Daily Mashriq


جناب نواز شریف کی تاحیات نا اہلی

جناب نواز شریف کی تاحیات نا اہلی

نا اہلی کیس کے تفصیلی فیصلے کے مطابق جناب نواز شریف تا حیات نا اہل قرار پا گئے اور جہانگیر ترین بھی۔ دونوں حضرات یقینا اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ کرتے ہیں تو یہ ان کا قانونی حق ہے۔ البتہ جناب نواز شریف کو یاد تو ہوگا کہ 18ویں ترمیم کے وقت پیپلز پارٹی کے وفد نے ان سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ جنرل ضیاء کی یاد گار دفعہ 62/63کو آئین سے رخصت کردیا جائے۔ عالی جناب نے انکار کردیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے کرپٹ لوگوں کو بچانے کے لئے دائو کھیل رہی ہے۔ نا اہلی کی مدت بارے آئین خاموش ہے ' سپریم کورٹ نے تشریح کا حق استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس وقت تھا مگر وہ وقت کرپشن کے معاملات سپریم کورٹ میں جانے سے قبل ختم ہو چکا۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ عدالت سپیکر قومی اسمبلی کو نا اہلی کی مدت کے تعین کے لئے ریفرنس بھیجتی۔ ہمارے سامنے مگر سید یوسف رضا گیلانی کی مثال موجود ہے۔ سپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مختلف تھی۔ اس رولنگ کو بلڈوز کروانے میں اس وقت نون لیگ پوری قوت کے ساتھ چودھری افتخار کے ساتھ کھڑی تھی۔ اب لمحہ موجود میں نون لیگ عدالتی فیصلے بارے جو کہہ رہی ہے اس کے درست یا غلط ہونے پر بحث کی ضرورت نہیں۔ البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے سال بھر سے بھٹوز کے خون کے پیاسوں کو ذ والفقار علی بھٹو بہت یاد آرہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تاحیات نا اہلی کے فیصلے پر سب سے دلچسپ تبصرہ یہ تھا'' نواز شریف کی سیاست جنرل ضیاء الحق کی چھتر چھایہ میں شروع ہوئی اور ضیاء الحق کے ہی قانون کے تحت ختم ہوگئی۔'' میرے خیال میں ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔ پنجاب کے صوبے ' کشمیر اور بلتستان کے انتظامی یونٹوں اور وفاق میں ان کی جماعت کی حکومت ہے چھوٹا بھائی 62فیصد آبادی والے صوبہ کا وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کا صدر ہے اور وہ خود اپنی جماعت کے تاحیات قائد بھی۔ بینائی سے محروم لوگ جو مرضی کہیں پر ان کا ووٹ بنک بہر طور موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو لوگ ابھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ 31مئی تک یا حکومتوں کے اختتام کے بعد بھی اس استقامت سے کھڑے رہیں گے۔ پنجاب کیا اس پورے ملک کی تاریخ ہمیں سمجھاتی ہے کہ حملہ آوروں کے لئے بانہیں کشادہ ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نظریاتی و جمہوری سیاست کی اصل تب کھلے گی جب یہ اقتدار میں نہیں ہوگی۔

یہ ضرور ہے کہ اگر نواز شریف اس بار سمجھوتہ کرکے خاندان سمیت ملک سے رخصت نہ ہوئے تو وسطی پنجاب میں مزاحمت ہوگی۔ اگر دسمبر2000ء کی طرح انہوں نے جان ہے تو جہان ہے کی طرح کا فیصلہ کیا تو پیچھے کیا رہ جائے گا۔ اس پر ستم یہ ہے کہ وزراء کا لشکر بائولا ہوا پھرتا ہے۔ ڈھنگ کی سیاسی فہم کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عورتوں والے بین ہیں۔ سیاست چیز دیگر است۔ پچھلے سال ان کالموں میں عرض کیا تھا پانامہ سکینڈل میں بچوں کا نام آئے پر اگر نواز شریف اقتدار چھوڑ کر خود کو احتساب کے حوالے کردیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ بد قسمتی سے انہوں نے پارلیمانی کمیشن کے قیام کی تجویز کو حقارت سے مسترد کیا اور سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا۔ اب جھوٹ پہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ مثلاً وہ غلط بیانی اور جعلی دستاویزات پیش کرنے پر نا اہل ہوئے مگر ان کے لشکری اور اشتہاروں کے بوجھ تلے دبا پنجابی میڈیا حقائق کو مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ وہ کہتے ہیں میرے ساتھ آمروں کا کوئی ساتھی موجود نہیں۔ اس سچ پر رقص کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ خود تیسرے فوجی آمر کی چھتر چھایہ میں پلے بڑھے اور ریاستی اداروں کے لاڈلے کی طرح ادہم مچاتے رہے۔ زیادہ دور نہ جائیں تو 2013ء کے انتخابی نتائج ان کی جھولی میں کیسے ڈالے گئے؟ بہر طور بشری خامیوں کرپشن' بد مزاجی'تکبر کے باوجود وہ ایک حقیقت ہیں۔ یہی حقیقت پنجاب کا عمومی مزاج ہے لیکن اس مزاج کا موسم کی طرح اعتبار بالکل نہیں۔ دیکھئے اور انتظار کیجئے۔ چلتے چلتے خواجوں کی جوڑی کے چھوٹے خواجہ' خواجہ سعد رفیق کے اس بیان پر بات کرلیتے ہیں جو انہوں نے صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے مطالبہ پر داغا ہے۔ خواجہ فرماتے ہیں '' پنجاب کی تقسیم ہوئی تو بات یہیں تک محدود نہیں رہے گی دور تلک جائے گی''۔ حد ہے وہ پنجاب کی تقسیم کی تاریخ سے نا بلد ہیں حالانکہ ان کے بزرگ تقسیم پنجاب کی وجہ سے ہی پنجاب کے موجودہ پاکستانی حصہ میں آکر آباد ہوئے۔ پنجاب کے وہ علاقے جنہیں عمومی طور پر سرائیکی وسیب اور کچھ لوگ جنوبی پنجاب کہتے ہیں دو مرحلوں میں پنجاب کے قبضہ میں آئے۔ پہلے رنجیت سنگھ نے ریاست ملتان پر قبضہ کیا بہت بعد میں انگریزوں نے اس کی صوبائی حیثیت کو ختم کرکے پنجاب کاحصہ بنا دیا۔ بہاولپور ایک آزاد ریاست تھی۔ رضا کارانہ طور پر یہ ریاست پاکستان میں شامل ہوئی۔ ریاستوں کی خصوصی حیثیت اور حاکمانہ مراعات کے اختتام اور پھر ون یونٹ کے خاتمہ پر بہاولپور کو پنجاب کا حصہ قرار دیاگیا۔ تاریخ کی ان حقیقتوں کو خواجہ ہی مسخ کرسکتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تقسیم پنجاب کا جن کو دکھ ہے وہ واہگہ بارڈر کے ادھر والے پنجاب کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی تحریک شوق سے چلائیں مگر سرائیکی وسیب والوں کی قومی شناخت اور تاریخ سے کھلواڑ کا شوق پورا نہ کریں۔ حرف آخر یہ ہے کہ جناب نواز شریف کے ساتھ جہانگیر ترین بھی تا حیات نا اہل ہوئے۔ پرانا لطیفہ یاد آگیا وہی نادر شاہی دور والا جب ایک لشکر کے پیچھے چلتے شخص نے کہا تھا '' سارے سوار دہلی جا رہے ہیں''۔

متعلقہ خبریں