Daily Mashriq


طالب علموں میں منشیات کا بڑھتا رجحان

طالب علموں میں منشیات کا بڑھتا رجحان

ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی خاصی تعداد منشیات کی لت میں مبتلا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ طلباء و طالبات کو تعلیمی اداروں کے اندر یا پھر اس کے ارد گرد منشیات باآسانی مل جاتی ہیں۔ لرزا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ لڑکیوں میں آئس کا نشہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور منشیات فروش عناصر کی دیدہ دلیری اور انتظام کاری کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو گھروں کے دروازے پر منشیات پہنچا آتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا اور جدید ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے رازداری کے ساتھ رابطے میں آسانی ہوتی ہے جس کا انسانیت کے دشمن بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پشاور میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور سپلائی کرنے والوں کے خلاف موثر مہم میں تساہل کا مظاہرہ کرنے کی مزید گنجائش نہیں۔ نوجوان نسل جس تیزی کے ساتھ نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہو رہی ہے وہ حیرت انگیز اور خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ ہمارے تئیں اس امر کی تحقیق ہونی چاہئے کہ وہ کون سے عوامل ہوتے ہیں جو نوجوان نسل کو نشے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی نشے کی طرف رغبت کیوں پیداہوتی ہے اس کے کیا نفسیاتی سماجی اور ماحولیاتی عوامل ہیں اگر اس ضمن میں ماہرین تحقیق اور مشاہدے کے بعد کوئی لائحہ عمل تجویز کریں اور اس پر متعلقہ حکام کی طرف سے خلوص کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے تو نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے سنجیدہ سعی ہوسکتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نشہ آور اشیاء کی سپلائی اور دستیابی کے کئی ایک امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکولوں میں یہ کیسے ممکن ہوتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر توجہ دے کر معصوم الذہن طالب علموں کو منشیات فروشوں کے چنگل سے بچایا جاسکتا ہے۔ انسداد منشیات کے حکام اگر اس جانب سب سے پہلے توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کالجوں' یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں منشیات کی دستیابی اور استعمال کوئی راز کی بات نہیں متعلقہ اداروں ' پولیس اور انتظامیہ سبھی اپنا کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ منشیات کے استعمال اور بہم رسانی میں کمی نہ آئے۔ جن منشیات فروشوں کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور جن کو گرفتار کیاگیا ہے اگر سنجیدگی سے سراغ اور سرا یہیں سے تلاش کرکے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوششیں کی جائیں تو کامیابی نا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں