Daily Mashriq


ہماری پسندیدہ سواری

ہماری پسندیدہ سواری

رکشہ ہماری پسندیدہ سواری ہے، اس کی کچھ ادائیں ایسی ہیں جن پر ہم مر مٹے ہیں۔ اس میں تسلیم ورضا کی خو ہمیں بہت پسند ہے، آپ کی انگلی کے ہلکے سے اشارے سے یہ الہ دین کے چراغ والے جن کی طرح آپ کے پہلو میں آموجود ہوتے ہیں۔ انہیںاس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ پیچھے کوئی گاڑی آرہی ہے یا میں غلط جگہ پر رکشہ پارک کر رہا ہوں اور میرے اس عمل سے پیچھے آنے والی ٹریفک کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں بس یہ آپ کا حکم بجا لانے کیلئے اس ظالم زمانے سے ٹکر لینے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ قانون کی ہر دیوارکو زمین بوس کرتے ہوئے آپ کی خدمت کیلئے ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ پشاور شہر کی دوسری بہت سی خوبصورت باتوں کی طرح اس کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہاں رکشے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ وہ منظر کتنا خوش کن ہوتا ہے جب ہم ہزاروں کی تعداد میں پشاور کی سڑکوں پر شتر بے مہار کی طرح دوڑتے پھرتے رکشے دیکھتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان رکشوں کی ایک کثیر تعداد بغیر رجسٹریشن کی ہے یعنی ایسے رکشے جن کا کسی بھی جگہ کوئی اندراج ہی نہیں ہے پشاور کی پرسکون فضا کو رونق بخشنے میں ان رکشوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اگر کبھی گھر بیٹھے بیٹھے آپ کسی بھی قسم کی بوریت محسوس کر رہے ہوں تو اس خاکسار کے برسوں پر محیط تجربے کی روشنی میں ایک مفید مشورہ پلے باندھ لیں، بس گھر سے نکلئے اور سٹی سرکلر روڈ پر سردچاہ گیٹ کے قریب بننے والے رکشوں کی مشہور ومعروف مارکیٹ تشریف لے جائیے یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں پہنچتے ہی کچھ دیر کیلئے آپ کو دنیا کی ہر پریشانی سے نجات مل جائے گی۔ یہاں چابک دست کاریگر رکشوں کی باڈیاں دھڑادھڑ بنا رہے ہیں اور ہمارے علم میں یہ بات بھی ہے کہ ایک ایک شخص دس دس رکشوں کا مالک ہے لیکن سب کا نمبر ایک ہی ہے کاغذات بھی سب کے ایک ہی ہیں لیکن اس نے اصلی کاغذات کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں سب کو دے رکھی ہیں، ہمیں تو وہ زمانہ بھی یاد ہے جب پشاور کی آبادی بہت کم ہوا کرتی تھی، اس زمانے میں رکشے نئے نئے یہاں آئے تھے موٹر گاڑیوں کی تعداد بھی بہت محدود تھی، کسی کسی گھر میں ٹیلیفون ہوتا تھا جو کار اور ٹیلیفون کا مالک ہوتا تھا لوگ اسے بہت بڑا آدمی سمجھتے تھے بس پشاور کی فضاؤں میں کوئی ہنگامہ نہیں تھا، بوریت ہی بوریت تھی، آج پشاور کی آبادی ساٹھ لاکھ کے ہندسے کو چھو رہی ہے ہر طرف میلہ لگا ہوا ہے رونقیں ہی رونقیں ہیں۔ لوگوں میں اتفاق ومحبت کا یہ عالم ہے کہ بس ذرا سی مزاج کیخلاف کوئی بات ہوتی ہے یا حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اسے ناکام بنانے کیلئے ہڑتالوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، دو تین برس ہوئے ہیں ٹریفک پولیس نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ رکشوں کو دو شفٹوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ تمام رکشوں کو دو مختلف رنگوں میں بانٹ دیا جائیگا، صبح کی شفٹ میں چلنے والا رکشہ شام کو روڈ پر نہیں آسکے گا اور شام کی شفٹ والا صبح اپنے گیراج میں آرام کرے گا اور اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا کہ اپنی اپنی شفٹ میں چلنے والے رکشے دوسری شفٹ میں باہر نہ نکلنے پائیں! کس کو کہہ رہے ہو؟ ہمارے رکشہ ڈرائیور بھائیوں نے ایسی زوردار ہڑتال کی کہ ٹریفک پولیس کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ہمارے بھائیوں کا اتحاد واتفاق دیدنی ہے آج بھی بارہ بارہ سال کے بچے اپنے اپنے اُڑن کھٹولے پشاور کی سڑکوں پر بھگا رہے ہیں لیکن ان سے کوئی اتنا بھی پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا ڈرائیونگ لائسنس تو بن ہی نہیں سکتا تم کیسے رکشہ چلا رہے ہو؟ انتظامیہ کو اس حوالے سے اپنی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اب تو ٹریفک پولیس کا بھی یہی خیال ہے کہ پشاور کی رونقیں تو ان رکشوں کے دم قدم سے ہیں! ذاتی طور پر ہمارا یہ خیال ہے کہ لوگوں کے مسائل روزبروز بڑھتے چلے جارہے ہیں، روپے کی قدر گھٹ رہی ہے، مہنگائی کے عفریت نے لوگوں کو بے دم کر رکھا ہے، پھر بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ لوگ صبح کسی دفتر میں نوکری کرتے ہیں اور شام کی شفٹ میں رکشہ چلاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک تنخواہ میں اب گزارا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مسائل کا رونا روتے ہیں تو ہمارا دل اداس ہو جاتا ہے، اسی لئے ہماری ٹریفک پولیس سے درخواست ہے کہ اس مظلوم طبقے کی بددعائیں نہ لیں رکشہ ڈرائیوروں کو بغیر رجسٹریشن، روٹ پرمٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے پشاور کی سڑکوں پر رکشہ دوڑانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ویسے اس حوالے سے ہمیں ایک طرح کا اطمینان ہے کہ ٹریفک پولیس انہیں زیادہ پریشان نہیں کرتی کچھ لوگ تو ٹریفک پولیس پر رکشہ ڈرائیوروں کیساتھ مک مکا کا الزام لگاتے ہیں لیکن ہم اس قسم کے الزامات پر یقین نہیں کرتے! ابھی کل کی بات ہے ایک روزنامہ میں ہمارے کسی بھائی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو بہت سے چھوٹے سکیل میں کام کرنے والے ملازمین رشوت لینے کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو تنخواہ ہمیں ملتی ہے اس سے ہمارے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ہر روز چیزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، سکول کی فیس، گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی تو دور کی بات ہے اس تنخواہ میں تو ہمارے لئے پیٹ بھر کر کھانا بھی ممکن نہیں ہے! اگر تھوڑی دیر کیلئے ہم اس بات پر یقین بھی کر لیں تو ہمارے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے یہ تو حکومت کا فرض ہے کہ ان سب مسائل پر گہری نظر رکھے اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی کوشش کرے۔ جب جائز راستے بند ہو جاتے ہیں تو پھر بہت سے ناجائز راستے کھل جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں