Daily Mashriq


پھونک پھونک کر قدم رکھنا بھی کیا کافی ہوگا؟

پھونک پھونک کر قدم رکھنا بھی کیا کافی ہوگا؟

عام انتخابات کے نتائج پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے سخت تحفظات کے باوجود قومی اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب میں کسی بدمزگی کا نہ ہونے کو ملکی سیاست میں سنجیدگی کے عنصر کے در آنے سے اسلئے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کہ ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو حزب اختلاف نے اس کردار وعمل کا مظاہرہ کر کے مثبت پیغام دیا جسے اگر جاری رکھ کر سنجیدگی اور متانت کیساتھ حزب اختلاف اپنا مؤقف سامنے لاتی رہے تو زیادہ موزوں اور مؤثر ہوگا مگر اس کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ سپیکر وڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب ہونے کے بعد اسمبلی کا فلور حزب اختلاف کے قائد کو دیدیا جائے گا تو متوقع قائد حزب اختلاف شہباز شریف تو شاید جذباتی لب ولہجہ نہ اپنائیں پیپلز پارٹی بھی ایسے ہی کرے گی لیکن جے یو آئی (ف) سے اس کی توقع نہیں اور خدشہ ہے کہ یہیں سے روایتی سیاست کی ابتدا ہوگی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں ایسے شعلہ بیاں عقابوں کی کمی نہیں جو موقع ملتے ہی جلتی پر تیل چھڑکنے کے مواقع میں بردباری کا مظاہرہ کریں۔ حزب اختلاف کی کیا متوقع حکمت عملی ہوگی، ایوان کا وزیراعظم کا حلف اُٹھانے کے بعد رویہ کیسا ہوگا سے قطع نظر تحریک انصاف کو اب اپنے سابقہ لب ولہجے کو نوے ڈگری تبدیل کرنا پڑے گا۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد اس کا مظاہرہ بھی نظر آنے لگا ہے۔ تحریک انصاف کے قائد شاید اسلئے بھی میڈیا سے بات چیت سے احتراز کر رہے ہیں کہ زبان پھسلنے کی اب گنجائش نہیں۔ بہرحال حزب اقتدار کی مجبوریاں حزب اختلاف سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہیں۔ حزب اقتدار کے ناقد صرف حزب اختلاف کے اراکین ہی نہیں ہوتے میڈیا اور عوام دونوں ہی تقریباً تقریباً حزب اختلاف کے ہمدرد اور ساتھی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ حزب اقتدار کا دفاع کرنے ان کے ورکرز بھی کم ہی آتے ہیں بلکہ وہ جو آس لگائے ہوتے ہیں جب ان کی اُمیدیں بر نہیں آتیں تو ان کو بھی ایک طرح کی چپ ہی لگ جاتی ہے۔ یہ اقتدار کی بیڑیاں ہی ہیں جن کے پہننے سے قبل ہی بدترین مخالفین سے چہرے پر مصنوعی ہنسی سجائے ہاتھ ملانا پڑگیا ہے۔ تحریک انصاف کو چونکہ قومی اسمبلی میں پہلی بار اکثریت ملی ہے لیکن باقی جماعتیں اقتدار کے ادوار سے کسی نہ کسی طرح گزر چکی ہیں اس لئے تحریک انصاف سے زیادہ ان باقی جماعتوں کی قیادت سے ہی توقع کی جانی چاہئے کہ وہ ایوان کا بہتر ماحول اور ایوان سے باہر بھی صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ تحریک انصاف کی قیادت کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنے پرجوش حامیوں کو لہجہ دھیما رکھنے اور تنقید واعتراضات کا جواب طنز وتشنیع کی بجائے دلیل سے دینے کی سختی سے ہدایت کرنی چاہئے تاکہ کشیدگی کو جتنا ممکن ہو سکے ٹالا جا سکے۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت جس متانت کا مظاہرہ ان دنوں کر رہی ہے اگر اسے برقرار رکھا جا سکا تو کوئی وجہ نہیں کہ کارکن ان کی پیروی نہ کریں چونکہ تحریک انصاف کی قیادت کا گزشتہ دور حکومت اور دوران انتخابات جلسوں میں مؤقف سخت گیر اور غیر لچکدار رہا ہے جس سے اب سراسر انحراف ہی مصلحت ہے۔ اسلئے اس خاص نکتے پر ہونے والی تنقید کو تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہی حکمت کا تقاضا ہے۔ ایک فوری کام تحریک انصاف کی قیادت کو یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا بریگیڈ کی انہوں نے جس نہج پر تربیت کی ہے اب ان کی سوچ اور اظہار خیال کو معقولیت کے دائرے میں لایا جا ناچاہئے۔ اس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کی قیادت کو شاید اس ٹیم میں تبدیلی کی بھی ضرورت پیش آئے۔ ایسا ہونا اسلئے بھی فطری امر ہوگا کہ اب ذرائع ابلاغ خاص طور پر سرکاری ذرائع ابلاغ پر حکومتی عنصر اثرانداز ہوگا جس کے امتزاج اور آمیز ش کے بعد پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم دوسری سطح پر چلی جائے گی ویسے بھی اب اس کی زیادہ ضرورت باقی نہیں رہے گی، اس ضمن میں پی ٹی آئی کو مسلم لیگ (ن) کی وزیراعظم ہاؤس سے سوشل میڈیا ٹیم کی قیادت اور اس سے پیدا شدہ حالات ومعاملات اور اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس سارے معاملے میں اطلاعات منتظیمن کا کردار وعمل جتنا محتاط رہے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ جہاں تک سابق وزیراعظم کیلئے محولہ سوشل میڈیا ٹیم کی موجودگی اور کارکردگی کا تعلق ہے اسٹیبلشمنٹ سے کھیلنے والی اس حکومت میں اس کی گنجائش شاید تھی اسلئے ایک خاص بیانیہ اپنایا جاتا رہا جسے دوران اقتداراور محرومی اقتدار کے بعد جاری رکھا گیا اور یہ ایک مؤثر بیانیہ بن گیا۔ جلد یا بدیر جب ایون فیلڈ کیس کے ملزمان کی ممکنہ ضمانت پر رہائی عمل میں آئے گی تو اسمبلی کے باہر تو یقینا اس بیانئے کا احیاء ہوگا جبکہ ایوان میں بھی اس بیانئے کی جھلک دیکھنا غیر متوقع نہ ہوگا۔ اندریں حالات تحریک انصاف کو مضبوط حزب اختلاف اور جغادری اور بھاری بھر کم سیاسی شخصیات کی ایوان میں موجودگی کا بوجھ سہارنے کیلئے لچک اور متوازن ہوئے بغیر چلنا ممکن نہ ہوگا۔ ایوان میں حکومتی عددی اکثریت بھی اس قدر مضبوط نہیں کہ حزب اختلاف کی قدم قدم پر ضرورت نہ پڑے جبکہ سینیٹ میں صورتحال ہی ناموافق ہے۔ صدر مملکت کے انتخاب کے مرحلے میں تو توازن واضح طور پر دوسری جانب ہے۔

متعلقہ خبریں