Daily Mashriq


فاٹا میں عدالتی نظام کا نفاذ

فاٹا میں عدالتی نظام کا نفاذ

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کادائرہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظوری کے بعد فاٹا میں عدالتی عمل کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ یہ قبائلی عوام کا سب سے بڑا مطالبہ تھا۔ قبائلی علاقوں تک سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کی توسیع کے بعد ایف سی آرکی جگہ ملکی عدالتی نظام مروج ہوگا اور فرنگی دورکے ظالمانہ قانون کاخاتمہ ہوگا۔ فاٹا میں اصلاحات کی مساعی کی کافی لمبی تاریخ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی اصلاحات کے کئی مواقع آئے اور ضائع گئے۔2006ء صاحبزادہ امتیاز احمد رپورٹ کو فاٹا میں انتظامی اصلاحات میں پہلی جامع کوشش قرار دیا جاتا ہے لیکن آئین سے متعلق ترامیم پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔2008ء جسٹس (ر) میاں محمد اجمل رپورٹ میں برطانوی راج سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم تجویز کی گئیں لیکن ایف سی آر 2011میں سب کو شامل نہ کیا گیا۔2011صدر آصف علی زرداری نے سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دی اور لوکل باڈیز ریگولیشن بھی تیار کیا گیا لیکن سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔2015ء میں گورنر خیبرپختونخوا نے فاٹا ریفارمز کمیشن تشکیل دیا جس کی سفارشات پر بھی جزوی عمل درآمد ممکن ہوسکا۔اب بالآخر 2018ء کے پہلے ماہ قبائلی عوام کو ایک ٹھوس اور سنجیدہ صورت میں قومی دھارے میں شمولیت کا موقع مل رہا ہے جس کا قبائلی عوام کی جانب سے طویل عرصے سے شدت سے انتظار تھا۔ اصلاحاتی اقدامات کے اولین مرحلے پر عدالتی نظام کی فاٹا تک توسیع قبائلی عوام کے لئے امید کی کرن ہے۔ موجودہ حکومت نے ان اصلاحات کا بیڑا اٹھانے کی ٹھان تو لی تھی لیکن اپنی دو اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت کے باعث اسمبلی ایجنڈے میں معاملے کو شامل کرنے کے مرحلے کے بعد بھی ایوان میں بل پیش کرنے کی نوبت نہ آسکی تھی ۔اب جبکہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بل کی منظوری کا مرحلہ آیا تب بھی انہی دو جماعتوں نے اس کی مخالفت کی باقی ساری جماعتوں نے اس کی حمایت کی اور اسے سراہا بھی۔ اس بارے کئی کل جماعتی کانفرنسیں ہوئیں ' کئی قبائلی جرگے ہوئے لیکن معاملات ایوان میں آکر التواء کاشکار ہوتے رہے ہیں اور بالآخر یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اس معاملے میں قوم پرست جماعت اے این پی کی قیادت سے بھی دو قدم آگے نکل چکے تھے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ فاٹا انضمام بارے کل جماعتی کانفرنس میں اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کا اظہار تک کیا تھا کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کی مستقل سرحد میں تبدیل ہو چکی ہے جس سے اے این پی کی سوچ میں بڑی تبدیلی اور حقیقت کے اعتراف کا عندیہ ملتا ہے جو نہایت خوش آئنداور خود اے این پی کے حوالے سے برسوں سے موجود شکوک و شبہات کے ازالے کا باعث ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی کے موقف اور تحفظات سمجھ سے بالا تر ہیں جو اب بھی ڈیورنڈ لائن کے بارے میں تاریخی اور زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ۔فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے فاٹا کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ایک اہم سنگ میل ہے جس سے ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوجائے گا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات کی مانیٹرنگ کے لیے وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی عمل درآمد کمیٹی پہلے ہی قائم ہے۔فاٹا کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک غیر منضبط نظام کے تحت زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ گو کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں اور خود قبائلی عوام کے درمیان اختلافات موجود ہیں کہ طریقہ کار کیا اختیار کیا جائے لیکن من حیث المجموع آئینی حقوق دینے کے حوالے سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے صدیوں پر مبنی غیر قانونی ایف آر سی کے قانون کا خاتمہ ہوگا اور فاٹا کی سیاسی انتظامیہ کے ہاتھوں میں عدالتی اور انتظامی قوتوں کی اس ظالمانہ بالادستی کاخاتمہ ہوگا جس کا خواب قبائلی عوام بہت عرصے سے دیکھ رہے تھے۔فاٹا میں عدالتی نظام کے قیام سے قبائلی عوام کو حصول انصاف میں آسانی تو ہوگی ہی اس سے فاٹا میں ایک بڑی معاشرتی تبدیلی بھی آئے گی جبکہ سول ججوں' سیشن ججوں اور ہائیکورٹ کے تقریباً نو ججوں کی تقرری عمل میں آئے گی۔ علاوہ ازیں ان کے ساتھ معاون عملہ کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی جس سے نہ صرف وہاں کے نوجوانوں کو روز گار ملے گا بلکہ وکلاء اور نو ٹری پبلک اور سٹامپ فروشوں سمیت کئی قسم کا کاروبار ہوگا اور افرادی قوت بھی کھپ جائے گی۔ ہمارے تئیں قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا پہلا قدم مشکل اور صبر آزما تھا اس بل کی منظوری کے بعد ہونے والے اقدامات کو کامیاب بنانا اور خاص طور پر علاقے میں استحکام امن کے لئے قبائلی عوام کا مثبت کردار و عمل بہت ضروری ہوگا۔

متعلقہ خبریں