Daily Mashriq


شور ہر کونے میں ہے مچھر کا

شور ہر کونے میں ہے مچھر کا

مچھرمکھی کی ایک قسم ہے لیکن یہ مکھی نہیں مچھر ہے۔ مکھیوں اور مچھروں میں اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ یہی کہ دونوں گندگی کے ڈھیروں پر پل کر جوان ہوتے ہیں اور اچھے اچھے تیس ماخانوں کے ناک میں دم کردیتے ہیں۔ مکھیاں رات کو سوتی ہیں جب کہ مچھر رات کے وقت نہ خود سوتے ہیں نہ کسی کو سونے دیتے ہیں۔ ''یہ رات جو آج ڈھلی ہے۔ اس رات میں ہے کوئی ہم سا، ہم سا ہو تو سامنے آئے''۔ یہ تھا اس نغمے کا آسان اردو ترجمہ، جسے مچھر کی بھنبھناہٹ کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے مچھر کے بھنبھناہٹ نامی نغمہ کو اس کی جانب سے چیلنج یا وارننگ بھی کہا ہے۔ وہ اپنے شکار کے کان میں اپنی بھنبھناہٹ کی آواز ڈال کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا شکار نیند کے مزے لے رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔ اگر کوئی جاگ رہا ہو تو وہ کان میں پڑنے والی مچھر کی آواز سن کر اسے دھپڑ رسید کرنے کی کوشش کرے گا۔ جس کی ضرب سے وہ اپنی ننھی سی جان، جان آفرین کے حوالے کر دے گا یا دور بھاگ کر ایک بار پھر حملہ کرنے کے لئے پر اور پرزے تولنے لگے گا۔ جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ چوراہے میں آبیٹھتا ہے جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے۔، جب چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔ لیکن جب کسی مچھر کی موت آتی ہے تو وہ اچھے بھلے بیدار،ہوشیار یا چوکنے بندے کو چیلنج کرتے ہوئے اس پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ یا تو جاگتے رہنے اور جاگتے ہوئے چوکنا رہنے والے کے دھپڑ کی زد کا شکار ہوجاتا ہے یااس کی تالی کی زد میں آکر چکنا چور ہوجاتا ہے۔ مچھر کے اس طرح کچلے جانے کی روش نے عام لوگوں میں مچھر کو بے وقعت اور کم حیثیت کا مالک بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور جب سے حضرت انسان کو اس بات کا علم ہوا کہ مچھر بہت آسانی سے مرجاتا ہے تو اپنی جان کے دشمنوں کو مچھر کی طرح کچل دینے کی دھمکیاں دینے لگا۔ ایک دفعہ راقم السطور نے اپنے مہربان ڈاکٹر عدنان گل کو جوڑوں کے درد کی گولیوں کا پلتہ بتاتے ہوئے ماہرانہ مشورہ طلب کیا تو ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے دردوں کے علاج کے لئے آپ یہ گولیاں کھا کر مچھر کو توپ سے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ دن گیا یہ دن آیا میں نے مچھر کو توپ سے کبھی نہ مارنے کی نصیحت گرہ میں باندھ لی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ سو ہم اس بات کو دہراتے ہوئے عرض کرنے میں حق بجانب ہیںکہ مچھر کو مارنے کے لئے توپ کا استعمال مناسب نہیں ہوتا۔ لیکن جس وقت ہم مچھرو ں کی صدیوں پرانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں ان کی جرات اور بہادری کو دیکھ کر

خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھئے

ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہئے

کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تاریخ عالم یہ بات بھلائے نہیں بھول سکتی کہ ارسطو کے شاگرد سکندر اعظم فاتح عالم بننے کا شوق پورا کرنے کے لئے جب راجہ پورس کو جنگی قیدی بنا چکا تو اس دوران ایک بھنبھناتا کوالی مچھر آیا اور اس نے سکندر اعظم کو ملیریا کا ایساٹیکہ لگا یا کہ وہ چاروں شانے گرکر دنیا فتح کرنے کے خیال سے باز آگیا ۔ ارے فاتح عالم سکندراعظم کو چھوڑو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو آگ میں پھینکنے کا حکم دینے اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود کا کام ایک فدائی مچھر نے تمام کرکے رہتی دنیا تک مچھروں کی دھاک قائم کردی۔تاریخ اور ماقبل از تاریخ کے ان آفاقی حوالوں کی روشنی میں مچھروں کو کون بے وقعت اور حقیر ترین چیز سمجھنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ حضرت انسان ہر دور میں مچھروں کو تلف کرنے کے حیلے کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اب تک کم و بیش 3500 اقسام کے مچھر انسانوں اور جانوروں کا خون چوسنے اوراس کو ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل کرنے کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ اور یوں یہ ملیریا، پیلا بخار، اور ڈینگی جیسی جان لیوابیماریوں کا موجب بن رہے ہیں جن سے ہر سال کم و بیش 20 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔راقم السطور نے کالم کے آغاز میں مچھر کو مکھی کی ایک قسم کہا ہے۔ مکھیوں میں شہد کی مکھی پال پوس کر شہد اور موم کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ جب کہ مچھر نامی مکھی کو پال کر کونسا کاروبار کیا جاتا ہے اس راز سے پردہ اٹھنا باقی ہے۔ مچھروں کی پرورش کرنے والوں میں ہمارے بلدیاتی ادارے سر فہرست تھے لیکن آج کل اس کام میں بی آر ٹی والے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ شہد کی مکھیاں پالنا اتنا آسان نہیں جتنی آسانی سے مچھر پالے جاتے ہیں۔ آپ جہاں رہتے ہیں وہاں گندگی کے ڈھیر پھیلادیں پانی کے جوہڑ بنا ڈالیں صفائی ستھرائی کو جزو ایمان سمجھنا چھوڑدیں۔ ایسے ماحول میں مچھروں کی بی اماں اپنی سکھیوں سہیلیوں اور ہمجولیوں کے ہمراہ بن بلائے آئے گی اور سینکڑوں کی تعداد میں انڈے دینے لگے گی۔ انڈوں میں سے لاروے نکلیں گے لاروے پیوپے بنیں گے اور ان سے ''ہے کوئی ہم سا ہم سا ہو تو سامنے آئے'' کہتے مچھر ہم کو چیلنج کرنے اور ٹیکہ لگانے کے لئے کھیپ در کھیپ نکل آئیں گے۔ اور پھر خاکم بدہن کچھ ہی دنوں کے بعد ہسپتالوں میں داخل ہونے کی غرض سے ڈینگی بخار میں مبتلا لوگوں کی قطاریں لگ جائیں گی اور اللہ بچائے اخبارات میں آئے روز ڈینگی بخار سے چل بسنے والوں کی گنتی شروع ہوجائے گی۔ روم جلتا رہے گا اور نیرو بانسری بجانے میں مگن رہیں گے اور ہمارا کیا ہے ہم تو کہتے رہیں گے

ہیں گھر ہے کسی چھچھوندر کا

شور ہر کونے میں ہے مچھر کا

متعلقہ خبریں