Daily Mashriq


مگر مچھ کے آنسو اور مسئلہ کشمیر

مگر مچھ کے آنسو اور مسئلہ کشمیر

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ او ر سربراہ نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے ، ورنہ رہا سہا مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہو جائے گا ۔ بھارتی میڈیا کو دیئے گئے اپنے تازہ انٹر ویو میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سری نگر میں جاری ضمنی انتخابات کے دوران تشدد اور غارت گری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار مودی سرکار کو ٹھہرایا ہے ، اور کہا کہ مودی سرکار آگ سے کھیل رہی ہے ، کیونکہ پتھر ائو کرنے والے کشمیر ی نوجوان کسی عہد ے یا وزارت کے طلبگار نہیں بلکہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ کیونکہ بھارتی حکومت نے ان سے ہر طرح کی آزادی چھین لی ہے ، اوروہ آزادی کیلئے ہی لڑ رہے ہیں ۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آپ چاہیں نہ چاہیں پاکستان سے مذاکرات کرنا ہوں گے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے ہمیشہ کشمیر یوں کے کازسے غداری کی ، ان کے والد شیخ عبداللہ نے کشمیر کو علیحدہ کر کے وہاں اپنی حکومت بنانے کیلئے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کو بھی دھوکہ دیا ۔ پہلے بھارتی پردھان منتری پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی اور جب مو صوف نے بعد میں بھارت کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی تو بھارتی حکومت نے اسے کشمیر کی وزارت علیاء سے ہٹا کر جیل میں ڈالا اور شیخ عبداللہ ہی کے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار بخشی غلام محمد کے ذریعے شیخ عبداللہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر بخشی غلام محمد کو وزیر اعلیٰ بنوادیا ۔طویل عرصے تک شیخ عبداللہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہے ، بالا خر جب اس نے بھارتی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تو اسے رہا ئی ملی ، جبکہ بخشی غلام محمد کی حکومت کے دوران مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی اسمبلی نے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ ایک قرار داد کے ذریعے کرنے کا اعلان کیا تھا ، حالانکہ یہ سر ا سر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی بھی تھی جن میں طے پایا تھا کہ کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے انتظام کے تحت استصواب رائے کا حق دیا جائے گا ۔جیل سے رہائی کے بعد شیخ عبداللہ ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنا دیئے گئے ۔ تاکہ بھارت دنیا کو یہ تاثر دے سکے کہ کشمیر ی مسلمانوں نے غیر قانونی الحاق کو قبول کر لیا ہے۔ شیخ عبداللہ کے انتقال کے بعد ان کے فرزند ڈاکٹر فاروق عبداللہ مقبوضہ وادی میں بر سر اقتدار آئے اور کئی بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر براجمان رہے ، تب ان کا لہجہ بھارت کے حق اور پاکستان کے خلاف رہا ، جبکہ مقبوضہ وادی میں آزادی کیلئے جد وجہد کرنے والے رہنما ئو ںاو ر عوام پر وہ بھی مظالم توڑ تے رہے ہیں ، یہاں تک بھی بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اپنے بعد موصوف نے آگے اپنے بیٹے عمر عبداللہ کو مقبوضہ کشمیر کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھا تے ہوئے خود بھارت کی مرکزی حکومت کا حصہ بن گئے تھے اور تب ان کی زبان سے آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد کرنے والوں کیلئے جو گل افشانی گفتار ہوتی تھی وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔بعد میں ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو ریاستی انتخابات میں شکست ہوئی تو اسے بھی دہلی حکومت میں نائب وزیر بنوا کر کشمیر کے معاملات میں دخیل بنا دیا تھا ۔ یوں یہ خاندان جو ہمہ خانہ آفتاب کہلا نے کا زیادہ حقدار لگتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند عوام کو یہ تاثر دیتے رہے کہ کرلو جو کرنا ہے کشمیر کی آزادی تمہارے لیے ایک خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ بقول ناصر بشیر

وہ کہتے ہیں کشمیر کو ایک خواب ہی سمجھو

میں کہتا ہوں ہر خواب کی اک ہوتی ہے تعبیر

اے دوست ستمگر یہ تجھے کون بتائے

مشکل ہے بہت سینئہ بے تاب کی تسخیر

اب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ایک بار پھر یا د آیا ہے کہ کشمیر کے نوجوان آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں اس لئے بھارت سرکار عقل کے ناخن لے اورپاکستان کے ساتھ مذاکرات کر کے مسئلے کا حل نکا لے بصورت دیگر بھارت کشمیر کو کھو دے گا ۔ تاہم ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسندوں کی آڑ میں کشمیری عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مصائب بھول کر انتخابات کے دوران ان کی جماعت کو ووٹ دے کر ایک بار پھر اقتدار میں لے آئیں۔ موصوف نے اپنے بیان میں مودی سرکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا چاہتے ہیں تو یہی بہتر ہے کہ بات چیت ابھی سے شروع کی جائے۔ عسکری نہیں سیاسی حل نکالنے کا سوچیں۔ نوجوان بپھرے ہوئے ہیں۔ جاگو انڈیا جاگو تم کشمیر کھو رہے ہو۔ پاکستان سے بات کرکے مسئلے کا حل نکالو۔ محولہ بالا الفاظ کے بین السطور ڈاکٹر فاروق عبداللہ بڑی چالاکی کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کو ''دہشت گردی'' ثابت کرنا چاہتے ہیں اور وہ مودی سرکار کو مذاکرات کا مشورہ دے کر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضے کو برقرار رکھنے کے بھی خواہشمند دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس نے محبوبہ مفتی' فاروق عبداللہ اور دیگر بھارت نواز سیاستدانوں کی طرف سے 9اپریل کی شہادتوں پر واویلا کو بے معنی اور نمائشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکار لوگ صرف مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جبکہ کشمیریوں کے قتل عام کے لئے یہ برابر کے شریک ہیں۔

متعلقہ خبریں