Daily Mashriq


پاکستانی اقتدار یا زبیدہ آپا کے ٹوٹکے

پاکستانی اقتدار یا زبیدہ آپا کے ٹوٹکے

ہم مانتے ہیں کہ 2008 ء تک اس ملک میں آمریت اور جمہوریت کی نوراکشتی رہی۔ ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آمروں نے اپنازیادہ تر وقت اقتدار کی جلا اور طوالت کیلئے عوام کو محدود نظریوں اور پچھلے جمہوری حکمرانوں کی غلطیاں گنوانے میں گزارا۔ ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ جمہوریت اور آزاد میڈیا کا ساتھ پاکستان کے نصیب میں آیا ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں اور یہ دونوں عوامی قوتیں وقت کیساتھ اپنے پاؤں پختہ کریں گی۔ چلیں ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ 65 اور 71 کی جنگیں، دہشتگردی کیخلاف حالیہ جنگ، ناجائز اسلحہ، منشیات، کرپشن، افغانستان سے منسلک جنگیں، زلزلے، سیلاب اور ان جیسے بہت سارے مسائل ہمارے اوپر تھوپے گئے جسکی وجہ سے ہم ترقی نہیں کرسکے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری ساری سیاسی جدوجہد کی تاریخ احتجاج برائے اقتدار یا احتجاج برائے جمہوریت کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن اس میں قومی ریاست، قومی تشخص و کردار، ، قومی فریضے، آئندہ نسلوں کی تربیت، سادگی، حقوق العباد اور دیانتداری کے بارے میں کوئی جامع اورکائناتی نظریہ یا تحریک کیوںنظر نہیں آتی؟ ۔اپنی ستر سالہ سیاست اور اقتدار کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ زبیدہ آپا والے گھریلو ٹوٹکوں کی طرح دِکھے گی کہ جس میں ہر مسئلے کا سستا اور فوری حل تو بتایا جاتا ہے لیکن ان میں مسائل کے دائمی اسباب اور ان کے تدارک کیلئے درکار کٹھن و بامشقت اقدامات کا تذکرہ شاذونادر ہی ملتا ہے۔ ایٹمی پروگرام، چند ایک بڑے ڈیم، آپریشن ضربِ عضب، اوران جیسے کچھ اور منصوبوں کو اگر تھوڑی دیر کیلئے ایک طرف رکھ کر سوچیں تو باقی بچ جانے والی پاکستانی سیاسی تاریخ کسی اکھاڑے سے کم نہیں کہ جس میں ستر سالہ ٹوٹکا بازی نے ہماری کمر توڑکر رکھ دی ہے۔1949ء میں اپنائی گئی قراردادِ مقاصد سے لیکر سکوتِ ڈھاکہ ، جنرل ایوب خان کے''معاشی انقلاب'' والے پہلے مارشل لاء سے لیکر جنرل ضیاء الحق کی ''شرعی جمہوریت'' اور جنرل مشرف کی ''اصل جمہوریت'' والے مارشل لا، سستی روٹی، موٹروے اور میٹرو، اور درآمد شدہ وزرائے اعظم سے لیکر موروثی سیاست کی پاداش میں مستقبل کی قیادت کے بارے میں سوچتا میرے جیسا عام فہم پاکستانی اس گتھی کو سلجھانے کا ارادہ تو کیا اس کے بارے میں خیال کرنے کی بھی ہمت چھوڑ بیٹھا ہے۔ معاشروں کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو معاشرے وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کرتے وہ زوال کی طرف جاتے ہیں۔ جب قومیں تنزلی کی گہرائیوں میں گرتی ہیں تو ہر طرف جہالت،رجعت پسندی ،بے عملی اور نا انصافی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جھوٹ اور سچ میں تمیز ختم ہو جاتی ہے،قومی سطح سے لے کر نچلی سطح تک ہر فرد اور ادارہ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے لیکن اپنے گریبان میں کوئی بھی جھانکنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ ہم بھی ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ان حالات میں صرف ٹوٹکابازی نہیں بلکہ باکردار اور با صلاحیت قیادت کے سائے تلے قومی اصلاح کی تحریک کی ضرورت ہے جو پاکستانیت، ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کی تبلیغ اور تربیت کرے۔ 

یہ تحریک آنے والی کچھ دہائیوں تک خاموشی سے اپنا کام کرتے ہوئے پاکستان کو محبِ وطن، ایماندار، یکجا اور منظم پاکستانی دے۔ وقت کے ساتھ آنے والی تربیتی نسلیں خودہی ریاستی نظام کوعادلانہ اصولوں اور عصری تقاضوں کے مطابق چلانے لگیں گی۔ اب اگر کوئی کہے کہ دہائیوں پر محیط یہ لقمانی نسخہ موجودہ پاکستانی عارضوں کیلئے کارگر نہیں تو ان کی تسلی کیلئے زبیدہ آپا والے سیاسی نسخے بھی جاری رکھے جاسکتے ہیں لیکن وہ ڈھنگ کے تو ہوں، ایسے چند ایک ٹوٹکے جن کو اپنایا جاتا تو شاید ہم آج یہی تحریر ایک اور نظریئے اور زاویئے سے لکھ پڑھ رہے ہوتے۔ مثلاً پاکستان کے موجودہ گمبھیرترین مسائل میں رشوت بازاری، بیرونی قرضہ جات، دہشتگردی، اور ان سے منسلک بنیادی سہولتوں تک عدم رسائی والے مسائل شامل ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میاں صاحبان اور ان کی حکمران جماعت گزشتہ سال کرپشن و قرض مکاؤ کمیشن کا اعلان کرتے اور راحیل شریف کو اس کی سربراہی کی پیشکش کرتے۔ مجھے پتا ہے کہ آپ لوگ نوے کی دہائی والی قرض مکاؤ مہم کے بارے میں سوچ رہے ہیں اسی لئے اس ٹوٹکے میں راحیل شریف کا تذکرہ ہے کیوںکہ ریٹا ئرمنٹ کے اعلان سے پہلے بھی اور اس اعلان کے بعد جنرل راحیل کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔اسی طرح آصف زرداری سندھ میں صحت کے شعبے کو خودمختار بنا کر ڈاکٹر ادیب رضوی جیسی شخصیت کو اس کی سربراہی دیتے تو شاید سیہون شریف کا واقعہ کسی حد تک کم ہولناک ثابت ہوتا۔ پختونخوا حکومت احتساب کے نظام کی ازسرنو تشکیل کرتی اور کرپٹ افراد کو بے نقاب کرکے عبرتناک سزائیں دیتی۔ پنجاب حکومت ہر کام میں ہاتھ ڈالنے کی بجائے عوامی صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں کوئی بہت ہی نمایاں کارکردگی دکھاتی۔ مثلاً ارفہ کریم جیسے بچے اور بچیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور ان کو گوگل اور آئی بی ایم جیسے اداروں سے سندیں دلوائی جاتیں۔ اگر دور رس اقدامات ان حکومتوں کے بس کی بات نہیں تو بھی اوپر بیان کئے گئے اور ان جیسے نہ جانے اور کتنے ٹوٹکے ہیں جو اقتداری سیاست کی آبیاری کیلئے اپنائے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر موجودہ حالات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ہوش آتے آتے ''چڑیا کھیت چگ جاوے گی''۔

متعلقہ خبریں