Daily Mashriq

رکھنا خیال اک دم پک کر کھلے گی ہنڈیا

رکھنا خیال اک دم پک کر کھلے گی ہنڈیا

جس وقت دل کو ٹھیس پہنچتی ہے یا جسم کے کسی بھی حصے سے ٹیس اٹھتی ہے تو اس کے درد سے تلملانے والا بے اختیار ہوکر چیخ و پکار کرنے لگتا ہے ۔ اگر اس کی چیخ و پکار کسی ناگہانی آفت کی وجہ سے ہے تو لوگ اس کے ساتھ ہمدردی جتانے لگتے ہیں، اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو اس کی مقدور بھر مدد کرنے کے لئے بھی دوڑ پڑتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کے تحت پاکستانی قوم اور اس کی قیادت مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم ناروا کے خلاف ہر محاذ پر آواز بلند کرکے عالمی درانصاف پر دستک دے رہی ہے ، کشمیر پر ناجائز قبضہ اور اس کو بھارت کا حصہ بنانے کا یک طرفہ فیصلہ کشمیر کے مسئلہ کو گھمبیر صورت حال سے دوچار کرچکا ہے ، دو ایٹمی قوتیں ایک دوسرے کو ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں ، امن وا ٓشتی کے عالمی ٹھیکیداروں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ، ایسی صورت حال کے پیش نظر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر

کا پیغام زبان پر گونجتا ہے مگر افسوس کہ یہ سب ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا ،ہمیں عرب ممالک سے کوئی گلہ نہیں، پاکستان اسلام کا قلع ہے اس لئے اس مشکل وقت میں سارے پاکستانیوں کو ایک ہی پیج پر آجانا چاہئے تھا ، لیکن افسوس ہے کہ ایسا بھی نہ ہوسکا ، پارلیمنٹ میں تو تکار اور گالم گلوچ کا ماحول بدستور برقرار ہے ، ہماری قانون ساز اسمبلیوں میں حزب مخالف کی بینچوں پر بیٹھنے والی سیاسی قیادت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کشمیریوں کی آہ و فغاں اوران کی چیخ و پکار سے ، کیونکہ وہ خود ابتلا کا شکار ہیں ،ان کی پارٹیوں کے صف اول کے لیڈر جیلوں میں بند ہیں ، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سب ان ہی کا کیا دھرا ہے ، وہ کوس رہے ہیں قانوں کے ان شکنجوں کو جنہوں نے ان کی گردن کو دبوچ رکھاہے ، آگ لگی ہوئی ہے ان کے کپڑوں کو ، وہ چیخیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے ۔ قومی اسمبلی میں رونما ء ہونے والی ہلڑ بازی ، سپیکر کی ڈیسک پر قبضہ کرنے کی کوشش وزیر اعظم پر حملہ کرنے کی ناکام جسارت ہمیں تو اسمبلیاں توڑ کر ملک کے جمہوری نظام کو صدارتی نظام حکومت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کے مرحلے نظر آرہے ہیں ، بہتر ہوتا کہ ہم اپنے ذاتی مفادات کے خول سے نکل کر کشمیرمیں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف یک مشت ہوجاتے ، اگر اتنا نہ کرسکتے تو اپنے ذاتی مفاد کو بالا ئے طاق رکھ کر ملکی اور ملی مفاد میں عارضی سی خاموشی اختیار کرکے عقلمندی کا ثبوت پیش کرتے ، قانون کے احترام کا وطیرہ اپناتے ، انصاف کی نظروں میں اپنے آپ کو سچا ثابت کرکے الزامات کا جوا اتار پھینکتے اور یوں خدا اور اس کی خدائی کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرکے سرخرو اور سرفراز ٹھہرتے یا اپنے کئے دھرے کی سزا بھگتنے کے لئے نہایت خاموشی سے تیار ہوجاتے ، مگر کہاں سے آتا اتنا صبر یا حوصلہ کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد اسمبلیوں میں پہنچے تھے یہ لوگ ، جائز ہے ان کا یہ چیخنا ، اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلنے کا درد ہے جو ان کی رگ رگ میں سما کر چیخ و پکار اور شور اور شرابے کا عنوان بن رہا ہے، یہ لوگ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زبان اب تک تیری ہے

کا جمہوری حق استعمال کررہے ہیں۔ کسی دانشور کا کہنا ہے کہ خاموشی عظیم نعمت ہے بالخصوص اس مقام پر جہاں اختلاف زیادہ، آوازیں بلند، علم کی کمی اور دلیل کی کوئی اوقات نہ ہو۔لیکن ایسی صورت حال کے پیش نظر خاموش رہنا بہت مشکل ہوتا ہے ، ہم ملک کے اندر اپنے ذاتی مفاد کے لئے واویلا برپا کئے ہوئے ہیں لیکن کشمیریوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم پر معنی خیز خاموشی اور دستور زباں بندی کا رویہ اپنا کر اچھا نہیں کررہے ، ہم تو اسمبلیوں میں اس وعدے پر پہنچے تھے کہ ملک سے غربت ، جہالت اور بیماری کو دور کریں گے ، لیکن یہاں پہنچ کر

ہر ایک بات پر کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

کے مصداق ہم نے تو تو میں میں ، یا تو تکار کی سیاست شروع کردی ہے ، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ طرفہ تماشا وہ لوگ بھی دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم خاموش اکثریت کا نام دیتے ہیں ، چپ کا روزہ رکھ کر زندگی گزار نے والے یہ خاموش تماشائی بلا کے حب الوطن اور نہایت صابر اور شاکر ہوتے ہیں ، ملک کی سلامتی اور اس کی بقاء کے لئے بڑھتی مہنگائی اور بجلی گیس اور بوند بوند پانی کو ترسنے کا عذاب خاموشی سے سہہ کر ملک کے ساتھ وفا کرنے کا عہد نبھاتے رہتے ہیں ، لیکن یہ لوگ دل ہی دل میں کسی آتش فشاں کے لاوے کی طرح کھولتے رہتے ہیں اور جب ان کے پریشر ککر کا ڈھکن اندر کے دباؤ کی وجہ سے اچھلتا ہے تو اس کا دھماکہ کسی بھی ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم سے کم نہیں ہوتا، ملک اور قوم کا برا مانگنے والی طاغوتی قوتیں اس خاموش اکثریت کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش میں مگن ہیں ، کسی کو کیا خبر کہ وہ اپنی ان کوششوں میں کامیاب ہوجائیں ، اور ان کے کہنے میں آکر اس خاموش اکثریت کے آتش فشاں کا لاوا اندھیر نگری کے چوپٹ راجہ کا کیا دھرا بہا کر لے جائے ، اور ہم کہتے رہ جائیں کہ

رکھنا خیال اک دم پک کر کھلے گی ہنڈیا

جب کھولنے لگے گی خاموش اکثریت

خاموشیوں کی تہہ سے طوفان اک اٹھے گا

جب بولنے لگے گی خاموش اکثریت

متعلقہ خبریں