Daily Mashriq

اک اور ’’رویت‘‘ کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

اک اور ’’رویت‘‘ کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا، کہ صوبے اور وفاق میں ایک ہی دن روزہ رکھنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی پشاور میں منعقد کرانے کے حوالے سے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوسکے۔ ظاہر ہے پشاور میں اجلاس کے انعقاد کا مقصد ہی یہ ہے کہ رمضان المبارک کے حوالے سے کسی متفقہ فیصلے پر پہنچا جا سکے، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر اس کے باوجود ایسا نہ ہو سکا تو پھر کیا ہوگا؟ اس کی کوئی ایک وجہ تو نہیں ہوسکتی اور صرف کسی ایک شخص کو ذمہ دار بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، یعنی تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے مگر جب ایک ہاتھ تالی بجانے میں تعاون نہ کرے تو دوسرا ہاتھ ہوا ہی میں جھولتا رہ جائے گا۔ گزشتہ دو برسوں سے تو حکام بالا نے اس کا یہ حل نکالا کہ پشاور کے مفتی صاحب کو زبردستی (عارضی طور پر) ملک بدر کر کے ’’مرزا یار‘‘ کیلئے گلیاں سنجیاں کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی تھی، مفتی صاحب موصوف کی کیا مجال کہ چون وچرا کرتے کہ انہیں تو ’’جانا ہی جانا‘‘ تھا۔ خواہ عمرے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے یا پھر تاریخ کے اوراق میں محفوظ حکمرانوں کے ان کارناموں کی طرح ’’نشان عبرت‘‘ بن جانے والی داستانوں میں ایک کا اضافہ کرنے کیلئے جنہوں نے اپنے وقت کے جید علمائے کرام کو حکم سے سرتابی کے نتیجے میں بھی تاریخ کے اوراق کا حصہ بنا لیا اور آج ان کی داستانیں پڑھ کر کچھ لوگ پھر بھی سرکشی اور کچھ مصلحت آمیز خاموشی کی بکل اوڑھ کر چپ کا روزہ رکھنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایک اور شخص ہے جو کئی برس سے رویت ہلال کمیٹی کی سنجیاں گلیوں میں مرزا یار بن کر دندنا رہا ہے کہ اسے پورے پاکستان کے کسی کونے کھدرے سے ملنے والی شہادت تو قبول ہے مگر خیبر پختونخوا سے ملنے والی شہادتوں کو رد کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتا۔ یہ پیر تسمہ پا خدا جانے کس کے برتے پر اتنی مدت سے اس اہم ادارے سے چمٹا ہوا ہے۔ سابقہ ادوار میں کئی بار اس کو چھٹی کرانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں، کچھ لوگ تفنن طبع کے طور پر اس کے پاس گیدڑ سنگھی کے ہونے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اب یہ گیدڑ سنگھی کیا چیز ہے اس حوالے سے بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں اور یہ گیدڑ سنگھی کس کس نے دیکھی ہے صرف وہی بتا سکتے ہیں، البتہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا جانور ہوتا ہے جو کسی کے ہاتھ لگ جائے تو اس کی بات کو رد کرنے کا کوئی بھی سوچ تک نہیں سکتا۔ یہ بھی سنا ہے کہ اسے کسی ڈبے یا جار میں بند رکھا جاتا ہے تاکہ یہ غائب نہ ہوجائے اور اسے زندہ رکھنے کیلئے اسے سیندور میں رکھا جاتا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں جبکہ گیدڑ سنگھی کیساتھ ساتھ ’’مرزا یار‘‘ کی پشتیبانی کے حوالے سے بھی کچھ باتیں مشہور ہیں جن پر تبصرہ کرنے کیلئے بھی جرأت اظہار کی ضرورت ہے حالانکہ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

باغ تو سارا جانے ہے

خیر جانے دیجئے کہ گزشتہ کئی سالوں سے اس ساری صورتحال پر ہم بھی اپنی صوابدید کے مطابق کچھ نہ کچھ خامہ فرسائی کرتے آئے ہیں اور ثبوتوں کیساتھ یہ گزارش کئی بار کر چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو رد کرنے والوں نے رویت کی سرکاری تاریخ کے اگلے ہی روز چاند کی حالت دیکھ کر اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ان کا فیصلہ غلط تھا اور اگر اس حوالے سے بھی یہ تاویل تلاش کی گئی کہ 30دن کے بعد طلوع ہونے والا ہلال ’’پختہ‘‘ ہوتا ہے جس کی یہی شکل ہوتی ہے تو ان کا جواب چودھویں کے چاند سے مل جاتا ہے جو رویت ہلال کمیٹی (سرکاری) کے مطابق اصولی طور پر 13ویں کا اور نامکمل ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ چودھویں کے پورے چاند کی شکل میں روشن ہو کر متعلقہ کمیٹی کے استدلال کی دھجیاں بکھیرتا دکھائی دیتا ہے اور صرف ایک شخص کی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھ کر نہ صرف پورے ملک کے روزے بلکہ آگے عید بھی خراب ہوجاتی ہے۔ اب اس کی ذمہ داری کس کے سر ہونی چاہئے‘ صرف ایک شخص کی یا پھر پوری رویت ہلال کمیٹی کے سر‘ جو غلط فیصلوں میں ایک ہٹ دھرم شخص کا ساتھ دیتی ہے؟ اور جہاں تک وقتی مصلحت کے تحت گزشتہ دو برسوں سے اپنے اجداد کی حریت کیشی کو ترک کرکے ’’عمرہ‘‘ ادا کرنے پر مجبور ہونے والے مفتی صاحب کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے ہی بزرگ مفتی عبدالرحیم پوپلزئی کا یہ قول بھی بھلادیا ہے کہ

داد دے صیاد کچھ تو حریت کا راگ ہم

عمر بھر زنجیر کی جھنکار پر گاتے رہے

مسئلہ پشاور میں مرکزی رویت ہلال کے اجلاس کے انعقاد کا نہیں ہے کیونکہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہاں اجلاس کے انعقاد سے خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو قبول کر لیا جائے گا۔ اگر شہادتیں موصول ہونے کے باوجود بھی انہیں تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ اس حوالے سے اس سوچ کا کیا حل ہے کہ اس صوبے کی شہادتیں قابل اعتبار ہو ہی نہیں سکتیں تو پھر؟ در اصل یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ اس صوبے میں شہادتیں فراہم کرنے والوں کو پہلے ایک مخصوص ذہنیت کے حامل فرد‘ افراد یا گروہ سے اپنے لئے قابل اعتماد واعتبار مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوگا جس کے بغیر بقول منیر نیازیؔ (ان کی روح سے معذرت کیساتھ)

اک اور’’ رویت‘‘ کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک’’رویت‘‘ کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

متعلقہ خبریں