Daily Mashriq

میڈیا کا کردار کیا ہو؟

میڈیا کا کردار کیا ہو؟

شیکسپئر کے ڈرامے ہیملٹ میں، اس کا کردار شہزادہ ہیملٹ اپنی ماں کی دوسری شادی پر ناراض ہے۔ اگرچہ وہ بہت سے ردعمل بس لفظوں سے ہی ظاہر کرتا ہے اس ڈرامے میں اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے وہ کہتا ہے

I will Speak daggers to her, but use name

My tongue and soul in This will be hypocrites

وہ کہنا چاہتا ہے کہ میرے لفظ ہی اس کے لئے خنجر ہوں گے۔ میں خنجر استعمال نہ کروںگا۔ میری زبان اور میری روح اس سب میں دوغلی ہوگی۔

کئی بار اپنے میڈیا کا کردار دیکھوں تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے، وہ لفظوں کے خنجر تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی نیتیں اسی دوغلے پن کا شکار ہیں۔ ان کے لہجوں کے خنجر تو دراصل ان کی کمائی کا اصل ذریعہ ہیں۔ جس خنجر کی دھار جتنی تیز ہو اس کی ریٹنگ اتنی ہی بہتر ہوتی ہے۔ تبھی تو وہ اپنی زبان اور لفظ کے خنجر استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد کچھ اور نہیں صرف دکھاوا ہوتا ہے اور کیسی عجیب بات ہے ان خنجروں کا استعمال ہمیشہ ہی حکومت پر کیا جاتا ہے۔ میڈیا کے پاس اپنا کوئی پیمانہ نہیں۔ کوئی بھی کسوٹی نہیں جس پر یہ پرکھا جا سکے کہ حکومت کے اقدامات میں کس قدر بھلائی پوشیدہ ہے اور کتنی حکمت ہے، وہ کس قدر اپنے مفاد کی جھولیاں بھر رہے ہیں، کتنا اس ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میڈیا کے کچھ اپنے پیمانے ضرور ہیں۔ کوئی کتنا فائدہ پہنچا سکتا ہے، کسی بات سے کتنی ریٹنگ بڑھ سکتی ہے۔ ان پیمانوں کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور کسوٹی نہیں وہ خود نہ تحقیق کرسکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں، اندازے لگا سکتے ہیں کہ کسی بھی حکومت کے اقدام کا اس ملک کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ کئی بار میڈیا کا کردار مجھے گدھ کے مشابہ لگتا ہے۔ اپوزیشن والے جو مار کر لاتے ہیں یہ اس میں اپنے اپنے حصے ٹھونگتے رہتے ہیں۔ انہیںصحیح اور غلط سے غرض نہیں، ان کا تعلق محض اس حقیقت سے ہے کہ ان کی یہ بات کرنے سے شائقین اور ناظرین کی تعداد میں کس قدر اضافہ ہوسکتا ہے۔ پھر میڈیا میں ہی میں ان لوگوں کو بھی دیکھتی ہوں جو ایک عرصے سے محض بلیک میل کی کہانیاں سُنانے، بنانے اور نبھانے کے عادی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں موجود کاغذ کا ہر پرزہ ان کیلئے کتنے کا چیک ثابت ہوسکتا ہے انہیں اس کے علاوہ کسی بات سے غرض نہیں۔ انہیں تجزیہ کرتے دیکھ کر ہم میں سے بہت سے لوگ ہنستے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں لیکن وقت کا بھی عجب کھیل ہے یہ کھیل کئی بار نااہلوں کو بھی کھینچ کر بزرگی کے دائروں میں لے آتا ہے تبھی تو دنیا میں کسی بھی قابلیت اور اہلیت سے اعتبار اُٹھنے لگتا ہے کیونکہ جوانی کی کئی لغزشوں سے بڑھاپے چاہے نہ سدھرے اس کی جھریاں ان لغزشوں کے نشان چھپا لیتی ہیں۔ اس دنیا کا نظام عجب ہے اور مالک دوجہاں کی بے نیازی حیران کن لیکن بات صرف پاکستان کے میڈیا کے روئیے تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہوں اس لئے اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کر رہی۔ میڈیا کے ذریعے ہم کسی بھی ملک کے معاشی حالات کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں اور اس کے صحیح استعمال سے ہم معاشرے میں بہتری لا سکتے ہیں لیکن میڈیا کی طاقت کا غلط استعمال کسی بھی ملک کے حالات اور معاشی نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ میڈیا ایک طاقت ہے اور اس طاقت کو لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے استعمال کیا جائے نا کہ لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے۔

