Daily Mashriq


داعش کے ٹھکانے مضبوط تھے یا مقصد کچھ اور تھا

داعش کے ٹھکانے مضبوط تھے یا مقصد کچھ اور تھا

امریکہ کی جانب سے افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی تو جیہہ کو سمجھنا مشکل نہیں لیکن اس کیلئے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم حملہ کیوں کیا گیا اور اس کی ضرور ت کیوں پیش آئی اسے سمجھنا آسان نہیں امریکہ کے اس اقدام کا مقصد بم کو آزما نا تھا یا پھر افغانستان میں اس بم کے استعمال کا مقصد کوئی عالمی تنبیہہ تھی یا واقعی داعش کے ٹھکانے اتنے مضبوط تھے کہ ان کی تباہی کسی اور ذریعے سے ممکن نہ تھی اگر ایسا ہے تو پھر افغانستان میں داعش کے قوت پکڑنے کا تشویشناک حد تک اندازہ ہوتا ہے جس سے خطے میں کسی نئی کشیدگی اور چیلنج کا سامنا ہونے کے خطرات واضح ہیں ۔ افغانستان کے صوبے ننگرہار میں پاکستانی سرحد کے قریب سب سے بڑا غیرجوہری بم جی بی یو 43گرانے کا واقعہ محض جنگی ضرورت نظر نہیں آتا بلکہ اس کے دیگر مضمر ات بھی ہو سکتے ہیں ۔ امریکی سیکورٹی ذرائع کے مطابق اس بم کو عراق جنگ کے دوران بنایا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ سب سے بڑے غیر جوہری بم کو داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔واضح رہے کہ افغانستان کے صوبے ننگرہار کو داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں 600 سے 800 داعش کے جنگجوئوں کی موجودگی کا امکان ہے، امریکی و اتحادی فوج کو اسی صوبے میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق سب سے بڑے جوہری بم کو گرائے جانے کے کاغذات پر افغانستان میں امریکا اور اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جان نکولسن نے دستخط کیے، جبکہ اس کی حتمی منظوری امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے لی گئی۔دوسری جانب وائٹ ہائوس کے ترجمان شان اسپائسر نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں کہ سب سے بڑے غیر جوہری بم کو گرائے جانے کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی یا نہیں؟۔ترجمان وائٹ ہائوس کا کہنا تھا کہ امریکا داعش کے خلاف جنگ کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکا کی جانب سے کسی بھی ملک میں سب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا گیا۔اس سے پہلے امریکا، افغانستان سمیت عراق جنگ میں دیگر روایتی ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔اس وقت افغانستان میں افغان طالبان سے معاملت کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے جس میں ہنوز ، روس ،چین اور پاکستان نے امریکہ کو شریک نہیں کیا ۔ افغانستان میں امریکہ اب افغان طالبان کے خلاف کارروائی سے گریزا ں ہے اور امریکہ کو نئے دشمن داعش کا سامنا ہے جس کے طالبان بھی مخالف ہیں۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیئے کہ افغانستان کے بارے سہ فریقی مذاکرات میں امریکہ کو بھی شامل کیا جائے اور امریکہ خود بھی اس میں شمولیت کیلئے راہ ہموار کر کے افغانستان میں طالبان سے مذاکرات اور معاملات طے کر کے افغانستان کو داخلی انتشار سے نجات دلائی جائے تاکہ داعش کے خلاف یکسوئی کے ساتھ کارروائی کی جاسکے ۔

آبنوشی کے پائپ سے ناقابل استعمال پانی کی آمد

نوتھیہ جدید کے محلہ شاہسوار میں پانی کے نلکوںسے غلاظت آمیز اور کسی بھی ضرورت کیلئے ناقابل استعمال پانی کا آنا پورے علاقے میں خدا نخواستہ کسی بڑے انسانی المیے اور نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ علاقہ کے مکینوں کے مطابق کافی دنوں سے جاری اس شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں البتہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پانی کی لائنیں بوسیدہ اور شکستہ ہو چکی ہوں گی جس کے باعث کسی جگہ گٹر کا پانی ممکنہ طور پر آبنوشی کے ساتھ مل جاتا ہے یا پھر کسی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے نیچے آبنوشی کی پائپ شکستگی کا شکار ہو چکی ہے ۔ یہ شکایت صرف اس علاقے تک محدود نہیں بلکہ پشاور کے کئی علاقوں میں اس طرح کی صورتحال ہے جس کا تقاضا ہے کہ ہنگامی طور پر بوسیدہ پائپ لائنیں تبدیل کی جائیں۔ محکمہ صحت کی ٹیم کو بھی فوری طور پر پانی کا تجزیہ کر کے متعلقہ حکام اور مکینوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مکینوں کو چاہیئے کہ وہ اس پانی کے استعمال سے اجتناب کریں اور متبادل ذرائع سے پانی کا بندوبست کریں ۔

متعلقہ خبریں