Daily Mashriq


ہم خواب فروشوں سے کوئی خراب خریدے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خراب خریدے

بعض ضعیف الاعتقاد اسے یوں بھی لے سکتے ہیں کہ فیصلہ سنانے کیلئے جس تاریخ کا انتخاب کیا گیا تھا وہ نحوست کی علامت ہے یعنی اہل مغرب میں سات کو لکی سیون جبکہ 13کے ہندسے کو منحوس قرار دیا جاتا ہے ، اس حوالے سے ان کے ہاں کئی تاریخی واقعات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے ، تاہم جو لوگ اس پر جس طرح خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی صفوں میں جشن کا سا سماں ہے ان کیلئے تو یہ خوش بختی کی علامت کے طور پر ظاہر ہوا ہے نا ، حالانکہ ایک نااہل خود اُن کی صفوں میں بھی شامل ہے ، مگر میاں نواز شریف کو تاحیات سیاسی میدان سے باہر ہوتے دیکھ کر بعض تجزیہ نگاروں کے بقول وہ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں ، اگرچہ ایسے ہی موقعوں کیلئے تو کہا گیا ہے کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے ، سجن بی مرجاناں ، بہرحال تازہ صورتحال میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مختلف نقطہ ہائے نظر سے دیکھا جارہا ہے ، یعنی اگر لیگ (ن)مخالف لابیاں اسے ایک معنی پہنا رہی ہیں تو لیگی حلقے اسے ایک مثبت حوالے سے دیکھ رہے ہیں ، اسی طرح قانونی ماہرین اسے ایک مختلف زاویئے سے دیکھ رہے ہیں جبکہ میں اس صورتحال کو بالکل ہی مختلف زاویئے سے پرکھ رہا ہوں ، لیکن اپنے نقطہ نظر کی وضاحت سے پہلے دوسرے نقطہ ہائے نظر کو ذرا جانچتے ہیں ۔ یعنی بقول شاعر

اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے کچھ گل نے

چمن میں ہر طرفبکھری پڑی ہے داستاں میری

تحریک انصاف کی صفوں میں جس طرح کے تبصرے ہورہے ہیں ان پر بات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس لئے کہ سیاسی میدان میں عمران خان کے سب سے بڑے حریف کو عدالتی فیصلے نے سیاسی صفوں سے نکال باہر کر کے انہیں طمانیت بخش دی ہے ۔ تحریک کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا ردعمل نسبتاً زیادہ سنجیدگی لئے ہوئے ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ آج میاں نواز شریف کو جن حالات کا سامنا ہے یہ خود ان کے اپنے رویئے کی وجہ سے ہے۔ جب اٹھارہویں ترمیم کے وقت ساری جماعتیں آئین سے ان شقوں کو نکالنے کے مشورے دے رہی تھیں تو انہوں نے صرف اعجاز الحق کی ناراضگی سے بچنے کیلئے ایسا نہیں ہونے دیا اور بالآخر آج وہ خود اس کا شکار بن گئے ۔ ادھر لیگ (ن)کے زعما کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلے سے نواز شریف کا بیانیہ مزید مضبوط ہوگا ، ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مخالفین (یہ لفظ وہ وسیع تناظر میں استعمال کررہے ہیں ) کویہ خوف ہے کہ آئندہ انتخابات میں لیگ(ن) کو اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکتا اس لئے میاں نواز شریف کے خلاف پے درپے فیصلے آرہے ہیں ، یاد رہے کہ نیب کے مقدمے کا فیصلہ بھی چند روز میں متوقع ہے ادھر بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے لیگ (ن) پر منفی اثر پڑے گا اوراب تک جو لوگ تذبذب کا شکار تھے ۔ خطرہ ہے کہ وہ بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں مزید ہچکچاہٹ کا شکار نہیں رہیں گے اور میرے ہی ایک شعر کی تفسیر بن جائیں گے کہ

غول درغول اڑ گئے طائر

کونج اک رہ گئی مگر، تنہا

ویسے بھی بقول لیگ (ن) کے بیانئے موجودہ حالات پر جو تبصرے ان کی جانب سے کئے جارہے ہیں ، ان حالات کا سکرپٹ تو لکھا جا چکاہے ، یعنی ضروری نہیں کہ لیگی ڈال سے اڑ کر دوسری ٹہنیوں پر بیٹھنے والے موسمی پرندے کسی اور نام کے درختوں پر ہی جاکر بیٹھ جائیں بلکہ عین ممکن ہے کہ بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ انتخابات کا تجربہ ہی دہرایا جائے اور اڑان بھرنے والے کسی بے نامی (آزاد ) درخت پر ہی بسیرا کر کے لکھے گئے سکرپٹ میں رنگ بھرنے پر آمادہ ہوں ۔ خیر جانے دیجئے ، یہ صورتحال آئندہ چند روز میں واضح ہو ہی جائے گی ۔ اس لئے اب قانونی حلقوں کی بات کر کے میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کروں گا ۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے ایک ٹاک شو میں کہا ہے کہ جب تک سیاستدان آپس میں لڑ تے رہیں گے ان کو اسی قسم کے حالات کا سامنا رہے گا ، حالانکہ یہ فیصلہ آنے والے وقتوں میں نہایت آسانی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے تاہم یہ تب ممکن ہوگا جب آئین میں ایک متفقہ تبدیلی لانے پر یہ سب آمادہ ہوسکیں ، بصورت دیگر آج ایک توکل دوسروں کو بھی اس فیصلے کا شکار ہونا پڑسکتا ہے ، اب میں اسے کس نقطہ نظر سے پر کھ رہا ہوں ؟ وہ یہ ہے کہ شاید اس فیصلے سے ملک میں حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں اور میاں نواز شریف کی تاعمر نااہلی کے بعد تمام سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوریت کے قیام کی راہیں کھل گئی ہیں اس لئے وہ موجودہ صورتحال کے علی الرغم ،جبکہ یہ تمام جماعتیں ذاتی اور خاندانی کلب بن چکے ہیں ،جماعتوں کے اندر بھی حقیقی معنوں میں ایک ممبر ایک ووٹ کا اصول لاگو کرکے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی جماعت میں سربراہ کیلئے دو ٹرم سے زیادہ مدت کے لیے براجمان رہنے پر پابندی لگادی جائے تاکہ یہ خاندانی اور ذاتی قبضے سے آزاد ہو سکیں ، اسی طرح وزیراعظم کیلئے بھی آئین میں ترمیم کر کے دوبارسے زیادہ پر پابندی عاید کی جائے ، اس کے بغیر ملک میں حقیقی جمہوریت محض خواب ہی رہے گی اور عوام اسی طرح غلام ابن غلام بن کر کسمپرسی کی زندگی گزارتے رہیں گے ۔ بقول حسن نثار

کچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

متعلقہ خبریں