میں کئی دہائیوں سے جرنلزم سے وابستہ ہوں۔ ایک عمر بیت گئی ہے۔ اب تو کوئی ایسے نوجوان بھی ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن سے میرے کالم پڑھ رہے ہیں۔ میرے بالوں کی چاندی ان کی باتوں کی گواہی بھی دیتی ہے۔ میں سوچتی ہوں اتنی دہائیوں میں ایک زمانہ پوشیدہ ہے جو دھیرے دھیرے میرے ہاتھوں سے پھسلا ہے۔ میں نے اپنے سامنے غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کو عام ہوتے دیکھا ہے۔ اک وقت تھا جب عداوت اور دشمنی کا تمام تر کسیلا پن لہجوں کو کبھی تہذیب کے دائرے پار نہیں کرنے دیتا تھا اور اب ایک دوسرے کو انتہائی غیر مہذب باتیں کرنے والے سیاستدان، ایوان کے باہر کیفے ٹیریا میں آپس میں ہنسی مذاق کرتے اور گپ شپ لگاتے نظر آتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ سیاستدان پہلے بھی آپس میں دوست ہوا کرتے تھے لیکن ایوان میں بھی ذاتی عناد کی جھلک کہیں دکھائی نہ دیتی تھی۔ اب تو ذاتیات تک باتیں کی جاتی ہیں اور اسے آزادی سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا انہی لفظوں کے کھلواڑ میں اپنی روزی روٹی تلاش کرتا ہے جبکہ اس کا کام تحقیق کیساتھ خبر لانا ہونا چاہئے۔ حکومت اور اپوزیشن جو بھی کہے یہ ان کی باتوں کی حقیقت جان سکیں اور عوام کے سامنے کہہ سکیں۔ اخبار پڑھوں یا الیکٹرانک میڈیا دیکھوں، میزبان کی صورت میں صحافی اس خالہ کی صورت دکھائی دینے لگے ہیں جو محض آگ لگا کر باتیں نکالنا چاہتے ہیں۔ انہیں باتوں کی سچائی سے غرض نہیں، انہیں مسالہ چاہئے کیونکہ مسالہ ہی بکتا ہے۔ وہ صحافی جنہیں اب تک اپنی عمر کے ہی بوجھ سے مدبر ہو جانا چاہئے وہ بھی عجب باتوں میں مشغول رہتے ہیں۔ تجزیئے اور علم کی کوئی بات نہیں کی جاتی بس جملوں کے خنجر جھونک کر ہاؤہو کے تماشے دیکھے جاتے ہیں۔ حظ اُٹھایا جاتا ہے۔ یہ رویہ اب تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔ کچھ سمجھداری، کچھ علم، کچھ تدبیر کی بات ہونی چاہئے۔ محض اس لئے کہ وہ لوگ حکومت میں ہیں، ان کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔ محض اس لئے کہ اپوزیشن کے پاس بہتر نشتر ہیں، اپوزیشن کی تان سے تان نہیں ملانی چاہئے۔ یہ معاملہ اب سدھر جائے تو بہتر ہے کیونکہ اب اس قوم کو سدھار کی ضرورت ہے۔ میڈیا کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ سمجھ جائیں کہ ان کا اصل کردار کیا ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں