Daily Mashriq


تاحیات نااہلی کا فیصلہ

تاحیات نااہلی کا فیصلہ

معزول وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بارے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر تاحیات عوامی عہدوں کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ عدالت آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی محض آئین کی تشریح ہی کر سکتی ہے۔ آئین کی شق نمبر 62(١) الف اگرچہ صادق اور امین ثابت نہ ہونے والے شخص کی عوامی عہدوں کے لیے نااہلی کی کوئی مدت درج نہیں کی گئی ہے اس لیے یہ نااہلی تاحیات ہے۔ جب تک فیصلہ تبدیل نہیں ہو جاتا یا آئین کی اس شق میں ترمیم نہیں ہو جاتی میاں نواز شریف ' جہانگیر ترین اور ان سے پہلے نااہل قرار دیے جانے والے دس سے زیادہ افراد نااہل رہیں گے ۔ اب یہ شعبہ یا تو قانون دانوں کا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ فیصلہ کس طرح تبدیل ہونا ممکن ہے۔ یا سیاست دانوں کا ہے کہ وہ آئین میں ایسی ترمیم لائیں جس کی بنا پر آئین سے یہ شق حذف کر دی جائے۔ میاں نواز شریف نے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ ''اسی فیصلے کی توقع تھی۔'' انہوں نے کہا ہے کہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوام سے ان کی قیادت نہیں چھینی جا سکتی اور کارکن صبر سے کام لیں۔ حالات کا سیاسی انداز میں مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کارکنوں کو کال دیں گے ۔ یہ کال کیا ہو گی فی الحال وہ خود ہی جانتے ہیں یا خود ہی فیصلہ کریں گے۔ تاہم مقدمات کے زیر سماعت ہونے کے دوران وہ سیاسی جلسے کر رہے ہیں ، ان میں ان مقدمات کے فیصلوں کے بارے میں اظہارِ خیال بھی کرتے ہیں۔ عدلیہ کے ارکان پر انتقامی کارروائی اور بغض رکھنے کے الزام بھی لگاتے ہیں ۔ ان کے ان بیانات کے بارے میں متعدد قانون دانوں کا خیال ہے کہ وہ توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ بغض' کینہ اور انتقام کا الزام تو لگاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے آخر ایسا کیا کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔ جہاں تک حالات کا سیاسی انداز میں مقابلہ کرنے کی بات ہے ان کے بارے میں قانون کے مطابق فیصلے آئے ہیں اور یہ فیصلے عدالتوں نے دیے ہیں۔ اگر سیاسی انداز میں مقابلے سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ رائے عامہ کو ان فیصلوں کے خلاف قائل کرلیں گے تو بھی قانون کے فیصلے اٹل ہی رہیں گے۔ تاآنکہ قانون ہی بدل دیا جائے اور یہ فورم پارلیمنٹ ہے جس کی دو تہائی اکثریت آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ تو کیا میاں صاحب جو سیاسی جلسے کر رہے ہیں انکا مقصد پارلیمنٹ میں ن لیگ کی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہے؟ لیکن میاں صاحب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں وہ نظریاتی ہو گئے ہیں اور مستقبل میں جہاں بھی ہوں گے کارکنوں اور عوام کو آئندہ کے لیے کال دیں گے۔ یہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے مہم چلانے سے آگے کی بات لگتی ہے۔ اس وقت جب عام انتخابات میں دو تین ماہ رہ گئے ہیں ان کی انتخابی مہم ان کی اپنی ذات اور مقدمات پر مرکوز ہے ۔ ن لیگ کو متحد کرنے اور اسے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے متعلق لائحہ عمل دینے کے مقصد کی حامل نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ ان کی پارٹی سے لوگ ان کے سیاسی رویے کے باعث منحرف ہو رہے ہیں ۔ چالیس کے قریب منتخب نمائندے ن لیگ سے جدا ہو چکے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ باقی جو ہیں ان میں سے بھی بہت سے تیار بیٹھے ہیں۔ میاں صاحب انہیں منانے کی کوشش کرنے کی بجائے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلم لیگی تھے ہی نہیں ۔ اس طرح نون لیگ کے منتخب نمائندوں کی ایک بھاری تعداد ایسی نکلے گی جو ق لیگ میں شامل ہو گئی تھی اور اس کے بعد ن لیگ میں آئی۔ میاں صاحب کی قوت جیسی بھی ہے ن لیگ ہی ہو سکتی ہے لیکن وہ اسے خاطر میں نہیں لا رہے۔تاحیات نااہلی کے فیصلے کے بعد چوہدری نثار علی خان کی پارٹی صدر میاں شہاز شریف سے ملاقات اہمیت کی حامل ہے۔ میاں نواز شریف کی محاذ آرائی کے مؤقف سے واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔ لیکن چوہدری صاحب اور میاں شہباز شریف کی خواہش ہو گی کہ پارٹی کو محاذ آرائی سے پہنچنے والے نقصان سے بچایا جائے ۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے ابھی تک اپنے آپ کو سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹر نہیں کرایا ہے۔ پارٹی کے جو لوگ نواز شریف کی محاذ آرائی کے بوجھ کے ساتھ انتخابات میں نہ جانا چاہیں گے ان کے لیے ایک راستہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں اترنے کا بھی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کام کرنے والے آدمی کو سیاست سے ہمیشہ نکال دیا جاتا ہے ، وہ میاں نواز شریف کی کارکردگی کو اہمیت دے رہے ہیں۔ شہباز شریف نے بھی ایسی ہی بات کہی ہے کہ ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والے کو خدمت سے روک دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ (میاں نواز شریف کی کارکردگی سے صرف نظر کرتے ہوئے) آیا اچھی کارکردگی کی بنا پر کسی کو قانون سے مبرا سمجھا جانا چاہیے۔ کیا قانون کا اطلاق کسی کی کارکردگی کو دیکھ کر کیاجانا چاہیے؟ یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہو گا۔ ایسی ہی بات بلاول بھٹو زرداری نے مختلف انداز میں کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے۔ اگر مستقبل سے ان کی یہ مراد ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے جو آئین میں ترمیم کر سکتی ہے تو یہی بات عدالت نے بھی کی ہے۔ لیکن بلاول بھٹو کی منطق اگر یہ ہے کہ سیاستدانوں کو ملک کے قانون سے مبرا سمجھا جائے تواس سے کون اتفاق کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی انتخابی نتیجے میں بہت مقبول قرار پاتا ہے تو کیا اس پر ملک کے قوانین کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست دانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتے ہوئے ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی بنا پر وہ کسی قانون کی گرفت میں آ جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آئین جو جسد سیاسی کی بنیادی دستاویز ہے اس کا اطلاق تو ہو گا۔ مقبولیت آئین شکنی کے سامنے ڈھال نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں