Daily Mashriq


پولیو قطرے پینے سے محروم ایک لاکھ بچے

پولیو قطرے پینے سے محروم ایک لاکھ بچے

پولیو کے حوالے سے پاکستان کے قومی کوآرڈینیٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ انسدادِ پولیو مہم میں اب تک ایک لاکھ بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔گو کہ یہ ایک تشویشناک امر ہے لیکن مقام اطمینان امر یہ ہے کہ اس کے باوجود ملک بھر سے اکٹھے کیے جانے والے ماحولیاتی نمونوں میں بھی نہ صرف پولیو وائرس میں واضح کمی آئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ وائرس مضبوط ہونے اور مزید پھیلنے کی بجائے اب خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کا شمار اب بھی دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور نائیجیریا ہیں جہاں اب بھی بچوں کو پولیو لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔2014سے 2018کے دوران پاکستان میں پولیو کے کیسز میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔2014میں پولیو کے306کیس ریکارڈ کیے گئے جبکہ گزشتہ برس ملک بھر میں پولیو کے صرف آٹھ کیسز سامنے آئے تھے۔رواں سال اب تک بلوچستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا ہے۔پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس مہم کی نہ صرف مختلف سطح پر مخالفت ہوئی ہے بلکہ کئی مرتبہ جان لیوا حملوں میں پولیو ورکرز جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ بہرحال اب اس طرح کی صورتحال تو نہیں رہی اس مہم کی مخالفت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے باوجود تشویشناک بات یہ ہے کہ جن ایک لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کے باعث یہ بچے پولیو قطرے پینے سے محروم رہ گئے ان میں سے ممکنہ طور پر کوئی بچہ خدانخواستہ پولیو وائرس کاشکار ہوا تو ساری محنت کے اکارت جانے کا خدشہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال پر از سر نو غور ہونا چاہئے اور ان بچوں کے والدین کو اس امر پر قائل کرنا از حد ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت دیں۔ حکومتی سطح پر بعض سخت اقدامات کبھی کبھار دیکھنے میں ضرور آتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔ مسئلے کا حل تمام والدین کو ترغیب کے ذریعے رضا کارانہ طور پر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر رضا مند کرنا ہے جو توجہ اور محنت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں