Daily Mashriq


سازشوں کے نئے جال

سازشوں کے نئے جال

پاکستان دشمنی میں ،اسر ائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد، بھا رت کی را، افغانستان کی این ڈی ایس، امریکہ کی سی آئی اے سرگرم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ممالک اور انکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے مخالف کیوں ہیں اور ان کو پاکستان سے کیا خوف ہے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی یہ کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کر کے اس سے فا ٹا، کے پی کے اور بلو چستان کو علیحدہ کیا جائے ، جو ہری ہتھیار چھینے جائیں ، سی پیک کو ناکام بنا یا جائے ۔ نیٹو کے 29 ممالک کی ترقی کی شرح انتہائی سست یعنی ایک یا دو فی صد ہے جو عالمی معیار سے کم ہے۔ وہ چین کی اقتصا دی ترقی سے انتہائی خا ئف ہیں۔۔علاوہ ازیں ان ممالک کی حریص نظریں بلو چستان کے قدرتی وسائل یعنی سونے اور چاندی کے ذخا ئر ، بلو چستان میں 27ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور 300 ملین بیرل تیل پر لگی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وسطی ایشیائی ریاستوں میں بے تحا شا وسائل ہیںاور وہاں تک پہنچنے کے لئے صرف پاکستان ایک گیٹ وے کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے امریکہ، بھارت اور اسرائیل پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبا ر ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اس کا نام رامیش ناتھ کائو تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام کائو سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے کا منصوبہ تھا ۔ بد قسمتی سے را کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ "کائو "منصو بے کے تحت بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی سازش کی گئی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، اس میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں ۔ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طرح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلو چستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لئے منفی کار روائیاں شروع کیں۔ایک صحافی وائن میڈسن Wayne Madsenجنہوں نے فو کس ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، سی بی ایس،پی بی ایس، سی این این ، بی بی سی الجزیرہ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی چینلوں میں کام کیا ہے ،کاکہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف یہی خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہیں اور عراق،لیبیا ، شام جیسی صورت حال پیدا کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔

کرسٹینا پالمیر جو" دی میل"سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را "پاکستان میں فر قہ وارانہفسادات کو ہوا دینے کی کو شش کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ما ضی میں مسلح افواج کے کچھ ایسے جنرل گزرے ہیں جو پیشہ ورانہ اُمور پراچھے طریقے سے دسترس اور گرفت نہیں رکھتے تھے ۔ مگر پاکستان بننے کے بعد جو ١٤ جنرلز گزرے ہیں ا ن میں ایو ب خان اور اسکے بعد جنرل راحیل شریف اور موجودہ جنرل قمرجاوید با جوہ کانام سُنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ اب جبکہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹو کی طالبان کے خلاف جنگ جا ری ہے اور اسکے اثرات سے وطن عزیز بچ نہیں سکتا ، مگر راحیل شریف اور قمر با جوہ کی بہترین عسکری قیادت کی وجہ سے پاکستان نے کافی حد تک ملک میں دہشت گر دی پر قابو پالیا ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس جنگ میں سوات اور قبائلی علاقہ جات میں لوگوں کے جان و مال کو کافی نُقصان پہنچا ہے اور مائیں ، بہنیں اور بیٹیا ں جو کبھی گھر سے نہیں نکلی تھیں نے آپریشن کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں بر داشت کی قبائل کے جومسائل اورجائز شکایات ہی حکومت کو ان کو حل کرناچاہیئے۔اب ان کے مکانوں اور دیگر املاک کی از سرنو تعمیر اور دیگر سہولیات بہم پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر جہاں تک منظور پشتین کا تعلق ہے اس کو عالمی طا قتیں اور وطن عزیز کی چند پا رٹیوں کے قائدین مسلح افواج کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔اور جس طرح وہ مسلح افواج کے خلاف زبان استعمال کر رہاہے وہ شرمناک ہے۔ منظور پشتین نے یہ جو دہشت گر دی ہے اس کے پیچھے ور دی ہے کی جو رٹ لگائی ہے وہ قابل مذ مت ہے اور منظورپشتین کے جلسوں میں امریکیوں کی شرکت کرنا انتہائی قابل افسوس ہے۔زیادہ تر تجزیہ نگا روں کا خیال ہے کہ کچھ سیاسی قائدین مسلح افواج سے منظور پشتین کی تحریک کی شکل میں بد لہ لے رہے ہیں۔ جبکہ بعض سیاستدان اندر سے فوج کے خلاف اور با ہر سے فوج کے حامی ہیں۔منظور پشتین امریکہ، بھارت، اسرائیل کا ایجنڈا چلا رہا ہے ۔ فوج کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ فوج کمزور ہو گی تو ہماری صورت حال بھی شام، عراق ، لیبیا، افغانستان اور مصر کی طرح ہوگی۔

متعلقہ خبریں