Daily Mashriq

غیرممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

غیرممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

وطن عزیز کے تعلیمی نطام، نصاب، اساتذہ اور طلبہ کے مسائل پر بحث کرنا ایسے ہی ہے جیسے یہاں کے سیاست اور نظام حکومت اور حکمرانی کے مسائل گزشتہ ستر برسوں سے لاینحل چلے آرہے ہیں، حالانکہ نظام تعلیم کے جتنے مربوط، مستحکم اور نتائج خیز اصول وضوابط اسلام (قرآن وحدیث) میں دیئے گئے ہیں، اس طرح دنیا میں کسی قوم کے پاس کسی بھی زمانے میں نہیں رہے ہیں۔اسلام تعلیم کی اہمیت اور ہر فرد کو اس نور سے منور کرنے کا کتنا خواہاں ہے اس کا اندازہ ’’اقراء باسم ربک‘‘ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ جو وحی ربانی کی ابتداء ہے، اپنے اندر ایک وسیع جہان معانی کے علاوہ ایک تعمیری، مثبت اور دوام کی حاصل انقلاب آفرین نظام کی بھی حامل ہے۔ اس حکم ربانی میں ہر انسان کو تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیکر یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ تعلیم پر انسان کے بنائے ہوئے معاشرتی طبقات کی طرح کوئی پابندی نہیں ہے۔ جس طرح اسلام سے پہلے دیگر مذاہب میں تعلیم صرف اشرافیہ یعنی برہمن اور پنڈتوں وغیرہ کو تعلیم حاصل کرنے اور مذہبی کتب کی تشریح وتعبیر کا حق تھا۔ ہندومت میں آج بھی شعودروں پر وید وغیرہ کی تعلیم شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اسلام نے اسلامی زندگی گزارنے کیلئے دین کی بنیادی تعلیم ہر مسلمان مرد عورت پر فرض کی ہے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کو چلانے کیلئے ماہرین (تخصص صاحل کرنے) فرض کفایہ کا حکم رکھتے ہیں۔ برصغیر میں انگریز سے پہلے اور خلافت عثمانی کے عروج کے زمانوں میں تعلیم میں موجودہ دینوی اور تعلیم کی تقسیم کہیں بھی نہ تھی۔ انگریزی راج کے بعد مسلمانان ہند کا نظام تعلیم مجبوری، ردعمل اور نظریہ ضرورت کے تحت تقسیم درتقسیم کے مراحل سے گزرتے ہوئے دوبڑے بینادی دھاروں (مدرسہ اورکالج اور سکول) میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ اس تقسیم نے اُمت مسلمہ کو بھی دو طبقات میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔ ہندوستان میں انگریزی سکولوں، کالجوں اور مشنری اداروں کے ردعمل اور مسلم شناخت کی حفاظت کے عظیم مقصد کے تحت مدرسہ دیوبند وجود میں آیا اور پھر چل سوچل، کچھ مدارس دیوبند میں موجود نصابی کمزوریوں اور اس سے بہتر کام کی غرض سے وجود میں آئے اور کچھ ردعمل میں پھیلتے چلے گئے اور زیادہ تر دیوبند کی شاخیں پورے برصغیر میں اس تاریخی ادارے کے تعلیم یافتہ شاگردوں نے اساتذہ بن کر قائم کئے۔ جیسے پختونخوا میں اکوڑہ خٹک کا دارالعلوم حقانیہ۔ علی گڑھ کا مقصد انگریزی راج میں مسلمانوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کے قابل بنانا اور مسلمانوں کو انگریزوں کی دشمنی سے نکالنا تھا۔ اس نظام تعلیم کے جزوی فوائد کے باوجود امت کی سطح پر بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ اُمت شدید فرقہ واریت اور تقسیم کا شکار ہوئی۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 23000 مدارس سے لاکھوں طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور یہ مدارس پانچ مختلف مکاتب فکر کے تحت مختلف اور بعض حالات میں مخاصمت پر مبنی مسلکی گروہ بندی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس گروہ بندی میں فکری ونظریاتی اختلافات کیساتھ جب سیاسی اور معاشی مفادات شامل ہو جاتے ہیں تو وطن عزیز کیلئے سخت خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ ان مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ میں سے اکثریت پاکستان بھر کی مساجد میں منبر ومحراب کو سنبھالتے ہیں اور یوں اپنی پوری زندگی اپنی مسجد کیساتھ ملحق علاقوں میں اپنے مذہب ومسلک کا پرچار اپنا مقصد زندگی سمجھ کر گزار لیتے ہیں۔ (الاماشاء اللہ) اس لحاظ سے ہر مکتب فکر زیادہ سے مدارس اور مساجد بنانے اور اوقاف کی مساجد پر قبضہ کرنے کی مسابقت میں ثانی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف علی گڑھ کالج کی اولاد اور فکر کو حکومتی سرپرستی ملی جس نے قیام پاکستان کے بعد 1960ء کے عشرے تک حکومتی معاملات کو کسی حد تک صحیح رخ پر رکھنے اور چلانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن پھر جب آبادی میں بے ہنگم اضافے کے سبب حکومت اپنی آبادی کو تعلیم دینے کی طاقت سے بتدریج دستبردار ہوتی دکھائی دینے لگی تو پرائیویٹ سیکٹر نے موقع غنیمت جانتے ہوئے تعلیم کے میدان میں اس کو سرمایہ کاری کا شعبہ سمجھتے ہوئے تجارت میں تبدیل کر دیا اور پھر اپنا مال خوبصورت برانڈ اور پیکنگ میں پیش کرنے کی دوڑ شروع ہوئی تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہگ متوجہ کرسکیں۔ اب اللہ دے اور بندہ لے والی کیفیت میں نصاب اور میڈیم کے نام پر رنگارنگ کتب‘ یونیفارم اور بیگز کی بہار آگئی اور غریب پاکستانی قوم زبان‘ فکر‘ لباس اور سب سے بڑھ کر نظریات کے لحاظ سے ایسی تقسیم ہوئی کہ ہر طبقہ اپنی جگہ اپنے آپ کو درست‘ صحیح اور صائب سمجھتے ہوئے دوسرے کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہوئے حسد اور مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رکھنے بلکہ ختم کرنے کے درپے ہے۔ اس ساری آیادھاپی میں اگر کمر ٹوٹ گئی‘ تو قوم‘ والدین اور سب سے بڑھ کر سکول کے بچوں کی کمر ٹوٹ گئی کہ ان کے نرم ونازک وناتواں کاندھوں پر کمانڈوز کی طرح من وزن کے برابر انگریزی میڈیم سکولوں کے بیگ لادے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کو پشاور کے محترم جسٹس قیصر رشید سے پہلے بھی اہل دانش زیربحث لاتے رہے ہیں اور آج بھی زیربحث ہے۔ لیکن یہ مسائل اتنے گنجلک‘ پیچیدہ اور اُلجھے ہوئے ہیں کہ بقول شاعر

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

اہل دانش نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے

متعلقہ خبریں