Daily Mashriq


بھارت ماتا کا قاتل بیٹا

بھارت ماتا کا قاتل بیٹا

پاکستان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنادی ہے۔آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے کا اعلان کیا۔کلبھوشن یادیوکو عدالت میں وکیل کی خدمات فراہم کی گئی تھیں ۔بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔جس کی ویڈ یو بھی منظر عام پر آئی تھی ۔یہ شخص پاکستان کے اندر اپنے روابط قائم کیے ہوئے تھا اور بلوچ علیحدگی پسندوںا ور کراچی میں امن دشمن عناصر کی مالی اور تکنیکی مدد کرتا تھا ۔بھارت نے کلبھوشن نامی کسی بھی شخص سے پہلے لاتعلقی ظاہر کی لیکن جلد ہی بھارت کو یہ انداز ہ ہوگیا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو خاموشی سے حوالے کرنے والا نہیں تو بھارت نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی نیوی کا ایک افسر کافی عرصے سے لاپتہ ہے۔ اس کے بعد بھارت نے کلبھوشن تک قونصلر سطح کی رسائی طلب کرنے کی درخواستیں دینا شروع کیں جسے ہر بار مسترد کیا گیا۔پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر اپنی مظلومیت کا مقدمہ زیادہ اعتماد سے لڑنا شروع کیا ۔اس سے پہلے بھارت خود کو یک طرفہ طور دنیا میں مظلوم بنا کر پیش کرتا تھا ۔حکومت نے کلبھوشن یادیو پر مقدمہ چلانے میں خاصی تاخیر کی ۔

جس کے بعد بھارت کو اپنی بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کا خیال آگیا۔چند دن قبل ہی نیپال سے پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل حبیب کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آئی ۔اس ریٹائرڈ ملازم کو انٹرنیٹ کے ذریعے نوکری کا جھانسہ دے کر نیپال پہنچایا گیا جہاں سے وہ لاپتہ ہوگیا۔اب خدشات یہی ہیں کہ اسے بھارتی انٹیلی جنس نے اغوا کرکے بھارت پہنچا دیا ہے اور بھارت کرنل حبیب کے کردار کے گرد ایک ایسی کہانی تیار کرے گا جو کلبھوشن یادیو کی داستان سے ملتی جلتی ہے اور یوں قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں کلبھوشن یادیو کی رہائی کی امید پیدا ہو سکتی ہے ۔اس سے پہلے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا اعلان کر دیا گیا ۔بھارت نے اس فیصلے کو سوچی سمجھا فیصلہ کہہ کر مسترد کیا اور دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو دفتر خارجہ میں طلب کر احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ۔عبدالباسط نے بھارت کا یہ احتجاج مسترد کیا اور کہا کیا عجب ہے کہ دہشت گرد ی بھی کراتے ہیں اور احتجاج بھی ہمیں سے کرتے ہیں۔کلبھوشن یادیو کے ہاتھ کراچی اور بلوچستان میں بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ریاست کو اپنی رٹ بحال رکھتے ہوئے اس دہشت گرد کواب ''ریمنڈ ڈیوس '' نہیں بنانا چاہئے جو پاکستانی شہریوں کوقتل کرکے خاموشی سے اُڑن چھُو ہوگیا تھا۔ نہ کشمیر سنگھ بنانا چاہئے جو مدتوں سزائے موت کا انتظار کرکے ایک دن رہا ہو کر پاکستانی قانون اور اتھارٹی کا مذاق اُڑاتا ہوا واہگہ کی سرحد پار کر گیا تھا ۔ کلبھوشن کو سزائے موت سنائی گئی تو یوں لگا کہ بھارت کی دُم پر پائوں آگیا ہے۔یوں لگتا ہے کہ پاکستان نے ایک جاسوس کوسزائے موت سنا کر کوئی انوکھا فیصلہ نہیں کیا۔جاسوس بھی عام معلومات حاصل کرنے اور پلوں کی تصویں بنانے والا یا کسی مزار پر فقیر کا بھیس بدل کر لوگوں سے روابط رکھنے والا کوئی عام قسم کا نہیںبلکہ ایک ایساشخص جو ایک نیٹ ورک کا سرپرست ،نگران اور مالی معاون تھا ۔اسی نیٹ ورک کے ہاتھوں کراچی میں روزانہ کم از کم نصف درجن افراد اندھی گولیوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے رہے۔

بلوچستان میں غریب محنت کش ،مزدور،حجام،موچی ،دانشور،صحافی ،پروفیسر،سول سرونٹ ،فوجی ،پیراملٹری فورسز کے ہزاروں نوجوان قتل ہوئے ۔کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے اعلان کے بعد بھارت کی چیخ وپکار بتاتی ہے کہ یہ شخص بھارت کے لئے محض نیوی کا ایک افسر نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک انسانی اثاثہ تھا۔جس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے بھارت کی ساری پاکستان مخالف سٹریٹجی کو تفتیشی اداروں کے سامنے طشت ازبام کر دیا ہے۔کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے بعد بھارتی حکمران ،سیاسی جماعتیں اور میڈیا جھاگ اُگل رہا ہے۔پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس کلبھوشن یادیو کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بحث کے لئے بلایا گیا ۔جس میں ایک طرف بی جے پی کے انتہا پسند گرجتے برستے رہے وہیں بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ عالم بوکھلاہٹ اور بدحواسی میں کچھ جملے ادا کرتے رہے ۔ وہ کون سی دھمکی اور گیدڑ بھبکی ہے جو بھارت نے نہیں دی ۔سب سے دلچسپ تبصرہ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا تھا کہ کلبھوشن بھارت کا بیٹا ہے اس کو بچانے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔اس بات سے کسے انکار ہے کہ کلبھوشن بھارت ماتا کا بیٹا ہے۔بھارت ماتا کے اس بیٹے کے ہاتھ پاکستان میں ہزاروں ماتائوںکے بیٹوں کے لہو سے رنگین ہیں ۔پاکستان ایک آزادریاست ہے ۔یہ وہی ریاست ہے جو ستر سال میں بھارت کے آگے کھڑا ہے ۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک بھارت کی دولت اور سیاست کے آگے ڈھیر ہو چکے ہیں مگر پاکستان ایک الگ تہذیب کا نمائندہ اور ماضی کا امین بن کر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ روکے ہوئے ہے ۔اس ملک کا اپنا قانون ہے ۔عدالتیں ہیں ۔مخصوص حالات ہیں ۔اس ملک میں ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی جاسوسوں کے قانون کے ہاتھوں سے بچ نکلنے کی مثالیں بھی موجود ہیں مگر بھارت یہ نہ بھولے کہ وہ امریکہ نہیں ۔پاکستان اس ملک کے ساتھ پنجہ آزمائی کا پرانا خوگر ہے ۔بھارت کی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر قانون اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھارت کے اس بیٹے کو انجام تک پہنچنا چاہئے تاکہ دوبارہ بھارت کو پھر کسی ''کلبھوشن یادیو ''کا کردار تراشنے کی جرات نہ ہو سکے۔پاکستان نے بھارت کی تما م دھمکیاں مسترد کرتے ہوئے اپنے قوانین اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا جرات مندانہ اعلان کرکے بھارت کو دوٹوک جواب دے دیا ہے۔

متعلقہ خبریں