Daily Mashriq


دارالتصنیف کی یاد میں

دارالتصنیف کی یاد میں

ہم نے اپنی آج کی تحریر کا عنوان ہمیش خلیل کی یاد میں پسند کیا تھا پھر یہ سوچ کر ترک کردیا کہ قارئین کہیں ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ ہم صرف دنیا میں ناموجود لوگوں کو ہی یاد کرتے ہیں۔ خدانخواستہ ایسی کوئی بات نہیں۔ پشتو زبان وادب کی یہ ہمہ جہت شخصیت بفضل تعالیٰ زندہ ہے بس صرف ایک نامشکور قوم اور حکمرانوں کی بے حسی کا شکار ہوگئی ہے۔ یوں سمجھئے دارالتصنیف کے ذکر سے کہ وہ اس اشاعتی اور تحقیقی ادارے کے روح رواں تھے ہم اس عنوان کے تحت ہمیش خلیل کے ادبی کارناموں کو ہی سامنے لانا چاہتے ہیں جن کے بارے میں نئی نسل تو دور کی بات ہے حکمرانوں کو بھی کوئی علم نہیں ورنہ سوسے زیادہ تحقیقی کتابوں اور مقالات کا یہ مصنف آج پشاور کے کسی مضافاتی قصبے میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور نہ ہوتا۔ دارالتصنیف قصہ خوانی بازار کے عقب میں واقع بابو حیدر روڈ کے نام کی ایک خاموش و سنسان گلی کے ایک مکان میں قائم تھا۔ ہمیش خلیل اس تحقیقی اور اشاعتی ادارے کے سربراہ اور تن تنہا اکیڈمی کے طور چلانے والی شخصیت تھے۔

یہ 1958ء کا زمانہ تھا ہمارے استاد میاں خیرالحق گوہر کاکا خیل ان سے ملاقات کے لئے گئے تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے۔ دیکھا کہ مکان کی نچلی منزل کے ایک تنگ و تاریک کمرے میں ایک جوانسال شخص چھوٹی سی میز پر ٹیبل لیمپ جلائے کچھ لکھ رہا ہے۔ ان کے چاروں اطراف میں کتابوں کے انبار کھڑے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ دارالتصنیف کے نام سے اس چھوٹے سے کمرے میں تحقیقی ادارہ صرف ان کی ذات پر مشتمل تھا۔ نصر اللہ خان نصر اس تحقیقی ادارے کی ادبی کاوشوں میں ہمیش خلیل کے معاون تھے۔ ان کا ذکر ہم کسی آئندہ کالم میں کریں گے۔ دارالتصنیف آج موجود نہیں لیکن اس ادارے سے شائع ہونے والی کتابیں آج بھی حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔ فارغ بخاری نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ ہمیش خلیل کی ادبی فتوحات بے کنار ہیں۔ پشتو زبان و ادب کی تاریخ میں اس اعتبار سے ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ انہوں نے تحقیق و تجسس اور تخلیق کے میدان میں کسی سرکاری اکادمی سے کئی گنا زیادہ کام کیا ہے۔ ان کے بقول تاریخ گواہ ہے کہ پشتو اکادمی نے آج تک جتنے بھی قدیم مخطوطات شائع کئے ہیں ان میں بیشتر کی دریافت کا سہرا ہمیش خلیل کے سر ہے۔ صرف یہی نہیں بے شمار نایاب کتابیں جب دارالتصنیف نے شائع کیں تو اس کے بعد پشتو اکادمی بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ ہمیش خلیل کی تحقیقی اور تنقیدی کاوشوں کی تفصیل گوہر رحمن راز کی کتاب د انذر گل اور حنیف خلیل کی تصنیف ہمیش خلیل جوند و فن میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ہمیش خلیل ایک پیشہ ور ادیب ضرور ہیں لیکن انہوں نے ادب کو کبھی جلب زر کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ ایک مشن کے طور پر تحقیق و تدقیق کا کام جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج 87 سال کی عمر میں بھی کرائے کے مکان میں مقیم ہیں۔ شنید ہے کہ وہ کچھ سال پہلے اپنے گائوں تہکال کے آبائی مکان سے پشاور یونیورسٹی کے قریب کسی کالونی میں نئے گھر میں منتقل ہوئے اور پھر اسے فروخت کرکے انہیں کرائے کے مکان میں مقیم ہونا پڑا۔ ہمارے اس لیجنڈ ادیب کو زندگی بھر کبھی ذاتی سواری میسر نہ ہوئی۔

ان کی خود داری کا یہ عالم ہے کہ وہ آج بھی کسی کے سامنے دست طمع دراز کرکے اپنی عزت نفس کو مجروح کرنا نہیں چاہتے۔ ہمیں ایک مردہ پرست قوم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا سے گزرنے کے بعد ہی ہم کسی کو یاد کرکے اپنا ذوق مردہ پرستی قائم رکھتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں کارنامے انجام دینے والوں پر جب وہ زندہ ہوتے ہیں ہم کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ کسی بھی فنکار' کھلاڑی یا رائٹر کو اس کی عزت نفس کے بدلے حکمرانوں سے یہ کہنے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے کہ میری حالت پر رحم کرو' میری مدد کرو۔ یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے افضل رضا' تاج سعید' ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اور بے شمار دوسرے ادیب زندگی کے آخری دور میں مالی مسائل کا شکار رہے اور پھر نہایت ہی کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے گزر گئے۔ ہمارے دوست تاج سعید کو اپنی وفات سے کچھ دن پہلے اپنی تمام تصنیفات اور ذاتی لائبریری کباڑی بازار میں فروخت کرنا پڑیں۔

ہمارے دوست عبدالسبحان خان جو نون لیگ کے گزشتہ دور میں صوبائی وزیر اطلاعات تھے ہمیشہ نادار اور مستحق فنکاروں کی مالی امداد کی مہم میں پیش پیش رہے اور آج بھی ان کی یہ کاوشیں جاری رہتی ہیں۔ کچھ ماہ پہلے جشن خوشحال خان خٹک کے سٹیج پر انہوں نے اپنے خطاب میں ہمیش خلیل کی ادبی خدمات کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ہمارا یہ بزرگ ادیب حکمرانوں کی توجہ کا مستحق ہے۔ گورنر تقریب کی صدارت فرما رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اس ضمن میں گورنر کو ایک تحریری استدعا بھی پیش کی جس پر اس عاجز کے دستخط بھی ثبت تھے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کاغذ کا وہ ٹکڑا دفتری کارروائی کے کس مرحلے میں ہے۔ ریکارڈ پر موجود بھی ہے یا نہیں۔ شنید ہے کہ سلطان محمود غزنوی کا شاہی ہر کارہ حب فردوسی کی شاعرانہ عظمتوں کے اعتراف میں60ہزار درہم کا تھیلا لے کر طوس کے شہر میں داخل ہوا تو دوسرے دروازے سے فردوسی کا جنازہ نکل رہا تھا۔ ہم ہمیش خلیل کے لئے ایک صحت مند زندگی کی دعا مانگتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ اگر دنیا میں موجودگی کے دوران ہی ان پر توجہ فرما دی جائے تو پشتو کے ایک لیجنڈ لکھاری میں مزید کچھ عرصہ تک زندہ رہنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے گا۔ کیا یہ ممکن نہیں؟

ھسے نہ مرگ رالہ د جوند سختے آسانے نہ کڑی

ہما زما د درد علاج لوکوٹی زر پکار دے

متعلقہ خبریں