Daily Mashriq

امام کعبہ کا خطاب

امام کعبہ کا خطاب

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امام کعبہ عبداللہ عواد الجہنی نے سعودی سفارتخانے میں علمائے کرام اور مذہبی دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علماء نے اللہ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے اور سچ پر مبنی فتویٰ دیں۔ امام کعبہ نے کہا کہ علماء نے صبر ویقین سے امت کی راہنمائی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء نے ہر دور میں علم کو پہنچایا۔ امام کعبہ نے مذہبی سکالروں اور علمائے کرام کی توجہ جن امور کی جانب دلائی ہے وہ بالکل درست اور وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ بدقسمتی سے آج امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے اور فقہی‘ گروہی اور دیگر مناقشوں میں پھنس کر دنیا کے سامنے اسلام کے اصل سبق یعنی امن وسلامتی کے برعکس کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں اسی کی وجہ سے عالمی سطح پر اسلام کے حوالے سے منفی پیغام جا رہا ہے۔ ہادیٔ برحق صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسلمانوں کو ایک مٹھی ہونے کا جو درس دیا تھا ہم نے اس راستے کو خیر باد کہہ دیا ہے اور ہم مسلکوں اور فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ کر خود ایک دوسرے کی گردنیں ناپنے کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اتحاد واتفاق کا درس بھلا کر جس طرح ہم آپس میں تقسیم درتقسیم کے عمل سے گزر رہے ہیں اس نے ہمیں بحیثیت امت کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے دیگر مذاہب کے ماننے والے اسلام پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں اور مسلمانوں میں نفاق کی وجہ سے ان جھوٹے اور غلط الزامات کا توڑ کرنے کی ہم میں ہمت ہی نہیں ہے اور یہی وہ سبب ہے جس نے ہمیں دنیا کے سامنے ایک ملزم کی حیثیت سے لاکھڑا کیا ہے حالانکہ اسلام تو سلامتی کا دین ہے‘ امن وبھائی چارے کا درس دیتا ہے جبکہ غیرمسلم ہمیں دنیا میں دہشتگردی پھیلانے والوں کے طور پر قابل نفرت اور اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنے کی مذموم کوششیں کرتے عالمی سطح پر ناقابل برداشت مخلوق قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کیلئے دنیا کے دیگر ممالک میں جاکر تعلیم حاصل کرنے‘ کاروبار کرنے اور رہنے سے روکنے کی تدابیر کرتے رہتے ہیں۔ امام کعبہ نے جو کچھ کہا ہے اس پر علمائے دین اور مذہبی سکالروں کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچنا ہوگا اور آپس میں تفریق کو ختم کرنے پر توجہ دے کر دنیا بھر کیلئے خود کو اور مذہب اسلام کو امن وسلامتی کا خوگر ثابت کرنا ہوگا تاکہ ہمیں نفرت سے نہیں محبت کیساتھ قبول کیا جائے۔

بیانیہ بد لئے

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت ملک کی اقتصادی بحالی اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں اضافہ کیلئے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ اقتصادی شعبہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی تاجر پاکستان میں نئے کاروباری مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے وہاں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں‘ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانی نژاد امریکی تاجروں‘ صنعتکاروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے انہیں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس اور اس موقع پر مختلف ملاقاتوں کے حوالے سے پاکستانی امریکیوں کو آگاہ کیا جبکہ ملک کی کلی معیشت (میکرو اکنامک) کی صورتحال کے بارے میں بھی بتایا‘ پاکستان کی معیشت اور حکومت کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں ان مواقع سے امریکہ اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو بھرپور استفادہ کرنا چاہئے جنہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جہاں تک بیرونی سرمایہ کاری کا تعلق ہے تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے لیگ (ن) اور اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں بھی اسی قسم کے نعرے لگا کر دیگر ممالک میں مقیم خصوصاً پاکستانی نژاد باشندوں کو متوجہ کرتی رہی ہیں اور وہاں سے اکثر و بیشتر سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والوں نے اپنے سابقہ وطن پاکستان کا رخ بھی کیا اور یہاں سرمایہ کاری میں عملی حصہ بھی لیا‘ تاہم سابقہ حکومتوں کے دور میں کرپشن اور لوٹ مار کی داستانوں کو اتنا نہیں اچھالا گیا جتنا انتخابات سے پہلے اور بعد میں اب تک موجودہ حکمرانوں نے اچھال اچھال کر پاکستان کا منفی تصور اُبھارا ہے۔ جس شد ومد سے تحریک انصاف کی حکومت سابقہ حکمرانوں پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات لگا رہی ہے اس سے بیرون ملک یہ تصور راسخ ہوچکا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ ڈوبنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ایسی صورت میں تو سرمایہ کار یہاں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ کہیں اس کا سرمایہ ڈوب نہ جائے۔ اس لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے سے پہلے حکومت کو اپنا بیانیہ تبدیل کرنے پر توجہ دینی پڑے گی ورنہ برباد معیشت اور کرپشن میں مبتلا ملک میں سرمایہ لانے پر کون تیار ہوسکے گا۔

متعلقہ خبریں