Daily Mashriq


پاک فوج کی زبردست قومی خدمت

پاک فوج کی زبردست قومی خدمت

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر پاک فوج کی جانب سے ملک گیر ’’سرسبز وشاداب پاکستان‘‘ مہم کا آغاز ملک میں شجرکاری کی عملی ترغیب اور ملک میں شجرکاری کی معمول کی مہم کو غیرمعمولی بنانے کی سبب بننا فطری امر ہوگا۔ مہم کے تحت 13 اگست کو20 لاکھ پودے لگائے گئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانیوں سے قومی مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ درخت زندگی ہیں، درخت لگائیں زندگی بچائیں۔ قبل ازیں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا ٹوئٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’رواں مون سون سیزن میں پاک فوج کے جوان مجموعی طور پر ایک کروڑ پودے لگائیں گے‘‘ پاک فوج کی کسی بھی مہم میں شرکت اس مہم کی کامیابی عملی طور پر کافی ہونے کے تجربات ایک نہیں کئی ہیں۔ شجرکاری مہم میں پاک فوج کی شرکت سے ملک کے مرکزی مقامات سے لیکر ملک کے سرحدوں کے کونے کونے تک شجرکاری اور جنگلات اُگانے کا عمل یقینی ہونا فطری امر ہے۔ قوم کے محافظوں کو شجرکاری کے بعد پودوں کی نگہداشت اور نشوونما پر بھی توجہ دینے کا مشورہ کچھ زیادہ مناسب نہیں لگتا لیکن بہرحال شجرکاری کے مرحلے کے بعد پودوں کی پوری طرح حفاظت آبیاری اور نگہداشت کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوگا۔ فوجی جوانوں کیساتھ ساتھ فوجی پنشنرز حضرات کو بھی اس نیک کام میں شرکت پر خصوصی توجہ دینی چاہئے زیادہ موزوں یہ ہوگا کہ پاک فوج کی قیادت پنشنروں سے بھی اپیل کر ے کہ وہ بھی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔ پاک فوج کے بعد ایف سی، پولیس، ایف آئی اے، ائیر پورٹ سیکورٹی فورس سمیت دیگر اہم سرکاری اداروں کو بھی اس قومی اہمیت کے حامل مہم میں حصہ لینا چاہئے۔ خاص طور پر پاکستان ریلویز جس کے پاس آرمی کے بعد اراضی اور وافر افرادی قوت دونوں موجود ہیں اسلئے پاکستان ریلویز کے حکام کو ملک بھر میں جہاں جہاں ان کی اراضی موجود ہے وہاں پر شجرکاری کر کے اس قومی مہم کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ صرف پاک فوج اور کسی سرکاری ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے جسے قومی فریضہ سمجھ کر ہر پاکستانی کو کم سے کم ایک پودا لگا کر اس کی حفاظت وآبیاری کا فریضہ نبھاکر اپنے حصے کا فرض نبھانا چاہئے اور پاکستان کو سرسبز وشاداب اور جنگلات سے ڈھکا ملک بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے۔

صوبائی حکومت کا تسلسل بھرپور کامیابیوں کا باعث ہونا چاہئے

خیبر پختونخوا کے متوقع وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے منشور میں عوام سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں فاٹا انضمام سمیت کئی ایک چیلنجز درپیش ہیں تاہم پی ٹی آئی کی حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور امید ہے کہ وہ ان مشکلات سے نکل جائیں گے۔ صوبے کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جائیںگی۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی سابق حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھیں گے۔ تعلیم وصحت کے شعبوں میں اصلاحات کیلئے دو قدم آگے جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی عاطف خان نے بھی اسی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام نے جتنا بھاری مینڈیٹ دیا ہے ذمہ داری بھی اسی قدر بڑھ گئی ہے۔ وفاق اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کی وجہ سے اب کوئی بھی پارٹی رہنما کام نہ کرنے کے بہانے تلاش نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے اور اب اس پر عمل درآمد کا وقت آگیا ہے۔ صوبے اور وفاق میں ایک پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے عین متوقع قائد ایوان اور سینئر قیادت کے عزائم حوصلہ افزاء بھی ہیں اور اس صوبے کے عوام کی ان سے اس سے بھی زیادہ توقعات وابستہ ہیں جس کا ثبوت انتخابات میں ان کو دوتہائی اکثریت دلا کر یکسوئی کیساتھ حکومت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یقینا اس اعتماد کے اظہار کیساتھ عوام اپنے مسائل ومشکلات کا حل بھی انہی سے پہلے سے بڑھ کر توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں، گوکہ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت سے توقعات صحیح طرح پوری نہ ہوئیں لیکن بدعنوانی میں کمی لاکر اور اداروں میں اصلاحی اقدامات کر کے جو مضبوط بنیاد رخصت شدہ حکومت رکھ گئی ہے اس پر ایک مضبوط عمارت کی تعمیر اس حکومت کیلئے زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے تسلسل کی صوبائی حکومت وقت ضائع کئے بغیر عوام کو تبدیلی کا عملی احساس دلائے گی اور مرکز میں درپیش جن مشکلات کے باعث مرکزی حکومت سے عوامی توقعات میں کوئی کسر رہ جائے وہ کمی بھی صوبائی حکومت پوری کرے گی۔

متعلقہ خبریں