو پولیس میں ضم کرنے کی بجائے ان کی حیثیت کو اس طرح سے برقرار کیوں رکھا کہ اختیارات پولیس کے ہوں اور فورس کا ڈھانچہ پولیس کا نہیں بلکہ بغیر قانون سازی اور آئندہ سامنے آنے والے قانونی نکات انتظامی واختیاراتی پیچیدگیوں کا جائزہ لیئے بغیر خیبر پختونخوا خاصہ دار فورس بل کی منظوری دے دی گئی۔ہمیں حکومت کی نیت پر ہر گز کوئی شبہ نہیں لیکن حکومت کے اس فیصلے یا اقدام کے پس پردہ کوئی نہ کوئی دبائو اور مفاد کارفرما نظر آتا ہے وگرنہ قبائلی اضلاع کا تو صوبے میں انضمام ہو ان کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملے قوانین صوبے کے لاگو ہوںحقوق صوبے کے شہریوں کے مساوی ملیں اور ساتھ ہی پرانے نظام کی باقیات سے عوام کونجات نہ ملے حکومت کے اس اقدام پر خود لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکار بھی خوش نہیں ان کی ملازمت اورمستقبل کا سوال ابھی جواب طلب ہے جس پر انہوں نے احتجاج بھی کیا ہے۔خاصہ داروں اور لیویز کے اہلکاروں کی تربیت بھی پولیس کے طرز پر نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ ملکی قوانین اور روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے واقعات اور مسائل سے آگاہی رکھتے ہیں پولیس فورس میں انضمام کی صورت میں تھانوں میں ان کی موزوں ڈیوٹی سیکورٹی اور عوام کا تحفظ ہی ہوتا جس کے ساتھ ساتھ تربیت اور تجربے کے حصول کے بعد ہی وہ شہری پولیس اور تھانوں کا انتظام چلانے کے قابل ہوتے اب جبکہ ان کو اس موقع سے ہی محروم رکھا گیا ہے تو ان کا مستقبل سوالیہ نشان ہونا ان کی کارکردگی اور روزمرہ کے امور عدالتی اور قانونی معاملات چلانا کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔حکومت کو قبائلی اضلاع اس آدھا تیتر آدھا بٹیر نظام رائج کرنے سے گریز کرنا چاہیئے اور پورے صوبے میںیکساں نظام رائج کرنے کیلئے جلد سے جلد قانون سازی مکمل کر لینی چاہیئے تاکہ قبائلی عوام کو صحیح معنوں میں قومی دھارے میں لایا جا سکے اور امتیازات کا مکمل خاتمہ ہو۔

صدر کا خطاب اور حزب اختلاف کا رویہ

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پارلیمنٹ کے اجلاس سے مشترکہ خطاب کے وقت حزب اختلاف نے جو کردار ادا کیا صدر کے خطاب کے وقت حزب اختلاف کا شدید ہنگامہ اور شوروغل ہماری پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہیں اور اکثر وبیشتر اس کا اعادہ بھی ہوتا رہتا ہے پارلیمان میں خود حکمران جماعت تحریک انصاف کا رویہ اور کردار بھی سراہے جانے کے حامل نہیں رہا لیکن اس کے باوجود حزب اختلاف کے اراکین نے صدر مملکت کے خطاب کے دوران کم از کم مقبوضہ کشمیر میں مظالم والے حصے کو خاموشی سے نہ سن کر نا پسند یدہ کردار کا مظاہرہ کیا جس کا دردمندان وطن کو افسوس ہونا فطری امر ہے۔مسلم لیگ(ن) پی پی پی او ردیگر سیاسی جماعتوں کو حکومت کی کشمیر پالیسی کی دھجیاں اڑانے کا حق حاصل ہے لیکن مظلوم کشمیریوں کی داستان الم کے تذکرے اور اس حوالے سے دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے موقع کو قومی مفاد اور تمام تر اختلافات کے باوجود کشمیری عوام پر مظالم کے خلاف لفظی احتجاج کے موقع پر شوروغل معطل کر کے قومی یکجہتی کا پیغام دیا جاتا توبہت بہتر ہوتا۔سیاسی جماعتوں کی اور سیاسی زعماء کی باہمی مخاصمت اور مخالفت ایوان اور میڈیا کے سامنے شور مچانے اور نجی محفلوں اور تقریبات میں نیاز برتنے کی ہوتی ہے اگر ایوان میں تھوڑی دیر کیلئے خاموشی اختیار کی جاتی تو کیا حرج ہونا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بعض معاملات حکومت وسیاست اور جماعتی وابستگیوںسے بالاتر ہو کر سوچنے اور عمل کرنے کے ہوتے ہیں جو سیاستدانوں سے بالغ نظری اور تدبر کے متقاضی ہوتے ہیں اس موقع پر متین کردار ہی بہتر حکمت عملی اور ملکی مفاد کا تقاضا ہوتا ہے جسے ملحوظ خاطر رکھنے کی روایت قائم ہونی چاہیئے۔

ٹریفک کا پھر اژدھام

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تعلیمی اداروں کے مکمل کھلنے اور تعطیلات کے اختتام کے ساتھ ہی ٹریفک کے اژدھام میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث یونیورسٹی روڈ پر بالخصوص ٹریفک جام کی شکایات میں اضافہ ہوگیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بی آرٹی کی وجہ سے جہاں چند ایک مقامات پرسڑک کی چوڑائی میں تھوڑا بہت اضافہ ہوا ہے وہاں متعدد مقامات پر سڑک سکڑ کر تنگ دامنی کا شکار ہوگئی ہے بعض مقامات پر بی آر ٹی سڑک کے باعث یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ بھی نوٹ کی گئی ہے منی بسوں کے خاتمے کے باوجودرش میں اضافہ کی وجوہات جاننے کی حکام زحمت کریں یا نہ کریں ٹریفک کے نظام کو درست کرنے کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کے حکام قابل ہیں بھی یا نہیں اس سے قطع نظر ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام اتنی زحمت ضرور کریں کہ یونیورسٹی روڈ پر شاپنگ مالز کے سامنے گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت نہ دیں یونیورسٹی روڈ پر تہکال سے لیکرسپین جماعت تک ٹریفک پولیس کا مستعد عملہ مناسب فاصلے پر تعینات کر کے سڑک کے کنارے گاڑیاں پارک کرنے والوں کو روکے فورک لفٹر کا بھی گشت ہوتا کہ ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو بروقت روکا جاسکے اور گاڑیاں ہٹائی جاسکیں۔یونیورسٹی روڈ پارکنگ کیلئے ممنوعہ سڑک ہی قرار نہ دی جائے بلکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی گاڑی پارک نہ ہونے پائے ون وے کی خلاف ورزی بھی رکاوٹوںکا باعث بنتی ہے اس کی بھی روک تھام کی ضرورت ہے ۔ٹریفک کا ڈسپلن لین بنا کر اس کی پابندی کروانے کی بھی ضرورت ہے۔رکشہ،موٹر سائیکل سواروں کو مرکزی دھارے میں چلنے کی اجازت نہ دی جائے جبکہ فورڈ ویگنوں اور اکا دکا چلنے والی منی بسوں سے بھی لین ڈسپلن کی سختی سے پابندی کروائی جائے۔نکاسی آب کے انتظامات ، فٹ پاتھوں اور انڈر پاسز کی تعمیر میںمزید تاخیر نہ ہو۔

متعلقہ خبریں