Daily Mashriq

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مہم

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مہم

صوبائی وزیر سیاحت عاطف خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چترال، سوات، ناران وغیرہ میں سیزن کے دوران سیاحتی سرگرمیوں، صفائی اور ٹریفک پلان پر غور وخوض کیا گیا اور طے پایا کہ سیاحتی مقامات پر سیاحوں کیلئے زپ لائننگ، پیراگلائیڈنگ جیسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا، اجلاس میں کیمپنگ پاڈز منصوبے کی افادیت کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اور منصوبے کو لوکل کمیونٹی اور سیاحت کے فروغ کیلئے بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے اس نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کوششیں شروع کیں ہیں، بدقسمتی سے ملک میں ماضی کے ماہ وسال میں دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے یہاں سیاحت کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا، ایک وقت تھا کہ باہر کے ممالک سے نہ صرف فضائی راستوں سے سیاح کثیر تعداد میں آتے اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں کی سیاحت کیلئے جاتے، حالانکہ ان دنوں میں صوبے کے بالائی علاقوں میں قیام وطعام کی سہولیات بھی اس معیار کی نہیں ہوتی تھیں، عالمی سطح پر جن کا تقاضا کیا جاتا تھا، پھر بھی سیاح بہت بڑی تعداد میں آتے تھے، یورپ سے لگژری بسوں کے ذریعے بھی سیاحوں کی جماعتیں ایک ساتھ آتیں اور پورے پاکستان کا چکر لگانے کیلئے درہ خیبر کے راستے پہلے پشاور کا رخ کرتیں، اسی طرح کوہ پیما بھی چترال میں تریچ میر پہاڑ کو سر کرنے کیلئے مہم پر آنے والے سیاحوں کی کوئی کمی نہیں تھی، مگر امریکی قیادت میں افغانستان میں جہادی کلچر درآمد ہونے اور سابق سوویت یونین کیخلاف امریکی آشیرواد سے جنگ کے آغاز کے بعد حالات تبدیل ہوتے چلے گئے، سیاحوں نے یہاں کا رخ کرنا چھوڑ دیا، بہرحال اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان کی بہادر افواج نے ملک پر مسلط کی جانے والی دہشتگردی کو شکست سے دوچار کر کے صورتحال کو تبدیل کرنے میں جانوں کی قربانی دیکر جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے بعد صوبائی حکومت نے ایک بار پھر دنیا بھر کے سیاحوں کی اپنے خوبصورت اور قدرتی مناظر سے بھرپور پرسکون علاقوں کی جانب مبذول کرنے پر بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس سے دنیا بھر میں بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے، نہ صرف اس شعبے کو فروغ دینے سے ہوٹل انڈسٹری کو ترقی ملتی ہے، بلکہ سیاحوں کی آمد ورفت سے مقامی سطح پر دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں اور اندرون ملک سیاحوں کی آمد ورفت سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ورفت سے قیمتی زرمبادلہ بھی ملک کے خزانے میں آتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں میں اس سے آسانیاں ملتی ہیں، البتہ یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ اب جبکہ ماضی کے مقابلے میں ان بالائی علاقوں کے قدرتی حسن اور وہاں کی فضا میں پلاسٹک کے اشیاء کے استعمال بڑھ جانے سے آلودگی بڑھنے کے خدشات جنم لینے لگے ہیں، ان سے چھٹکارا پانے کیلئے اس جانب توجہ دینا اور دلانا بہت ضروری ہے، پلاسٹک کے لفافے، ڈسپوزیبل اشیاء یعنی بند ڈبے جن میں جوس، دودھ اور دیگر کئی اشیائے خورد ونوش پہنچائی جاتی ہیں، پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ بہت بڑی تعداد میں استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں جبکہ ان کی صفائی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی، سوشل میڈیا پر اکثر ایسے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوجاتی ہیں جن میں سیاحوں کی جانب سے پھینکی گئی اور پلاسٹک سے بنی ہوئی مختلف اشیاء کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں، ان کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور بعد میں آنے والے نئے سیاحوں کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں اس لئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے محولہ مقامات پر عوام میں آگہی مہم چلانے کیلئے نوجوان نسل کو آگے لایا جائے اور ایسے رضاکاروں کی جماعتیں بنا کر نہ صرف سیاحوں کیساتھ انہیں ترغیب دینے کیلئے استعمال کیا جائے تاکہ یہ سیاحوں کی توجہ فالتو ڈبوں، پلاسٹک کی اشیاء کو ادھر ادھر پھینکنے اور ماحول کو خراب کرنے کی بجائے وہاں رکھے گئے بڑے بڑے ڈسٹ بن میں ڈالنے پر آمادہ ہوسکیں جو اسی مقصد کیلئے جگہ بہ جگہ پہلے ہی سے لگائے جائیں۔ ان مقامات پر بڑے بڑے بینرز بھی آویزاں کئے جائیں اور ساتھ ہی مختلف پکنک پوائنٹس پر لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے بھی سیاحوں کی توجہ اس جانب دلانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ استعمال کے بعد یہ اشیاء ادھر اُدھر ڈالنے کی بجائے ان بڑے کنٹینرنما ڈسٹ بن میں ڈالیں اور یوں ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے میں تعاون کریں اور بھی کئی طریقے آزمائے جا سکتے ہیں جن سے آلودگی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں